BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 25 February, 2009, 09:20 GMT 14:20 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نااہلی کےبعد ہنگامی اجلاس طلب

پارٹی قائدین اجلاس کے لیے پہنچنا شروع ہو گئے ہیں
پاکستان مسلم لیگ نون کے سربراہ میاں نواز شریف نے اپنے رائے ونڈ فارم ہاؤس میں پارٹی کے سینئر رہنماؤں کا ہنگامی اجلاس طلب کرلیا ہے۔

مسلم لیگ نون کے صدر اور وزیراعلی پنجاب روزمرہ کے کام چھوڑ کر ایوان وزیراعلی سے رائے ونڈ روانہ ہوگئے ہیں۔ پارٹی کے دیگر رہنما بھی ہنگامی اجلاس میں شرکت کے لیےپہنچنا شروع ہوگئے ہیں۔

ادھر گورنر ہاؤس میں پیپلز پارٹی کے تعینات کردہ گورنر پنجاب سلمان تاثیر نے بھی آئینی امور کا جائزہ لینا شروع کردیا ہے۔آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ ان حالات میں گورنر کا عہدہ اہم ترین ہوگیا ہے۔

شہباز شریف کو اگر وزارت اعلی سے ہٹایا جاتا ہے تو گورنر پنجاب ہی کسی بھی جماعت کو نئی حکومت بنانے اور اپنی اکثریت ثابت کرنے کی دعوت دے سکتے ہیں۔ آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ وزیراعلی کے ساتھ ہی پنجاب کابینہ بھی تحلیل ہوجائے گی۔

پنجاب میں مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی کی مخلوط حکومت ہے اور یہی دونوں جماعتیں مسلم لیگ قاف سے اتحاد کرکے نئی مخلوط حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہیں۔

اس فیصلے کے ساتھ ہی پنجاب میں تینوں سیاسی جماعتوں میں بھی رابطے شروع ہو گئے ہیں۔

وزیر اعلی شہباز شریف کے ترجمان اور نامزد سینیٹرپرویز رشید نے لاہور میں ایک ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پنجاب حکومت آسانی سے کسی کے حوالے نہیں کی جائے گی اور ہر سطح پر مزاحمت اور مقابلہ کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ہڑتال کے لیے عوام کو کال دینے کی ضرورت نہیں ہے وہ پہلے ہی سڑکوں پر نکل آئے ہیں اور اپنا فرض پورا کر رہے ہیں۔

ادھر سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد لاہور سمیت پنجاب کے مختلف شہروں میں چھوٹے بڑے احتجاجی مظاہروں کی اطلاع بھی ملی ہے۔

پنجاب اسمبلی کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا ہے جس سے مال روڈ پر ٹریفک بلاک ہوگئی ہے۔

گوجرانوالہ میں ڈسٹرکٹ بار میں ہڑتال کی گئی جبکہ لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے دو روزہ ہڑتال کااعلان کیا ہے۔

مسلم لیگی رہنماؤں نے اس فیصلے پر شدید ردعمل ظاہرکیا ہے۔ مسلم لیگ نون کے ترجمان احسن اقبال نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فیصلہ ایوان صدر سے لکھ کر آیا ہے اور اس کی ذمہ داری پی سی او عدلیہ پر ہے۔ انہوں نے کہا ہے اب ہمارے پاس تمام آپشن کھلے ہیں پارلیمان کے اندر اور باہر ہر جگہ احتجاج کیا جائے گا۔

مسلم لیگ قاف کے سربراہ اور سابق وزیراعلی پنجاب چودھری پرویز الہی نے کہا ہے کہ یہ سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے جسے وہ تسلیم کرتے ہیں اور عدالتی فیصلے پر کوئی رائے زنی نہیں کرنا چاہتے۔ مسلم لیگ یا پیپلز پارٹی سے اتحاد کے بارے میں انہوں نے سوال کا جواب نہیں دیا اور کہا کہ ابھی وہ معاملات کا جائزہ لے رہےہیں۔ مسلم لیگ قاف کے صدر چودھری شجاعت حسین نے کہا کہ کسی کوخوش ہونے کی ضرورت نہیں ہے اور ان کا تبصرہ ابھی قبل از وقت ہوگا۔

بیرسٹر اعتزاز احسن نے اپنے تبصرے میں کہا ہے کہ لگتا ہے کہ ایک ایسی حکومت لانے کی کوشش ہے جو وکلاء کی لانگ مارچ میں رکاوٹ ڈالے۔ان کا کہنا ہے کہ اب پنجاب میں سیاسی عدم استحکام ہوگا۔

امیر جماعت اسلامی قاضی حسین احمد نے کہا کہ فیصلہ سنانے والی سپریم کورٹ غیر دستوری اقدام کے نتیجے میں وجود میں آئی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد