BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 11 February, 2009, 10:30 GMT 15:30 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اہلیت کیس، لارجر بنچ پر فیصلہ موخر

نواز شریف
شریف برادران چاہتےہیں کہ معاملے کی سماعت پی سی او کےتحت حلف اٹھانےوالے جج نہ کریں
سپریم کورٹ نے پاکستان مسلم لیگ نون کے قائد میاں نواز شریف اور وزیر اعلی پنجاب میاں شہباز شریف کی اہلیت کے بارے میں دائر درخواستوں کی سماعت کے لیے لارجر بنچ کی تشکیل کے حوالے سے مختلف درخواستوں پر فیصلہ موخر کردیا ہے۔

جسٹس موسی کے لغاری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے جب ان درخواستوں کی سماعت شروع کی تو میاں نواز شریف کے تائید کنندہ شکیل بیگ کے وکیل اے کے ڈوگر نے عدالت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ پہلے ان درخواستوں کی سماعت کے لیے لارجر بینچ کی تشکیل کے حوالے سے متفرق درخواستوں پر فیصلہ دے جس کے بارے میں فریقین اپنے دلائل مکمل کرچکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں آنا شہری کا حق ہے اور عدالت کا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ شہری کو انصاف فراہم کرے۔

اس پر بینچ میں شامل جج شیخ حاکم علی نے کہا ہے کہ ججوں کو گالیاں دینا درخواست گذار کے حقوق کے ذمرے میں نہیں آتا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنے دلائل کے دوران عدالت کو بددیانت تک کہتے رہے ہیں۔

اے کے ڈوگر نے کہا کہ اُن کا وکالت میں 35 سالہ تجربہ ہے اور وہ عدالت کی معاونت کرنا چاہتے ہیں اس لیے پہلے متفرق درخواستوں پر فیصلہ آنا چاہیے۔

جس پر شیخ حاکم علی نے کہا کہ وہ اپنا تجربہ اپنے پاس ہی رکھیں اور عدالت شریف برادران اور لارجر بینچ کی تشکیل کے حوالے سے متفرق درخواستوں پر فیصلہ ایک ساتھ ہی سنائے گی۔

بعد ازاں کمرہ عدالت کے باہر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے اے کے ڈوگر نے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ عدالت اُن کاموقف سُنے بغیر ہی ان درخواستوں پر فیصلہ سُنادے گی۔

انہوں نے کہا کہ میاں نواز شریف کے تجویز کنندہ اور تائید کنندہ کے وکلاء نے صرف اس بات پر دلائل دیئے ہیں کہ پی سی او کے تحت حلف اُٹھانے والے جج صاحبان شریف برادران کی اہلیت کے کیس کی سماعت کے اہل نہیں ہیں۔ اس لیے اُن ججوں پر مشتمل سپریم کورٹ کا لارجر بینچ تشکیل دیا جائے جنہوں نے تین نومبر سنہ دوہزار سات کو سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کی طرف سے لگائی جانے والی ایمرجنسی کے بعد پی سی او کے تحت حلف لینے سے انکار کردیا تھا۔

اسی بارے میں
مسلم لیگ: بِل پیش کر رہے ہیں
27 January, 2009 | پاکستان
بہشتِ مرحوم کی یاد میں
27 January, 2009 | پاکستان
پی پی پی،مسلم لیگ رشتہ نرم
28 January, 2009 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد