BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 22 January, 2009, 09:49 GMT 14:49 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نواز اہلیت کیس، عدالت میں تلخی

نواز شریف اور ان کی جماعت پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے ججوں پر کئی بار عدم اعتماد ظاہر کر چکی ہے
پاکستان مسلم لیگ نواز کے راہنماؤں نواز اور شہباز شریف کی عام انتخابات میں حصہ لینے کے لئے اہلیت کا تعین کرنے والی عدالت نے درخواست گزاروں کا مطالبہ تسلیم کرتے ہوئے سماعت ایک ہفتے کے لئے ملتوی کر دی ہے۔

نواز اور شہباز شریف کی اہلیت کے حق میں دلائل دینے والے وکلا اور اس مقدمے کی سماعت کرنے والے سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ کے درمیان گزشتہ چند روز سے جاری کشیدگی آج اس حد تک پہنچ گئی کہ ایک سینئر وکیل اکرم شیخ نے مقدمے کی قانونی حیثیت پر دلائل دینے سے انکار کر دیا اور دوسرے وکیل اے کے ڈوگر سے عدالت نے کہا کہ اگر انہوں نے عدالت کے بارے میں جارحانہ رویہ ترک نہ کیا تو ان کے خلاف کارروائی کی جائیگی۔

اکرم شیخ حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ کے قائد میاں نواز شریف کے قومی اسمبلی کے حلقے سے تجویز کنندہ جبکہ اے کے ڈوگر تائید کنندہ کے وکیل ہیں۔

آج جب سماعت کا آغاز ہوا تو اے کے ڈوگر سے عدالت نے کہا کہ وہ گیارہ بجے تک دلائل مکمل کرلیں۔ اے کے ڈوگر نے اس فیصلے کی مزاحمت کی تو بنچ میں شامل جسٹس شیخ حاکم نے کہا کہ آپ پانچ روز سے ہمیں متعصب اور بددیانت اور جانے کیا کیا کہ رہے ہیں۔ اب یہ مزید نہیں چلے گا۔

اے کے ڈوگر نے اپنے دلائل میں اپنا وہی مؤقف دہراتے ہوئے کہا کہ اس بنچ میں شامل جج متعصب ہیں اور تعصب انصاف کرنے کی صلاحیت اور ضمیر چھین لیتا ہے۔ لہذا یہ جج صاحبان اس مقدمے کی مزید سماعت کے بجائے اسے واپس چیف جسٹس صاحب کو بھیج دیں۔

اس پر بنچ کے سربراہ جسٹس موسیٰ لغاری نے کہا کہ آپ کے بقول چیف جسٹس نے بھی پی سی او کے تحت حلف لے رکھا ہے تو وہ کیسے نیا بنچ بنا سکتے ہیں۔ اے کے ڈوگر نے کہا یہ فیصلہ کرنا میرا نہیں عدالت کا کام ہے۔

چائے کے وقفے کے بعد جب عدالت نے نواز شریف کے تجویز کنندہ کے وکیل اکرم شیخ سے مقدمے کے قابل سماعت ہونے کے بارے میں قانونی نکات پر بحث کرنے کے لئے کہا تو اکرم شیخ نے عدالت کے سامنے ایک جذباتی تقریر کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایسا کرنے سے قاصر ہیں۔

اکرم شیخ نے جسٹس موسیٰ لغاری کی سربراہی میں تین رکنی بنچ سے کہا کہ وہ غصے کے عالم میں انکی اس درخواست پر فیصلہ نہ کریں جس میں انہوں نے اس بنچ کو تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اکرم شیخ نے کہا کہ آج وہ عدالت کے سامنے دلائل دینے کے لئے تیار ہو کر نہیں آئے کیونکہ فاضل عدالت نے انہیں پورا وقت دینے کا وعدہ کیا تھا جس کے برعکس انہیں اچانک دلائل مکمل کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

اکرم شیخ نے مؤقف اختیار کیا کہ اب جبکہ عدالت جلد بازی میں یہ مقدمہ سن رہی ہے، وہ اس مقدمے کے قابل سماعت ہونے کے بارے میں دلائل نہیں دیں گے اور عدالت کا یکطرفہ فیصلہ سننے کے بعد آئندہ کے لائحمہ عمل کا تعین کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ غصے کی حالت میں فیصلہ کرنا حرام ہے اور وہ معزز ججوں کو جہنم کی آگ سے بچانا چاہتے ہیں۔ اس موقع پر اکرم شیخ اور جسٹس موسیٰ لغاری کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔

اسی بارے میں
شریف برادران کیس، سماعت کل
21 January, 2009 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد