اسمبلی:مسلم لیگ نون کا واک آؤٹ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
قومی اسمبلی میں بدھ کے روز قانون سازی اور دیگر کارروائی کے دوران پاکستان پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ق) اور متحدہ قومی موومنٹ کے درمیان اتحاد دیکھنے میں آیا جب یہ تینوں جماعتیں ایوان کی کارروائی چلانے کے بارے میں مسلم لیگ نواز کے موقف کے خلاف یکجان ہو گئیں جس پر حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت نے ایوان سے واک آؤٹ کیا۔ یہ تنازعہ اس وقت کھڑا ہوا جب مسلم لیگ نواز نے صنعتی مزدوروں کے حقوق محفوظ بنانے کے بل میں چند ترامیم تجویز کیں۔ پیپلز پارٹی نے انہیں بل کا حصہ بنانے سے انکار کیا اور مسلم لیگ (ق) اور متحدہ قومی موومنٹ کے تعاون سے اس بل کو منظور کروانے میں کامیاب رہی۔ مسلم لیگ نواز کے ارکان نے اسے ’بلڈوزنگ’ قرار دیتے ہوئے ایوان سے واک آؤٹ کیا۔ قومی صنعتی تعلقات کمیشن بل دو ہزار آٹھ اس قانون کی جگہ لے گا جو سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں نجی اور سرکاری اداروں میں یونین سازی اور مزدوروں کی آزادی پر دیگر مبینہ قدغنیں لگانے کے لیے منظور کیا گیا تھا۔ اسی طرح ایک اور موقع پر مسلم لیگ (ق) کے رکن رضا حیات ہراج کے حلقے میں ہونے والے ایک واقعہ کی تحقیقات کے لیے ارکان کی کمیٹی بنانے کے مطالبے کو پیپلز پارٹی کے وزرا نے مسلم لیگ (ن) کے اعتراض کے باوجود تسلیم کر لیا اور اس بار بھی سابق اور موجودہ حکمران جماعتوں کے درمیان بے مثال یکجہتی دیکھنے میں آئی۔ کپاس کی غیر قانونی کاشت انہوں نے کہا کہ اس غیر منظور شدہ بیج کی کاشت سے کپاس کی فصل کسی بھی وقت شدید نقصان سے دوچار ہو سکتی ہے کیونکہ پاکستانی ماحول میں اس بیج کی کارکردگی کے بارے میں کوئی سائنسی شواہد نہیں ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ چونکہ یہ بیج بھارت اور چین سے سمگل کر کے پاکستان میں لایا جا رہا ہے لہذا اس کے ساتھ کس قسم کی بیماری یا بیکٹیریا پاکستان آ رہا ہے، اس بارے میں بھی کاشتکار یا حکومت کو کوئی علم نہیں ہے۔ وفاقی وزیر نے کاشتکاروں پر زور دیا کہ وہ صرف منظور شدہ بیج ہی کاشت کریں تاکہ کپاس کی فصل کو کسی ناگہانی آفت سے محفوظ رکھا جا سکے۔ ڈینگی بخار، ایڈز اور ہیپاٹائٹس قبل ازیں وقفہ سوالات میں وزیر صحت نے کہا کہ ملک میں ایڈز کے مریضوں کی کل تعداد چھ سو پچہتر ہے جس میں ایک سو انہتر خواتین شامل ہیں جبکہ ایچ آئی وی کے حامل افراد کی تعداد اٹھارہ سو ہے۔ وفاقی وزیر نے بتایا کہ ایڈز کنٹرول پروگرام کے تحت ایڈز کے مریضوں کا مفت علاج کیا جا رہا ہے۔ وزیر صحت نے بتایا کہ گزشتہ تین برسوں کے دوران ملک میں ہیپاٹائٹس کے مریضوں کی تعداد میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اس بارے میں واضح اعداد وشمار دستیاب نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس مرض کے علاج کے لئے بھی مفت ادویات فراہم کر رہی ہے۔ |
اسی بارے میں فارورڈ بلاک کی اجازت نہیں: گورنر26 August, 2008 | پاکستان ان کیمرہ بریفنگ کی تیاریاں07 October, 2008 | پاکستان حزب اختلاف شمولیت، اچھا شگون20 September, 2008 | پاکستان نئی اسمبلی کا پہلا اجلاس، سپیکر منتخب19 March, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||