’فیصلہ آ بیل مجھے مار کے مترادف‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سابق وزیراعظم میاں نواز شریف اور وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کو سپریم کورٹ کی طرف سے نا اہل قرار دینے کے فیصلے کے بارے میں تاحال سامنے آنے والے رد عمل میں کسی بھی حلقے سے خوشی کا اظہار نہیں کیا گیا اور بیشتر مبصرین کہتے ہیں کہ موجودہ حالات میں یہ فیصلہ ’آ بیل مجھے مار‘ کے مترادف ہے۔ صدر آصف علی زرداری نے مفاہمت کی سیاست کا جو سفر شروع کیا تھا اس فیصلے کے بعد بظاہر ایسا لگتا ہے کہ ان کی مفاہمت کی گاڑی ایک ایسی دلدل میں پھنس گئی ہے جس کا آگے بڑھنا مشکل نظر آتا ہے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کی تیکنیکی نوعیت اور اسباب کچھ بھی ہوں لیکن اس فیصلے سے پہلے سے متنازعہ بنی ہوئی سپریم کورٹ مزید متنازعہ بن جائے گی، عدلیہ کی ساکھ کمزور ہوگی اور عدلیہ کو بطور ادارہ ایک بہت بڑا دھچکہ پہنچے گا۔ سپریم کورٹ کے اس فیصلے سے محض دو روز قبل وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف سے ملاقات میں ایک دوسرے کے خلاف اشتعال انگیز بیانات دینے سے گریز کرنے اور پارلیمان کو بالادست بنانے کے لیے مشترکہ کوششوں کا عہد کیا تھا۔ سپریم کورٹ کے اس فیصلے سے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کو بظاہر یہ پیغام ملا ہے کہ ان کی حیثیت ہاتھی کے دکھانے والے دانتوں کی طرح ہے نہ کہ کھانے والے دانتوں کی طرح۔ احسن اقبال سمیت مسلم لیگ (ن) کے بعض رہنماؤں نے الزام لگایا ہے کہ سپریم کورٹ سے شریف برادران کو نا اہل قرار دلوانے کا فیصلہ صدر آصف علی زرداری کے ایما پر ہوا ہے۔ ان کا الزام اپنی جگہ لیکن اگر دیکھا جائے کہ آٹھ ماہ سے جاری اس مقدمے کی سماعت کے بعد صدر کے دورہ چین سے واپسی کے اگلے روز ہی عدالت اعظمیٰ کی طرف سے یہ فیصلہ جاری کرنا مسلم لیگ کے خدشات کو تقویت پہنچاتا ہے۔
حکمران پیپلز پارٹی کے اکثر وزیر عدالت کے فیصلے پر اپنا ردِ عمل ظاہر کرنے سے کتراتے ہیں اور بظاہر ایسا لگتا ہے کہ وہ بھی اس فیصلے پر افسردہ نہیں تو کم از کم ناخوش ضرور ہیں۔ سید خورشید شاہ نے اپنے محتاط رد عمل میں کہا ہے کہ حکومت شریف برادران کو نا اہل قرار دلوانے کی قطعی طور پر خواہاں نہیں تھی۔ اگر پیپلز پارٹی بھی شریف برادران کو نا اہل قرار دلوانے پر خوش نہیں تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر کون سی قوتیں ہیں جنہیں اس کا فائدہ ہوگا؟ اس بارے میں پیپلز پارٹی کے سرکردہ رہنما نے کہا کہ ’اس کا فائدہ سٹیبلشمنٹ اور بالخصوص غیر جمہوری قوتوں کو پہنچے گا جو کبھی نہیں چاہتیں کہ جمہوری قوتوں اور پارلیمان کی بالادستی ہو۔ کیونکہ ایسا ہونا سٹیبلشمنٹ کے مضبوط وجود کے لیے خطرہ ہے‘۔ پیپلز پارٹی کے ایک وزیر سے جب رد عمل چاہا تو انہوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ ’یہ ہماری حکومت کے خلاف بہت بڑی سازش ہے۔ ان سے جب پوچھا کہ اس فیصلے کا وکلا تحریک پر کیا اثر پڑے گا تو انہوں نے اپنے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ’یہ فیصلہ وکلا تحریک کے کمزور گھوڑے میں جان ڈال دے گا اور جلتی پہ تیل ڈالنے کا کام کرے گا‘۔ بعض سیاسی امور کے ماہر یہ بھی کہتے ہیں کہ ہوسکتا ہے کہ آصف علی زرداری یہ سمجھتے ہوں کہ نو مارچ کو وکلاء کے لانگ مارچ اور سولہ مارچ کو اسلام آباد میں ان کے دھرنے کو ناکام بنانے کے لیے پنجاب حکومت کو تبدیل کرنا ضروری ہے اور اس کی خاطر یہ فیصلہ آیا ہو۔ ان کے مطابق بالفرض اگر ایسا کرکے وکیلوں کے لانگ مارچ کو حکومت ناکام بنا بھی لے تو اس کی خاطر ملک میں محاذ آرائی کو ہوا دینا اور عدم استحکام پیدا کرنے کی حکومت کو بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔ اب سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد شہباز شریف وزیراعلیٰ کے عہدے سے ہٹ جائیں گے اور آئین کی شق ایک سو انتیس کے تحت صوبے کا انتظامی اختیار گورنر سنبھالیں گے اور وہ اپنی مرضی کے اعلیٰ افسران تعینات کریں گے اور لانگ مارچ سے نمٹنے کے بعد وہ مسلم لیگ (ق) سے مل کر حکومت بنانے کی کوشش کریں گے۔ لیکن ایسے میں اگر پیپلز پارٹی نے مسلم لیگ (ن) کو دیوار سے لگایا تو پھر اس کا ردِ عمل بھی فطری عمل ہے اور مسلم لیگ (ن) بھی پیپلز پارٹی کی اینٹ سے اینٹ بجانے کی کوشش کرے گی اور اس کا نتیجہ پھر وہی نوے کی دہائی سے مختلف نہیں ہوگا جب ملک کی ان دونوں بڑی جماعتوں نے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے ضمیر، اصولوں، اخلاقیات اور جمہوری روایات کا جنازہ نکال دیا تھا۔ |
اسی بارے میں نواز شریف اور شہباز شریف نااہل25 February, 2009 | پاکستان عوامی حلقے حیران ، کارکنوں کا احتجاج 25 February, 2009 | پاکستان نااہلی کےبعد ہنگامی اجلاس طلب25 February, 2009 | پاکستان پنجاب گورنر کی حکومت پر تنقید19 February, 2009 | پاکستان شہباز شریف،گورنر سندھ کی ملاقات16 February, 2009 | پاکستان ’عدلیہ کو جرنیلوں نے تقسیم کیا‘10 February, 2009 | پاکستان عدلیہ پر انگلی نہ اٹھنے دیں: وکیل28 January, 2009 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||