BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 17 April, 2008, 17:21 GMT 22:21 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مسلم لیگ (ق) میں شدید اختلافات

کشمالہ طارق
فیصل صالح حیات اور کشمالہ طارق میں بدکلامی ہوئی
جمعرات کی شام کو منعقد قومی اسمبلی کے اجلاس میں جہاں اپوزیشن کی جماعت مسلم لیگ (ق) کے اراکین نے انتقامی کارروائیوں کے خلاف احتجاج کیا وہاں اپوزیشن کی اس بڑی جماعت میں شدید اختلافات اور فارورڈ بلاک کا ذکر بھی بڑے زور شور سے سننے کو ملا۔

قومی اسمبلی کے اجلاس سے پہلے حکومتی اتحاد کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس تو نہیں ہو سکا لیکن اپوزیشن کی جماعتوں مسلم لیگ (ق) اور متحدہ قومی موومینٹ کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا۔

اپوزیشن جماعتوں کے پارلیمانی لیڈر فیصل صالح حیات کی زیر صدارت جاری اجلاس میں اس وقت بدمزگی اور افرا تفری پھیلی جب مسلم لیگ (ق) کی کشمالہ طارق نے فیصل صالح حیات کی حیثیت کو چیلینج کیا۔ اُس پر فیصل صالح حیات اور کشمالہ طارق میں بدکلامی ہوئی اور وہ اپنے چند حامیوں سمیت احتجاج کرتے ہوئے اجلاس سے واک آؤٹ کر کے باہر آئیں۔

بعد میں انہوں نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے جہاں فیصل صالح حیات کو تنقید کا نشانہ بنایا وہاں اپنی جماعت کے سیکرٹری جنرل مشاہد حسین کو بھی نہیں بخشا۔ انہوں نے کہا کہ فیصل صالح حیات کو پارلیمانی لیڈر بناتے وقت کسی سے مشاورت نہیں کی گئی اور انہی اس بارے میں تحفظات ہیں۔

انہوں نے مشاہد حسین کے بارے میں کہا کہ وہ پارٹی کے اجلاسوں میں نہیں آتے اور ہمیشہ ایسے بیانات دیتے ہیں جو پارٹی پالیسی کے خلاف ہوتے ہیں۔ کشمالہ طارق کے ہمراہ ریاض فتیانہ، نصراللہ بجارانی اور دیگر ارکان بھی تھے۔

 کشمالا طارق نے مشاہد حسین کے بارے میں کہا کہ وہ پارٹی کے اجلاسوں میں نہیں آتے اور ہمیشہ ایسے بیانات دیتے ہیں جو پارٹی پالیسی کے خلاف ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے ہم خیال دو درجن سے زیادہ مسلم لیگ (ق) کے اراکین نے قومی اسمبلی میں فارورڈ بلاک بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان کے ہم خیال دو درجن سے زیادہ مسلم لیگ (ق) کے اراکین نے قومی اسمبلی میں فارورڈ بلاک بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس بارے میں مسلم لیگ (ق) کے سربراہ چودھری شجاعت حسین کے بھائی وجاہت حسین نے کہا کہ پارٹی امور کے بارے میں ان کے حامیوں میں اختلافات ان کی جماعت کا اندرونی معاملہ ہے اور یہ بہت جلد ختم ہو جائیں گے۔

کچھ دیر بعد جب قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہوا تو وقفہ سوالات کے دوران صوبہ سرحد کے زلزلہ زدہ علاقوں سے منتخب مسلم لیگ (ن) کے سردار مہتاب عباسی، عبدالمجید خان اور دیگر نے متعدد افراد کو تاحال مکان بنانے کے لیے امداد نہ ملنے کی شکایات کیں اور سابقہ حکومت پر کروڑوں روپے کی خرد برد کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے زلزلہ متاثرین کے فنڈز میں مبینہ بدعنوانیوں کی جانچ کا مطالبہ بھی کیا۔

جس پر وزیر قانون نے کہا کہ انہیں کوئی اعتراض نہیں ہے کہ ایوان کی کمیٹی تحقیقات کرے اور عوام کو بتائے کہ مصیبت زدہ افراد کی امداد جس میں کئی لوگوں نے اپنی تنخواہیں اور زیورات بھی دئیے، ان فنڈز میں کس نے کیا گھپلا کیا۔

ڈپٹی سپیکر فیصل کریم کنڈی نے جو اجلاس کی صدارت کر رہے تھے، نے معاملہ چھان بین کے لیے قومی اسمبلی کی متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کرنے کا حکم دیا۔

بعد میں نکتہ اعتراضات پر بات کرتے ہوئے مسلم لیگ (ق) کے رہنما سید فیصل صالح حیات، ریاض حسین پیرزادہ اور غلام حیدر سمیجو نے حکومت پر الزام لگایا کہ ان کی جماعت کے کارکنوں کے خلاف صوبہ سندھ کی حکومت نے انتقامی کارروائیاں شروع کر دی ہیں اور درجنوں افراد کے خلاف مقدمات درج کر لیے ہیں۔

انہوں نے وزیراعظم کو مخاطب کرتے ہوئے مقدمات واپس لینے کی درخواست بھی کی اور کہا کہ چند روز پہلے تک مفاہمت کی باتیں کرنے والی حکومت انتقام کے راستے پر چلنے سے گریز کرے۔

 مسلم لیگ (ق) کے رہنما سید فیصل صالح حیات، ریاض حسین پیرزادہ اور غلام حیدر سمیجو نے حکومت پر الزام لگایا کہ ان کی جماعت کے کارکنوں کے خلاف صوبہ سندھ کی حکومت نے انتقامی کارروائیاں شروع کر دی ہیں اور درجنوں افراد کے خلاف مقدمات درج کر لیے ہیں۔
ان کے اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے حزب مخالف کو یقین دلایا کہ حکومت کسی کے خلاف بھی انتقامی کارروائی نہیں کرے گی اور حزب مخالف کے تحفظات جلد دور کیے جائیں گے۔

وزیراعظم نے کہا کہ اگر پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز اکٹھے چل سکتے ہیں تو اپوزیشن کو بھی ساتھ لے کر چلا جا سکتا ہے۔ انہوں نے اپوزیشن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ان کے حامیوں کے خلاف مقدمات کی جو نشاندہی کی گئی ہے اس بارے میں انہوں نے اپنے مشیر داخلہ رحمٰن ملک سے کہا ہے کہ وہ چھان بین کر کے اپوزیشن کو اعتماد میں لیں۔

قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران ایک موقع پر کراچی سے پیپلز پارٹی کے منتخب رکن اسمبلی قادر پٹیل نے نکتہ اعتراض پر کہا کہ اٹھارہ فروری کو عام انتخابات کے موقع پر کراچی کے مختلف حلقوں سے ان کی جماعت کے ایجنٹوں کو اغوا کر کے تشدد کا نشانہ بنانے والوں کے خلاف بھی کارروائی کی جائے۔

انہوں نے ایم کیو ایم کا نام لیے بغیر اپنی حکومت سے استدعا کی کہ کراچی کے عوام کی شہری جاگیرداروں سے جان چھڑائی جائے۔

جس کے جواب میں وزیراعظم کے مشیر برائے داخلہ رحمٰن ملک نے قدرے سخت لہجے میں کہا کہ جس کسی کے خلاف بھی مقدمات درج ہیں ان کے خلاف حکومت سخت کارروائی کرے گی۔

انہوں نے ایوان کو بتایا کہ حال ہی میں کراچی میں قیام کے دوران انہوں نے بلوچ قوم پرست رہنما سردار عطاء اللہ مینگل سے ملاقات کر کے بلوچستان کی صورتحال پر بات چیت کی۔ ان کے بقول مینگل نے ان سے کہا کہ وہ کسی ذاتی معاملے پر بات نہیں کرنا چاہتے، بلکہ وہ چاہتے ہیں کہ حکومت بلوچستان کے گرفتار کردہ تمام سیاسی کارکنوں کو رہا کرے۔

رحمٰن ملک نے بتایا کہ حکومت بلوچستان کے سیاسی قیدیوں کی رہائی کے بارے میں پیکیج پر غور کر رہی ہے اور جلد اس کی تفصیلات سامنے لائی جائیں گی۔

وزیراعظم کے مشیر داخلہ نے ایوان کو بتایا کہ ان کی حکومت تمام لاپتہ افراد کے بارے میں بھی معلومات اکٹھی کر رہی ہے اور اس بارے میں بھی جلد ایوان کو آگاہ کیا جائے گا۔

قومی اسمبلی(فائل فوٹو)توہین رسالت پربحث
اراکین اسمبلی نے عملی اقدامات کا تقاضا کیا
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد