نواز شریف اور شہباز شریف نااہل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے پاکستان مسلم لیگ نون کے قائد میاں نواز شریف اور وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کی اہلیت کے بارے میں لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے شریف برادران کو نااہل قرار دے دیا ہے۔ اس کے علاوہ میاں شہباز شریف کے بطور وزیر اعلی پنجاب منتخب ہونے کے الیکشن کمیشن کا نوٹیفیکشین بھی منسوخ کردیا ہے۔ سپریم کورٹ نے میاں شہباز شریف کے بطور رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہونے کا نوٹیفکیشن بھی منسوخ کردیا۔ عدالت نے شریف برادران کی اہلیت کے بارے میں دائر تمام درخواستیں مسترد کردیں۔ بدھ کے روز جب ان درخواستوں کی سماعت شروع ہوئی تواٹارنی جنرل سردار لطیف کھوسہ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پنجاب اسمبلی کے سپیکر اور پنجاب حکومت کو میاں شہباز شریف کی اہلیت کے بارے میں سپریم کورٹ میں درخواستیں دائر کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ شریف برادران کی اہلیت کے بارے میں دائر درخواستوں کی سماعت کے لیے لارجر بینچ کی تشکیل کا اختیار صرف سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے پاس ہے۔ سردار لطیف کھوسہ نے کہا کہ کسی جج نے پی سی او کے تحت حلف نہیں اُٹھایا اور تین نومبر سنہ دوہزار سات کو سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کی طرف سے کیے جانے والے اقدامات کے متعلق سپریم کورٹ ٹکا محمد اقبال کی درخواست پر فیصلہ دے چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف کے تجویز کندہ اور تائید کندہ اُس وقت درخواست دائر کر سکتے ہیں جب عدالت اُنہیں اس کی اجازت دے۔ واضح رہے کہ شریف برادران کی اہلیت کے بارے میں لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف وفاق نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ الیکشن میں حصہ لینا میاں نواز شریف کا جمہوری اور بنیادی حق ہے۔ بعدازاں حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون کے درمیان اختلافات کی وجہ سے وفاق نے ان درخواستوں کے متعلق یہ موقف اختیار کیا کہ وہ اس لیے عدالت میں پیش ہو رہے ہیں کیونکہ ان درخواستوں میں اُنہیں فریق بنایا گیا ہے اورعدالت ان درخواستوں پر جو بھی فیصلہ کرے گی وہ وفاق کو منظور ہوگا۔ سماعت کے دوران عدالت نے درخواست دہندہ کے وکیل اکرم شیخ سے کہا کہ وہ دس منٹ کے اندر اگر کوئی دلائل دینا چاہتے ہیں تو دے دیں جس پر اکرم شیخ کا کہنا تھا کہ انہوں نے ابھی ان درخواستوں کی ساعت کے لیے لارجر بینچ کی تشکیل کے حوالے سے دلائل دیئے ہیں جبکہ ان درخواستوں کے قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں کوئی دلائل نہیں دیئے۔ جس پر بینچ کے سربراہ جسٹس موسی کے لغاری کا کہنا تھا کہ عدالت اُنہیں دو ماہ سے زائد عرصے سے سن رہی ہے جس میں انہوں نے ان درخواستوں کے قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں بھی دلائل دیئے ہیں۔ |
اسی بارے میں اہلیت کیس میں اٹارنی جنرل طلب23 February, 2009 | پاکستان ’نااہل قراردلانےکی کوشش نہ کریں‘21 February, 2009 | پاکستان ’عدالت کے پاس بہت اختیار ہے‘20 February, 2009 | پاکستان پنجاب گورنر کی حکومت پر تنقید19 February, 2009 | پاکستان ’عدلیہ کو جرنیلوں نے تقسیم کیا‘10 February, 2009 | پاکستان ’عدالت میں پیش کیوں نہیں ہوتے‘ 17 February, 2009 | پاکستان اہلیت کیس، لارجر بنچ پر فیصلہ موخر11 February, 2009 | پاکستان ’نواز شریف کیساتھ امتیازی سلوک‘02 February, 2009 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||