BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 23 February, 2009, 11:44 GMT 16:44 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اہلیت کیس میں اٹارنی جنرل طلب

شریف برادران
عام تاثر یہ ہےکہ مقدمہ کا فیصلہ جلد سنایا جاسکتا ہے
صوبہ پنجاب کی حکومتی جماعت مسلم لیگ نواز کے راہنماؤں شہباز اور نواز شریف کی انتخابی اہلیت کی سماعت کرنے والے عدالت عظمی کے تین رکنی بنچ نے اٹارنی جنرل کو عدالت میں طلب کر لیا ہے۔

سوموار کو سماعت ملتوی کرتے ہوئے بنچ کے سربراہ جناب جسٹس موسیٰ کے لغاری نے عدالت میں موجود سرکاری وکلا سے کہا کہ منگل کو اٹارنی جنرل بھی عدالت میں حاضر کریں۔

عدالتی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مقدمہ آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے اور اب جبکہ دونوں جانب سے دلائل تقریباً مکمل ہو چکے ہیں عدالت کسی بھی وقت اس مقدمے پر فیصلہ سنا سکتی ہے۔

تاہم اس بارے میں جب شریف برادران کے مخالف وکیل احمد رضا قصوری سے پوچھا گیا تو انکا کہنا تھا کہ انہیں قطعاً اندازہ نہیں ہے کہ اس مقدمے کا فیصلہ کب تک سنایا جا سکتا ہے۔

عدالت کے سامنے اس مقدمے میں شریف برادران کے مخالف وکیل احمد رضا قصوری کے دلائل پیر کو بھی جاری رہے۔

انکا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف عدالتی فیصلوں، بدعنوانی کے مقدمات اور حکومت پاکستان سے کئے جانے والے جلا وطنی کے معاہدات کی خلاف ورزی کی بنیاد پر پاکستان میں کسی بھی عوامی عہدے کے انتخاب میں حصہ لینے کے اہل نہیں ہیں۔

انہوں نے اس موقعے پر عدالت کے سامنے ایک وڈیو بھی پیش کی جس میں احمد رضا کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب کی وہ پریس کانفرنس دکھائی گئی ہے جس میں وہ مبینہ طور پر عدالت عظمیٰ کے خلاف نازیبا گفتگو کر رہے ہیں۔

عدالت کے استفسار پر وکیل مخالف نے کہا کہ وہ عدالت کے سامنے ان اخباری بیانات کی نقول بھی پیش کریں گے جن سے ثابت ہوتا ہے کہ شہباز اور نواز شریف عدالت کے بارے میں نازیبا زبان استعمال کرتے ہیں۔

واضح رہے کہ چند ہفتے قبل عدالت کے سامنے یہ نکتہ اٹھائے جانے کے باوجود شریف برادران اپنے اس مؤقف سے دستبردار نہیں ہوئے کہ تین نومبر کے بعد حلف اٹھانے والے اعلیٰ عدالت کے جج آئینی نہیں بلکہ’پی سی او ججز‘ ہیں اور یہ کہ وہ ان عدالتوں کی آئینی حیثیت کو تسلیم نہیں کرتے۔

اسی بارے میں
مسلم لیگ: بِل پیش کر رہے ہیں
27 January, 2009 | پاکستان
بہشتِ مرحوم کی یاد میں
27 January, 2009 | پاکستان
پی پی پی،مسلم لیگ رشتہ نرم
28 January, 2009 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد