BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 19 November, 2008, 13:25 GMT 18:25 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اسمبلی:مسلم لیگ نون کا واک آؤٹ

فائل فوٹو
بدھ کو اسمبلی کے اجلاس میں یہ تنازعہ صنعتی مزدوروں کے حقوق محفوظ بنانے کے بل میں ترامیم پر ہوا
قومی اسمبلی میں بدھ کے روز قانون سازی اور دیگر کارروائی کے دوران پاکستان پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ق) اور متحدہ قومی موومنٹ کے درمیان اتحاد دیکھنے میں آیا جب یہ تینوں جماعتیں ایوان کی کارروائی چلانے کے بارے میں مسلم لیگ نواز کے موقف کے خلاف یکجان ہو گئیں جس پر حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت نے ایوان سے واک آؤٹ کیا۔

یہ تنازعہ اس وقت کھڑا ہوا جب مسلم لیگ نواز نے صنعتی مزدوروں کے حقوق محفوظ بنانے کے بل میں چند ترامیم تجویز کیں۔ پیپلز پارٹی نے انہیں بل کا حصہ بنانے سے انکار کیا اور مسلم لیگ (ق) اور متحدہ قومی موومنٹ کے تعاون سے اس بل کو منظور کروانے میں کامیاب رہی۔

مسلم لیگ نواز کے ارکان نے اسے ’بلڈوزنگ’ قرار دیتے ہوئے ایوان سے واک آؤٹ کیا۔

قومی صنعتی تعلقات کمیشن بل دو ہزار آٹھ اس قانون کی جگہ لے گا جو سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں نجی اور سرکاری اداروں میں یونین سازی اور مزدوروں کی آزادی پر دیگر مبینہ قدغنیں لگانے کے لیے منظور کیا گیا تھا۔

اسی طرح ایک اور موقع پر مسلم لیگ (ق) کے رکن رضا حیات ہراج کے حلقے میں ہونے والے ایک واقعہ کی تحقیقات کے لیے ارکان کی کمیٹی بنانے کے مطالبے کو پیپلز پارٹی کے وزرا نے مسلم لیگ (ن) کے اعتراض کے باوجود تسلیم کر لیا اور اس بار بھی سابق اور موجودہ حکمران جماعتوں کے درمیان بے مثال یکجہتی دیکھنے میں آئی۔

کپاس کی غیر قانونی کاشت
اس سے پہلے وقفہ سوالات کے دوران خوراک و زراعت کے وفاقی وزیر نذر محمد گوندل نے ایوان کو بتایا کہ ملک میں غیر قانونی طور پر درآمد شدہ کپاس کا بی ٹی بیج (جینیاتی تغیر سے بننے والے بیج) تیزی سے فروغ پا رہا ہے اور گزشتہ برس کُل کاشت شدہ کپاس کے چالیس فیصد میں یہی بیج استعمال کیا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ اس غیر منظور شدہ بیج کی کاشت سے کپاس کی فصل کسی بھی وقت شدید نقصان سے دوچار ہو سکتی ہے کیونکہ پاکستانی ماحول میں اس بیج کی کارکردگی کے بارے میں کوئی سائنسی شواہد نہیں ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ چونکہ یہ بیج بھارت اور چین سے سمگل کر کے پاکستان میں لایا جا رہا ہے لہذا اس کے ساتھ کس قسم کی بیماری یا بیکٹیریا پاکستان آ رہا ہے، اس بارے میں بھی کاشتکار یا حکومت کو کوئی علم نہیں ہے۔

وفاقی وزیر نے کاشتکاروں پر زور دیا کہ وہ صرف منظور شدہ بیج ہی کاشت کریں تاکہ کپاس کی فصل کو کسی ناگہانی آفت سے محفوظ رکھا جا سکے۔

ڈینگی بخار، ایڈز اور ہیپاٹائٹس
وفاقی وزیر صحت میر اعجاز جکھرانی نے ایک توجہ دلاؤ نوٹس پر ایوان کو بتایا کہ گزشتہ ایک برس میں ڈینگی بخار کے مریضوں کی تعداد میں خاطر خواہ کمی واقع ہوئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پچھلے سال چھ ہزار افراد اس وائرس سے متاثر ہوئے تھے جبکہ اس سال ان مریضوں کی تعداد دو ہزار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈینگی سے بچاؤ کی ویکسین ابھی ایجاد نہیں ہوئی اور اس سے بچاؤ کا واحد طریقہ مچھروں سے محفوظ رہنا ہے۔

قبل ازیں وقفہ سوالات میں وزیر صحت نے کہا کہ ملک میں ایڈز کے مریضوں کی کل تعداد چھ سو پچہتر ہے جس میں ایک سو انہتر خواتین شامل ہیں جبکہ ایچ آئی وی کے حامل افراد کی تعداد اٹھارہ سو ہے۔ وفاقی وزیر نے بتایا کہ ایڈز کنٹرول پروگرام کے تحت ایڈز کے مریضوں کا مفت علاج کیا جا رہا ہے۔

وزیر صحت نے بتایا کہ گزشتہ تین برسوں کے دوران ملک میں ہیپاٹائٹس کے مریضوں کی تعداد میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اس بارے میں واضح اعداد وشمار دستیاب نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس مرض کے علاج کے لئے بھی مفت ادویات فراہم کر رہی ہے۔

پبلک اکاونٹس کمیٹی
اس کی سربراہی حزب اختلاف کو دی گئی ہے۔
مسلم لیگ (ق) میں شدید اختلافاتقومی اسمبلی اجلاس
مسلم لیگ (ق) میں شدید اختلافات
اسی بارے میں
ان کیمرہ بریفنگ کی تیاریاں
07 October, 2008 | پاکستان
حزب اختلاف شمولیت، اچھا شگون
20 September, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد