BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 02 February, 2009, 17:02 GMT 22:02 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’نواز شریف کیساتھ امتیازی سلوک‘

نواز شریف
میاں نواز شریف کے ساتھ امتیازی سلوک اختیار کیا گیا ہے: اکرام شیخ
سپریم کورٹ میں سابق وزیراعظم نواز شریف کے تجویز کنندہ کے وکیل اکرم شیخ نےدلائل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے اپنی سزاء کو عدالت میں چیلنج کر رکھا ہے پھر بھی انھیں انتخاب میں حصہ لینے کی اجازت دی گئی جبکہ نواز شریف کے ساتھ امتیازی سلوک اختتار کیا گیا ہے۔

پیر کو سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے شریف بردارن اہلیت کیس کی سماعت کے لیے لارجر بینچ تشکیل دینے کی درخواست کی سماعت شروع کی تو سابق وزیر اعظم نواز شریف کےتجویز کنندہ مہر ظفر اقبال کے وکیل اکرم شیخ نے دلائل دیتے ہوئے عدالت سے استدعا کی کہ پہلے یہ معلوم کیا جائے کہ شریف برادران کی انتخابی اہلیت کو چیلنج کرنے والے خرم شاہ کے پیچھے کون لوگ ہیں ۔

اکرم شیخ نے کہا کہ خرم شاہ نے لاہور میں قومی اسمبلی کے حلقہ ایک سو تئیس سے میاں نواز شریف کی انتخابی اہلیت چیلنج کیا ہے تاہم خود ان کا تعلق حلقہ ایک سو ستائیس سے ہے ۔

انھوں نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ میاں نواز شریف کے ساتھ امتیازی سلوک اختیار کیا گیا ہے کیونکہ وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی اور مسلم لیگ ن کے سنئیر رہنما مخدوم جاوید ہاشمی کو سزائیں ہوئی لیکن بعد میں صرف ان کی ضمانت ہوئیں، سزاء ختم نہیں کی گئی تھی۔

اکرم شیخ نے کہا کہ وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے نیب کے ریفرنس کو اور جاوید ہاشمی نے اپنے مقدمے کو عدالتوں میں چیلنج کر رکھا تھا تاہم پھر بھی انھیں انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دی گئی لیکن میاں نواز شریف کو اگر سزاء ہوئی تھی تو ایک صدارتی حکم نامے سے ختم بھی ہوگئی تھی لیکن پھر بھی انھیں انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت نہیں دی گئی ہے ۔

اکرم شیخ کے دلائل پر سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کے سربراہ جسٹس شیخ حاکم علی نے کہا کہ اگر میاں نواز شریف کو امتیازی سلوک کی شکایت ہے تو وہ عدالت کے سامنے پیش ہو کر اپنا موقف بیان کر سکتے تھے۔

واضع رہے کہ لاہور ہائی کورٹ میں نواز شریف کی انتخابی اہلیت کو اس بنیاد پر چیلنج کیا گیا تھا کہ نواز شریف طیارہ سازش کیس کے سزایافتہ ہیں اور انہوں نے اس کے خلاف اپیل بھی نہیں کی اس لیے انہیں ضمنی انتخابات کے لیے نااہل قرار دیا جائے۔

احمد رضا قصوری نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ شریف برداران کے وکیل لارجر بینچ کی درخواست پر دلائل دینے کی بجائے انتخابی اہلیت پر دلائل دے رہے ہیں جس سے یہ ثابت ہو گیا ہے کہ انھوں نے کیس کی سماعت کرنے والے
تین رکنی بینچ کو تسلیم کر لیا ہے ۔

درین اثنا ایک غیر سرکاری تنظیم PILDAT نے شریف برادران اہلیت کیس کے ٹرائل کی غیر جانبداری کو جانچنے کے لیے اپنا ایک نمائندہ نامزد کرنے کا اعلان کیا ہے ۔

اسی بارے میں
مسلم لیگ: بِل پیش کر رہے ہیں
27 January, 2009 | پاکستان
بہشتِ مرحوم کی یاد میں
27 January, 2009 | پاکستان
پی پی پی،مسلم لیگ رشتہ نرم
28 January, 2009 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد