’تحقیقاتی کمیشن جلد بنے گا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے کہا ہے ہے کہ وہ ’بہت جلد‘ پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما اور سابق وزیرِ اعظم بے نظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات کے لیے ایک خودمختار تحقیقاتی کمیشن قائم کریں گے۔ بدھ کو پاکستان کے مختصر دورے آئے ہوئے اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے پاکستانی وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی اور صدر آصف علی زرداری سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔ صدر آصف علی زرداری سے ملاقات کے بعد ایوانِ صدر میں ایک عشائیے سے خطاب کرتے ہوئے بان کی مون نے بتایا کہ انہوں نے بے نظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات کے لیے کمیشن بنانے کے بارے میں پاکستانی حکومت اور سکیورٹی کونسل کے رکن ممالک سے طویل مشاورت کی ہے جس کے بعد ان کا ارادہ ہے کہ وہ بہت جلد ایک خودمختار تحقیقاتی کمیشن بنائیں گے جس کی سربراہی کسی باوقار شخصیت کو دی جائے گی۔ بان کی مون کا کہنا تھا کہ بے نظیر بھٹو کا قتل ایک ایسا جرم تھا جس نے ساری دنیا کو صدمہ پہنچایا ہے اور وہ جانتے ہیں کہ اس قتل کی تحقیقات پاکستانی عوام کے لیے انتہائی اہم ہے۔ اس موقع پر صدرِ پاکستان آصف علی زرداری نے پاکستانی عوام کی جانب سے اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا شکریہ ادا کیا اور یقین دہانی کرائی کہ حکومتِ پاکستان بے نظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات کے لیے ہر ممکن تعاون کرے گی۔ اگرچہ بان کی مون نے اپنے خطاب میں کمیشن کے اراکین کی تعداد پر کوئی بات نہیں کی لیکن صدرِ پاکستان نے اپنے خطاب میں امید ظاہر کی کہ اقوامِ متحدہ کا ’تین‘ رکنی کمیشن جلد اپنی تحقیقات کا آغاز کر دے گا۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ ممبئی حملوں کی تحقیقات میں بھارتی حکومت کے ساتھ مکمل تعاون کرے اور دونوں ممالک مسئلہ کشمیر سمیت تمام معاملات بات چیت سے طے کریں۔ پاکستان کے ایک روزہ دورے کے دوران وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی سے ملاقات کے بعد انہوں نے مشترکہ نیوز بریفنگ میں کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیاں دوستانہ تعلقات نہ صرف دونوں ممالک کے لیے بہتر ہیں بلکہ برصغیر کے امن اور سلامتی کے لیے بھی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت ایک دوسرے کے ساتھ پر امن ہمسایوں کی طرح رہیں اور اس بارے میں بات چیت کا عمل جاری رہنا چاہیے۔ انہوں نے وزیراعظم گیلانی کا چند روز قبل وہ بیان پڑھ کر انہیں خوشی ہوئی کہ پاکستان سے باہر کوئی جرم کرنے والوں کو سزا دینے کے لیے قانون سازی کی جائے گی۔ جس کی وضاحت کرتے ہوئے وزیراعظم گیلانی نے کہا کہ انہوں نے کہا تھا کہ اگر اس بارے میں قانون سازی کی ضرورت پڑی تو وہ بھی کی جائے گی۔ لیکن ان کے مطابق انہیں آج وزیر قانون نے بتایا ہے کہ پاکستان میں پہلے ہی ایسا قانون موجود ہے جس کے تحت اگر کوئی شہری کسی دوسرے ملک میں کسی جرم کا ارتکاب کرے تو اُسے سزا دی جاسکتی ہے۔ وزیراعظم گیلانی نے اپنے ابتدائی کلمات میں کہا کہ اقوام متحدہ کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق مسئلہ کشمیر حل کرانے میں اپنا کردار ادا کرے۔ انہوں نے تجویز دی کہ اقوام متحدہ عالمی اقتصادی بحران سے ترقی پذیر ممالک پر پڑنے والے اثرات کے متعلق کردار ادا کرے اور اس بارے میں ایک خصوصی سربراہی اجلاس بلائے۔ انہوں نے اپنا موقف دوہراتے ہوئے کہا کہ پاکستان کسی کو اپنی سرزمین دہشت گردی کے لیے استعمال کرنے نہیں دے گا۔ سیکریٹری جنرل بان کی مون نے اس کا براہ راست تو کوئی جواب نہیں دیا البتہ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر سمیت تمام مسائل پاکستان اور ہندوستان بات چیت کے ذریعے پر امن طریقے سے حل کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ شدت پسندی اور انتہا پسندی جیسے مسائل کو پوری دنیا کو مل کر نمٹنا ہوگا۔ ان کے بقول یہ ایسے مسائل ہیں کہ کوئی ایک ملک چاہے کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو وہ حل نہیں کرسکتا۔ بان کی مون نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فاٹا باالخصوص سوات سے نقل مکانی کرنے والوں کی امداد کے لیے اپنی اپیل دوہرائی اور کہا کہ اس بارے میں پاکستان سے مکمل تعاون کیا جائے گا۔ سید یوسف رضا گیلانی نے ایک سوال پر کہا کہ ان کی نائب امریکی صدر جوزف بائیڈن سے بات ہوئی ہے کہ امریکی ڈرونز حملے نقصان دہ ہوں گے اور ایسے حملوں سے شدت پسندوں کو حمایت ملتی ہے ۔ ان کے مطابق شدت پسندی سے متاثرہ علاقوں میں ترقیاتی کام کرنے کے لیے انہیں امداد چاہیے اور اس بارے میں جوزف بائیڈن سے کہا ہے کہ ’کیری لوگر بل‘ جلد منظور کرایا جائے۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے امن افواج میں پاکستانی فوج کے کردار کو سراہا اور امید ظاہر کی کہ کوئٹہ سے اغوا ہونے والے ان کے افسر جان سلینکی کو حکومت جلد بازیاب کرائے گی۔ وزیراعظم گیلانی نے انہیں یقین دلایا کہ پاکستان جان سلینکی کی بحفاظت بازیابی کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||