پی ایم ایل این کی تنظیم نو منظور | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سربراہ نواز شریف نے اپنی جماعت کی تنظیم نو کے ایک بڑے منصوبے کی منظوری دی ہے جسے پارٹی کے بعض راہنما غیر روایتی اور تاریخی قرار دے رہے ہیں۔ سنیچر کو رائے ونڈ میں پارٹی کے کارکنوں کے کنونشن سے خطاب سے قبل جس کے دوران بعض مبصرین کے مطابق سابق وزیراعظم نے صدر مملکت آصف علی زرداری کے خلاف ’اعلان جنگ کیا، نواز شریف نے پارٹی کے ایک اعلٰی سطح کے اجلاس کی صدارت کی جس میں پارٹی کی رکینت سازی اور تنظیم نو کے منصوبے کی منظوری دی گئی۔ پارٹی کی تنظیم نو کے اس منصوبے کے خالق سرتاج عزیز کا کہنا ہے کہ تنظیم سازی کی سب سے اہم بات بنیادی (پرائمری) سطح پر جماعت کو منظم کرنا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تئیس مارچ سے شروع ہونے والی تنظیم سازی کے اس منصوبے کو چودہ اگست تک دو مراحل میں مکمل کیا جائے گا۔ مسلم لیگی راہنماؤں کا کہنا ہے کہ اس سے پہلے اس جماعت میں اتنے بڑے پیمانے پر تنظیم سازی نہیں کی گئی ہے۔ اس بارے میں پارٹی کے سابق سیکرٹری جنرل سرتاج عزیز نے کہا کہ’اب تک مسلم لیگ میں جو تنظیم سازی کی گئی ہے وہ بنیادی طور پر پارٹی قیادت کی جانب سے عہدیداروں کی نامزدگی تک ہی محدود رہی ہے‘۔ پارٹی کے سیکرٹری اطلاعات احسن اقبال کے مطابق اس تنظیم سازی کے ذریعے مسلم لیگ اپنی حریف سیاسی جماعتوں، مسلم لیگ (ق) اور پاکستان پیپلز پارٹی کی مقبولیت میں ہونے والی مبینہ کمی کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے رکن سازی کی مہم بھی شروع کرے گی۔ ایک ماہ قبل امریکی ادارے انٹرنیشنل ریپبلیکن انسٹی ٹیوٹ کے سروے میں بتایا گیا تھا کہ اکہتر فیصد پاکستانی پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہیں۔ اس نوعیت کے جولائی میں کئے گئے سروے نے نواز شریف کی جماعت کو ملک کی مقبول ترین سیاسی جماعت قرار دیا تھا۔ احسن اقبال نے بتایا کہ ان اور اس نوعیت کے دیگر عوامی رائے جانچنے کے طریقوں کو استعمال کرنے کے بعد انہوں نے پارٹی قیادت کو جماعت کی تنظیم نو کا منصوبہ پیش کیا تھا جسے منظور کر لیا گیا ہے۔
احسن اقبال اس کمیٹی کے سربراہ ہیں جسے پارٹی تنظیم نو کا منصوبہ تیار کرنے کا کام سونپا گیا تھا جبکہ تنظیم سازی کی ذمہ داری سرتاج عزیز کی زیرسربراہی گیارہ رکنی بورڈ کو سونپی گئی تھی۔ سرتاج عزیز نے بتایا کہ رکنیت سازی کو کمپیوٹرائزڈ کرنے اور اسکے لئے انٹرنیٹ کو استعمال کرنے کے لئے سافٹ وئیر بھی تیار کر لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کا رکن بننے کے خواہشمندوں کو پارٹی کے دفتر جانے یا کسی راہنما سے رابطے کی ضرورت نہیں ہو گی۔ انہوں نے بتایا کہ پارٹی کا سب سے بنیادی یونٹ (پرائمری) پچاس ارکان پر مشتمل ہو گا جو مرحلہ وار یونین کونسل، تحصیل، ضلعے اور صوبائی سطح کے لئے پارٹی عہدیداروں کا انتخاب عمل میں لائیں گے۔ ’اس سے پہلے یہ سب بالکل الٹ ہوتا تھا۔ یعنی اوپر کی سطح سے نمائندگیاں ہوتی تھیں یوں مسلم لیگ کبھی بھی جمہوری پارٹی نہیں تھی‘۔ سرتاج عزیز نے کہا کہ انکی سربراہی میں بننے والے بورڈ نے مسلم لیگ کو درپیش چیلنجز کا بھی جائزہ لیا اور تین ایسے نکات سامنے لائے گئے ہیں جن پر پارٹی قیادت فوری توجہ دیگی۔ ان میں سے ایک، سرتاج عزیز کے بقول پارٹی کا ’روایتی‘ چہرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’مسلم لیگ اب پاکستان کے ترقی پسند اور جمہوری عوام میں بھی یکساں مقبول ہے لیکن اس کا تاثر ابھی تک روایتی ہے، جسے تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے‘۔
پارٹی راہنما کا کہنا تھا کہ صوبہ پنجاب کے علاوہ دیگر صوبوں میں بھی پارٹی قیادت خاصی مقبول ہے لیکن حالیہ انتخابات کے نتائج اس کے برعکس تاثر دیتے ہیں، اور اس صورتحال کو درست کرنا دوسرا بڑا چیلنج ہے۔ اس تنظیم سازی کے لئے تحقیق کرنے والی کمیٹی کے سربراہ احسن اقبال کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کی تیاری کے لئے انہوں نے دنیا کی مختلف سیاسی جماعتوں کے تنظیمی ڈھانچوں کا مطالعہ کیا لیکن برطانوی سیاسی جماعتوں کے نظام نے انہیں سب سے زیادہ متاثر کیا۔ | اسی بارے میں پی پی پی،مسلم لیگ رشتہ نرم28 January, 2009 | پاکستان اسمبلی:مسلم لیگ نون کا واک آؤٹ19 November, 2008 | پاکستان بریفنگ: مسلم لیگ کا عدم اطمینان09 October, 2008 | پاکستان ڈٹ کر مقابلہ کریں گے: مسلم لیگ ق11 August, 2008 | پاکستان مسلم لیگ نون کی کابینہ میں واپسی08 August, 2008 | پاکستان شیخ رشید کی عوامی مسلم لیگ 01 June, 2008 | پاکستان ’امریکہ مشرف کی حمایت نہ کرے‘22 February, 2008 | پاکستان مسلم لیگ منشور: ججز کی بحالی 14 December, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||