’عدلیہ کو جرنیلوں نے تقسیم کیا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان مسلم لیگ نون کے قائد میاں نواز شریف کے تائید کندہ کے وکیل اے کے ڈوگر نے کہا ہے کہ عدلیہ کو وکلاء نے نہیں بلکہ فوجی جرنیلوں نے منقسم کیا ہے۔ یہ بات اُنہوں نے منگل کے روز سپریم کورٹ میں میاں نواز شریف اور وزیر اعلی پنجاب میاں شہباز شریف کی اہلیت کے بارے میں لارجر بینچ کی تشکیل کے حوالے سے دائر درخواستوں پر دلائل دیتے ہوئے کہی۔ جسٹس موسی کے لغاری کی سربراہی سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے ان درخواستوں کی سماعت کی۔ درخواستوں کی آئندہ سماعت بدھ تک ملتوی کردی گئی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ پہلی مرتبہ سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے 9 مارچ سنہ 2007 کو عدلیہ کو تقسیم کرنے کی کوشش کی جب اُنہوں نے معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے خلاف ریفرنس سپریم جوڈشل کونسل میں بھیجا۔اس کے بعد 3 نومبر سنہ 2007 کو ملک میں ایمرجنسی نافذ کرکے عدلیہ کو تقسیم کرنے کی کوشش کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے 12 اکتوبر سنہ 1999 کو میاں نواز شریف کی دوتہائی اکثریت والی منتخب حکومت کو ختم کر کے اقتدار پر قبضہ کر لیا تھا۔ اے کے ڈوگر نے کہا کہ جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کی طرف سے تین نومبر سنہ دوہزار سات میں ملک میں لگنے والی ایمرجنسی کے بعد اعلی عدالتوں کے ججوں نے اُن کے حکم کے تابع ہوکر پی سی او کے تحت حلف اُٹھایا تھا۔ انہوں نے کہا کہ جس وقت ملک میں ایمرجنسی کا نفاذ کیا گیا تھا اُس وقت آئین کی شق 2 اے مکمل طرح بحال تھی جس میں عدلیہ کی آزادی اور خودمختاری کی بات کی گئی تھی۔ اےکے ڈوگر نے کہا کہ جن ججوں نے پی سی او کے تحت حلف اُٹھایا تھا اس کے بعد انہوں نے آئین بحال ہونے کے بعد دوبارہ حلف اُٹھایا ہے لیکن اس کے باوجود ان ججوں نے اپنے حلف سے روگردانی کی ہے۔ اے کے ڈوگر نے کہا کہ ہر شخص کا بنیادی حق اُس کا پیدائشی حق ہوتا ہے جو حکومت اُس شہری کو دیتی ہے۔ اس سے پہلے میاں نواز شریف کے تجویز کندہ مہر ظفر اقبال کے وکیل اکرم شیخ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ میاں نواز شریف کو نااہل قرار دینا لاہور ہائی کورٹ کے دائرہ اختیار میں نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ عدالت چیف الیکشن کمشنر کے فیصلے کو غلط قرار دے سکتی تھی جنہوں نے میاں نواز شریف کے کاغذات نامزدگی قبول کیے تھے اور اُنہیں انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دی تھی۔ انہوں نے کہا کہ کاغذات پر اعتراضات داخل کروانے کے تاریخ گذرنے کے تین دن بعد قومی اسمبلی کے حلقے 123 سے میاں نواز شریف کے مخالف اُمیدوار نورالہی نے اپنے اعتراضات جمع کروائے تھے جو کہ خلاف قانون ہے۔ اکرم شیخ نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف کوئی بھی شخص سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر سکتا ہے اس لیے ضروری نہیں کہ میاں نواز شریف خود عدالت میں پیش ہوں۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی شخص کسی دوسرے حلقے سے بھی انتخابات میں حصہ لے سکتا ہے لیکن زیادہ اہمیت کسی بھی اُمیدوار کے تجویز کندہ اور تائید کندہ کی ہوتی ہےجن کا تعلق اُسی حلقے سے ہوتا ہے۔ جسٹس موسی کے لغاری نے پنجاب کے ایڈووکیٹ جنرل خواجہ حارث اور اشتر اوصاف سے کہا ہے کہ وہ آئندہ سماعت پر اپنے دلائل دیں۔ سماعت کے بعد سپریم کورٹ کے باہر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے ایک سوال کے جواب میں اکرم شیخ نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری کے ہوتے ہوئے معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی بحالی نظر نہیں آتی۔ | اسی بارے میں مسلم لیگ: بِل پیش کر رہے ہیں27 January, 2009 | پاکستان ’اِسی عدالت کو قبول کرنا ہوگا‘27 January, 2009 | پاکستان بہشتِ مرحوم کی یاد میں27 January, 2009 | پاکستان گجرات: کالج کے طلبہ کا مظاہرہ28 January, 2009 | پاکستان پی پی پی،مسلم لیگ رشتہ نرم28 January, 2009 | پاکستان عدلیہ پر انگلی نہ اٹھنے دیں: وکیل28 January, 2009 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||