’پاکستان پر نئی امریکی انتظامیہ کو تشویش ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے کہا ہے کہ پاکستان کے بارے میں نئی امریکی انتظامیہ میں خاصی تشویش اور اعتماد کا فقدان پایا جاتا ہے جو آنے والے دنوں میں دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات بہتر بنانے میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔ سابق صدر نے یہ بات بری فوج کے سربراہ کے طور پر انہیں ملنے والی سرکاری رہائشگاہ آرمی ہاؤس میں بی بی سی کے ساتھ خصوصی نشست کے دوران کہی۔ دو گھنٹے کی اس ملاقات میں پرویز مشرف نےاپنے حالیہ دورہ امریکہ کے علاوہ دیگر تمام موضوعات پر ہونے والی گفتگو کو شائع کرنے سے منع کر دیا۔ سابق صدر پاکستان کا کہنا تھا کہ ان کے حالیہ دورہ امریکہ کے دوران موجودہ امریکی انتظامیہ کے بعض اہم افسران ان سے ملاقات کے لیے ان کے ہوٹل میں آئے اور ان میں سے بیشتر نے پاکستان کے بارے میں اپنی گہری تشویش کا اظہار کیا۔
سابق امریکی صدارتی امیدوار اور موجودہ ڈیموکریٹ انتظامیہ میں اہمیت رکھنے والے سینیٹر جان کیری، سینیٹر باب کیسی، پاکستان میں سابق امریکی سفیر وینڈی چیمبرلن سمیت بعض دیگر اہم لوگوں کے حوالے سے سابق صدر پرویز مشرف کا کہنا تھا کہ نئی امریکی انتظامیہ اور موجودہ پاکستانی سیاسی قیادت کے درمیان اعتماد کا رشتہ قائم نہیں ہو سکا جو پاکستان کے لیے تشویش کا باعث ہونا چاہئے۔ سابق صدر نے کہا کہ پاکستان میں توقعات کے برعکس پاکستان اور بالخصوص یہاں جاری دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بارے میں امریکی پالیسی میں کسی نمایاں تبدیلی کا امکان نہیں ہے۔ ’پالیسی میں تبدیلی معروضی حالات میں تبدیلی سے مشروط ہوتی ہے نہ کہ چہروں کی تبدیلی سے۔ اور پاکستان اور اس کے قبائلی علاقوں کی معروضی صورتحال میں حالیہ دنوں میں کوئی بڑی تبدیلی واقعہ نہیں ہوئی۔‘
سابق صدر نے کہا کہ وہ دنیا بھر میں اپنے لیکچرز کے ذریعے پاکستان کے بارے میں پائے جانے والے منفی تاثرات کو ذائل کرنے کی جدوجہد کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس سلسلے میں انہیں امریکہ، یورپ، چین اور دیگر کئی ممالک سے لیکچرز کے درجنوں دعوت نامے موصول ہوئے ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ وہ صرف منتخب ممالک میں ہی لیکچرز دینے جائیں گے اور اس سلسلے میں ان کا اگلا سفر بھارت کا ہو گا۔ پرویز مشرف نے بتایا کہ اگلے ماہ انہیں نئی دہلی میں پاکستان اور خطے کی صورتحال پر لیکچرز کے لیے دعوت نامہ موصول ہوا ہے جسے انہوں نے قبول کر لیا ہے۔ سابق صدر نے کہا کہ افسوس کی بات یہ ہے کہ انہیں اپنے لیکچرز میں پاکستان اور اس کے اداروں کے بارے میں ان شکوک و شبہات کو دور کرنے کے لیے خاصی محنت کرنی پڑتی ہے جو بعض صورتوں میں میڈیا اور بعض حکومتی اہلکاروں نے پھیلائی ہوتی ہیں۔ سابق صدر نے کہا کہ انہوں نے تیسری دنیا کے ممالک میں گورننس کے موضوع پر خاصی تحقیق کے بعد مقالہ تحریر کیا ہے جس کی تشہیر وہ یورپی ممالک میں کر رہے ہیں۔ سابق صدر نے ان خبروں کی تردید کی کہ ایک امریکی تھینک ٹینک نے انہیں امریکہ میں رہائش اور ملازمت کی پیشکش کی ہے۔ ’میں سابق صدر پاکستان ہوں اور میرے پاس اللہ کا دیا اتنا کچھ ہے کہ مجھے کسی ملازمت کی ضرورت نہیں۔‘ |
اسی بارے میں ’تبدیلی کا نعرہ پاکستان کے لیے نہیں‘25 January, 2009 | پاکستان عالمی ذمہ داری پوری ہوگی:گیلانی11 December, 2008 | پاکستان ’باہمی مفادات کی دوستی ہوگی‘19 October, 2008 | پاکستان ’دورے کا کوئی خفیہ ایجنڈا نہیں‘27 March, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||