BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 07 February, 2009, 02:11 GMT 07:11 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’وزیراعظم بحران حل کرائیں‘

نواز شریف، شہباز شریف
خط میں حکومت سے کہا گیا ہے کہ وہ اٹارنی جنرل کو ہدایت دے کہ وہ عدالت سے اس مقدمے کی سماعت کو ملتوی کرائیں
پاکستان میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے اہم شخصیات نے وزیر اعظم کو ایک مشترکہ خط لکھا ہے جس میں انہیں سابق وزیر اعظم نواز شریف کی اہلیت سے متعلق زیر سماعت مقدمے کی وجہ سے پیدا ہونےوالے بحران کو سیاسی اور آئینی طور پر ختم کرنے کے لیے فوری اقدامات کریں۔

ڈیڑھ درجن کے قریب سابق اعلی سرکاری و فوجی اہلکاروں، مدیروں، ججوں، سفارت کاروں اور غیرسرکاری تنظیموں کے نمائندوں نے اس خط میں وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی سے کہا ہے کہ نواز شریف کی نااہلی کی صورت میں سیاسی قوتوں میں شدید تقسیم کا خدشہ ہے جوکہ ملک میں نوزائیدہ جمہوریت کے لیے خطرہ ثابت ہوسکتا ہے۔

ایک غیرسکاری تنظیم پلڈیٹ کے زیر اہتمام لکھے گئے اس مکتوب پر دی نیشن اخبار کے مدیر عارف نظامی، آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹنٹ جنرل اسد درانی، گیلپ پاکستان کے سربراہ ّاکٹر اعجاز شفیع گیلانی، سابق سیکرٹری خالد عزیز، سیاسی تجزیہ نگار ڈاکٹر حسن عسکری رضوی، سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس (ر) خلیل الرحمان، لاہور ہائی کورٹ کی سابق جج جسٹس ناصرہ جاوید اقبال، معروف وکیل ڈاکٹر پرویز حسن، سابق سفارت کار رستم شاہ مہمند، سابق سینٹر اور وزیر شفقت محمود، سابق گورنر پنجاب شاہد حامد، سابق سیکرٹری خارجہ شمشاد احمد، ڈیلی پاکستان کے مدیر مجیب الرحمان شامی، سابق وزراء جاوید جبار، معین الدین حیدر، لیفٹنٹ جنرل (ر) طلعت مسعود، سابق سیکرٹری داخلہ تسنیم نورانی اور پیلڈیٹ کے سربراہ احمد بلال محبوب شامل ہیں۔

خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ صدر اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے نواز شریف کے خلاف صدر مشرف کے دور میں سنائی جانے والی سزاؤں کو ختم کر دیں۔ ان کے خیال میں اس سے سیاسی کشیدگی میں کمی آئے گی۔

خط میں حکومت سے کہا گیا ہے کہ وہ اٹارنی جنرل کو ہدایت دے کہ وہ عدالت سے اس مقدمے کی سماعت کو ملتوی کرائیں تاکہ مصالحت کے ذریعے اس معاملے کا حل تلاش کیا جاسکے جو عوام کی خواہش ہے۔ وزیر اعظم سے کہا گیا ہے کہ وہ اس سیاسی مسلے کا حل آئین کی حدود کے اندر رہتے ہوئے سیاسی طور پر نکالا جائے تاکہ عدلیہ پر غیرضروری بوجھ نہ ڈالا جائے۔

اس سے قبل پارلیمانی نظام کو مضبوط کرنے کی غرض سے کام کرنے والی پیلڈیٹ نے ڈاکٹر طارق حسن اور بابر ستار کو سپریم کورٹ میں شریف برداران کی اہلیت سے متعلق زیر سماعت مقدمے کے لیے مبصر مقرر کیا تھا۔

مکتوب لکھنے والوں کا موقف تھا کہ قبائلی علاقوں، سوات اور بلوچستان میں شدت پسندی، ہنگو، کرم اور دیاگر علاقوں میں فرقہ ورانہ تشدد اور مہنگائی میں ملک کسی سیاسی بحران کا متقاضی نہیں ہوسکتا ہے۔

اس سے قبل سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں بھی اہم شخصیات کی جانب سے انہیں کئی مرتبہ خطوط لکھے گئے تھے جن میں انہیں مستعفی ہونے کا مشورہ دیا گیا تھا۔ میڈیا کے موجودہ دور میں یہ خطوط عوام تک اپنی رائے پہنچانے کا ایک ذریعہ بن چکا ہے۔

اسی بارے میں
ڈیرہ، ہلاک شدگان کی تعداد 30
06 February, 2009 | پاکستان
نوکری چھوڑنے کی شرط پر رہائی
04 February, 2009 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد