BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 20 February, 2009, 11:45 GMT 16:45 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’عدالت کے پاس بہت اختیار ہے‘

نواز شریف
شریف برادران کے مقدمے کا فیصلہ اگلی کچھ سماعتوں میں ہو سکتا ہے
پاکستان مسلم لیگ نون کے قائد میاں نواز شریف اور وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کی اہلیت کےمتعلق درخواستوں کی سماعت کرنے والے سپریم کورٹ کے جج نے کہا ہے کہ عدالت کے اختیارات بڑے وسیع ہیں اور وہ کسی بھی نااہل شخص کو انتخابات میں حصہ لینے سے روک سکتی ہے۔

یہ ریمارکس جسٹس شیخ حاکم علی نے جمعہ کے روز شریف برادران کی اہلیت کے بارے میں دائر درخواستوں کی سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے کہی۔ جسٹس موسی کے لغاری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے ان درخواستوں کی سماعت کی۔

واضح ہے کہ لاہور ہائی کورٹ نے میاں ناوز شریف کو نااہل قرار دیتے ہوئے اُنہیں ضمنی انتخابات میں حصہ لینے سے روک دیا تھا۔

پنجاب اسمبلی کے سپیکر رانا محمد اقبال کے وکیل رضا فاروق نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ میاں شہباز شریف نے پنجاب کے وزیر اعلیٰ کے عہدے کا حلف اُٹھانے کے علاوہ صوبائی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ بھی حاصل کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جن افراد کی درخواست پر جس میں نور الہی اور خرم شاہ شامل ہیں، لاہور ہائی کورٹ نے میاں شہباز شریف کی اہلیت کا معاملہ الیکشن ٹربیونل کو بھیجا ہے وہ نہ تو اُس حقلے کے ووٹر ہیں اور نہ ہی وہ ان انتخابات میں اُمیدوار تھےاس لیے اُنہیں درخواست دینے کا کوئی اختیار نہیں ہے جس پر شیخ حاکم علی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ کرنا عدالت کا کام ہے کہ درخواست گزار لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دینے کا اہل ہے کہ نہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان درخواستوں کی سماعت کے دوران کیس کے میرٹ پر تو دلیلیں تو دی جاتی رہی ہیں کہ شریف برادران کی سزا معاف ہو چکی ہے اور اُن کے خلاف کوئی مقدمہ نہیں ہے لیکن کسی نے یہ نہیں بتایا کہ شریف برادرن کے ذمہ جو قرض تھا وہ انہوں نے ادا کردیا ہے یا نہیں۔

پنجاب کےایڈووکیٹ جنرل خواجہ حارث نے کہا کہ میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف کے ذمہ کوئی قرضہ ہے ہی نہیں تو پھر ادائیگی کیسی۔ جسٹس شیخ حاکم علی نے کہا کہ ان درخواستوں کی سماعت کے دوران بینچ میں شامل ججوں سے کہا گیا کہ جنہوں نے عبوری آئینی حکم نامے کے تحت حلف اُٹھایا ہے وہ ان درخواستوں کی سماعت کرنے کے اہل نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان درخواستوں میں دیئے جانے والے دلائل میں نااہلیت کے بارے میں کوئی بات نہیں کی گئی۔ شیخ حاکم علی نے کہا کہ عدالت یہ فیصلہ کرے گی کہ ان درخواستوں کو الیکشن ٹربیونل میں بھیجا جائے یا لاہور ہائی کورٹ کو واپس بھیج دیا جائے یا پھر اسے ریٹرنگ افسر کے پاس بھیج دیا جائے۔

رضا فاروق نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ چونکہ سپیکر اسمبلی کا محافظ ( کسٹوڈین )ہوتا ہے اور یہ معاملہ اسمبلی کے ایک رکن کے خلاف ہے اس لیے وہ ان درخواستوں میں فریق بنے ہیں۔

بینچ کے سربراہ جسٹس موسی کے لغاری نے ریماکس دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح تو صدر پاکستان بھی عدالت میں آ جائے گا اور کہے گا کہ فلاں اُمیدوار کو نااہل قرار دیا گیا ہے اس لیے وہ بھی ان درخواستوں میں پارٹی بننا چاہتے ہیں اور عدالت کس کس کو سُنے گی۔

عدالت نے ان درخواستوں کی سماعت پیر تک کے لیے ملتوی کردیا۔ خرم شاہ کے وکیل احمد رضا قصوری اپنے دلائل مکمل کریں گے اور اس بات کا امکان ہےکہ عدالت آئندہ سماعت پر ان درخواستوں پر فیصلہ سنا دے گی۔

اسی بارے میں
مسلم لیگ: بِل پیش کر رہے ہیں
27 January, 2009 | پاکستان
بہشتِ مرحوم کی یاد میں
27 January, 2009 | پاکستان
پی پی پی،مسلم لیگ رشتہ نرم
28 January, 2009 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد