BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عوامی حلقے حیران ، کارکنوں کا احتجاج

مسلم لیگ کے کارکنوں نے کئی جگہوں پر احتجاج کیا ہے
حزب اختلاف کی جماعت مسلم لیگ (ن) کے راہنماؤں کی سپریم کورٹ میں نااہلی کے فیصلے پر ملک بھر میں عمومی طور پر حیرانی اور تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ مسلم لیگ نے اس فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے اس کی بھرپور مزاحمت کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔

راولپنڈی میں مختلف مقامات پر پارٹی کارکنوں نے احتجاج شروع کر دیا ہے۔ انہوں نے ٹائر جلا کر سڑکیں بلاک کر دی ہیں جبکہ حکومت کے خلاف نعرہ بازی بھی کر رہے ہیں۔

مسلم لیگ کے چیئرمین راجہ ظفر الحق نے اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ انہیں نا تو حکومت اور نہ ہی عدالت سے کسی اچھے فیصلے کی توقع تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ان عدالتوں کو عدالت کہنا بھی مناسب نہیں ہوگا۔ ان کا موقف تھا کے ایسے فیصلوں کی کوئی وقعت نہیں ہوتی ماسوائے اس کے کہ ا سے ملک کی بدنامی ہوتی ہے۔

’ماضی میں ایک آمر نے اپنی عدالتیں قائم کرکے نواز بردارن کو سیاست سے ہٹانے کی کوشش کی لیکن اس سے زیادہ افسوس کی بات یہ ہے کہ اب بھی اسی پالیسی کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔‘

توقع ہے کہ نواز شریف ایک اخباری کانفرنس میں اپنا باضابطہ ردعمل ظاہر کریں گے۔

مسلم لیگ کی سابق اتحادی جماعت عوامی نیشنل پارٹی نے عدالتی فیصلے کا احترام کرنے کا اعلان کیا ہے۔ تاہم جماعت کے ترجمان زاہد خان کا کہنا تھا کہ راہنماؤں کا انتخاب کرنا یا انہیں مسترد کرنے کا کام عوام کا ہے۔

جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد نے جو پہلے ہی موجودہ عدالتوں کے خلاف ہیں کہنا تھا کہ وہ اس فیصلے کو تسلیم نہیں کرتے۔ ’یہ عدالت کو صدر پرویز مشرف کے تین نومبر کے غیرآئینی اقدام کے نتیجے میں سامنے آئی ہے۔ اصل چیف جسٹس افتخار چودھری ہی ہیں۔‘

قاضی حسین کا کہنا تھا کہ واحد راستہ اب یہی رہ گیا ہے کہ تمام قوم وکلاء کے ساتھ لانگ مارچ میں شامل ہو جائے۔

حکمراں جماعت پیپلز پارٹی کے پنجاب میں اہم رہنما قاسم ضیاء کا کہنا تھا کہ یہ ایک عدالت کا فیصلہ ہے پیپلز پارٹی کیا کہہ سکتی ہے۔ ان کے مطابق ایک شخص کی نااہلی سے تمام نظام پٹری سے نہیں اتر سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ منتخب ایوان موجود ہیں اور آئینی طریقے سے پنجاب اسمبلی میں کوئی نیا راہنما چنا جائے گا۔

سابق وفاقی وزیر اور عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد کا کہنا ہے کہ وہ کافی پہلے سے کہتے رہیں ہیں کہ دونوں یعنی پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ کو لڑنا نہیں چاہیے اور کسی کو درمیان میں مصالحت کروانی چاہیے۔ ’اب مسئلہ کافی پیچیدہ ہوگیا ہے۔‘

مسلم لیگ نون کے مرکزی رہنما احسن اقبال کا کہنا ہے کہ جس طرح سابق صدر مشرف نے عدلیہ پر شب خون مارا اسی طرح اس حکومت نے غیرآئینی اور غیرجمہوری طریقے سے پنجاب حکومت پر شب خون مارا ہے۔

’ایسے لاکھ یہ فیصلے لے کر آئیں ہمیں آزاد اور حقیقی جمہوریت کے حصول کے لیئے اپنی جدوجہد سے نہیں روک سکیں گے۔‘

سیاسی راہنماؤں کے مطابق اس فیصلے سے ملک میں سیاسی ہم آہنگی اور مصالحت کی سیاست کو شدید دھچکا پہنچا ہے اور ملک ایک مرتبہ پھر سیاسی کشیدگی کی راہ پر آ گیا ہے۔

شہباز شریفشہباز شریف
خاندانی کاروبار سے کاروبارِ سیاست تک
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد