BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فارورڈ بلاک کی اجازت نہیں: گورنر

’ووٹ مانگنا اور بلاک بنانا دو الگ چیزیں ہیں اور بلاکس بنانے کی سیاست نہیں کرنے دی جائے گی: گورنر پنجاب
گورنر پنجاب سلمان تاثیر نے کہا ہے کہ صدارتی الیکشن کے لیے کسی کو فاروڈ بلاک بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور کسی بھی طریقے سے رکن صوبائی اسمبلی یا سیاست دان کو خریدنے کی کوشش ناقابل برداشت ہوگی۔

یہ بات انہوں نے لاہور کے گورنر ہاؤس کے دربار ہال میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

سلمان تاثیر نےآصف زرداری کو ملک اور وفاق کے لیے موزوں ترین امیدوار قرار دیا اور کہا کہ صداراتی انتخاب کے لیے کسی کو انتظامیہ پولیس یا صوبے کے وسائل استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائےگی۔

گورنر پنجاب نے کہا کہ انہوں نے چیف سیکرٹری اور آئی جی پولیس کو طلب کرکے ان پر واضح کردیا ہے کہ یہ کوئی ضلعی ناظم کے الیکشن نہیں ہیں اور ان میں کوئی چھانگا مانگا نہیں چلےگا۔

نوے کی دہائی میں اراکین اسمبلی کو اپنے حق میں کرنے کے لیے انہیں چھانگا مانگا یا مری لے جایا جاتا رہا ہے اور وفاداریاں تبدیل کرانے کے اس عمل کو ہارس ٹریڈنگ کا نام دیاگیا۔

گورنر نے کہا کہ اب صوبے میں کوئی ہارس ٹریڈنگ نہیں ہوگی اور وہ پنجاب میں ایک نئی روایت رکھ رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ صوبے کے وسائل کسی صدارتی امیدوار کے حق یا مخالفت میں استعمال نہیں کرنے دیئے جائیں گے اور کسی ایم پی اے کو ساتھ ملانے کے لیے ترقیاتی فنڈ جاری نہیں ہونگے۔

شہباز کے پاس تیسرا چانس نہیں
 شہباز شریف دو مرتبہ وزیر اعلی بن چکے ہیں اورقانون کے تحت کوئی بھی تیسری بار وزیر اعلٰی نہیں بن سکتا۔
گورنر پنجاب

انہوں نے کہا کہ وہ کسی امیدوار کی مہم نہیں چلا رہے ہیں اور ہر کسی کو اجازت ہے کہ وہ اپنے امیدوار کے لیے ووٹ مانگے لیکن ’ووٹ مانگنا اور بلاک بنانا دو الگ چیزیں ہیں اور بلاکس بنانے کی سیاست نہیں کرنے دی جائے گی‘۔

گورنر پنجاب نے کہا کہ وہ صوبے میں (اراکین اسمبلی کے) بلاکس بنانے کے خلاف ہیں۔ یہ پی بلاک کیو بلاک فاروڈ بلاک یا ہارس ٹریڈنگ کی سیاست کوئی جمہوری روایت نہیں ہے۔انہوں نے کہا موجودہ ماحول میں وہ بلاکس بنانے کی اجازت نہیں دیں گے۔

پنجاب میں اپوزیشن جماعت مسلم لیگ قاف کے دودرجن سے زائد اراکین حکمران جماعت مسلم لیگ نون کی پالیسیوں کی حمایت کا اعلان کرچکے ہیں۔ میڈیا میں انہیں مسلم لیگ قاف کا فارورڈ بلاک قراردیا جاتا ہے۔

ادھر مسلم لیگ نون سے تعلق رکھنے والے پنجاب کے وزیرقانون رانا ثناءاللہ خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئےکہا کہ ان کی پارٹی کسی پر کوئی دباؤ نہیں ڈال رہی لیکن اگر کوئی یک طرفہ طور پر فارورڈ بلاک بنا کر ان کے ساتھ تعاون کرنا چاہے تو وہ انہیں خوش آمدید کہیں گے۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مرکز میں وفاقی حکومت سے مسلم لیگ نون کی علیحدگی کے بعد پنجاب میں بھی مخلوط حکومت باہمی تلخی کا شکار دکھائی دے رہی ہے۔گورنر کی ’دھمکی‘ اور وزیر قانون کا ’جوابی بیان‘ اسی سلسلے کی ابتدائی کڑی دکھائی دیتی ہے۔

گورنر پنجاب نےکہا کہ وفاق میں اتحاد ختم کرنے کا فیصلہ مسلم لیگ نون نے کیا تھا اور صوبے میں اتحاد قائم رکھنے یا نہ رکھنے کے بارے میں اب پیپلز پارٹی دو تین روز میں فیصلہ کرلے گی۔

انہوں نے واضح کیا کہ پنجاب اسمبلی نہیں توڑی جا رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ نون کے صدر وزیر اعلٰی پنجاب شہباز شریف بھی اسمبلی توڑنے کا مشورہ نہیں دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ شہباز شریف دو مرتبہ وزیر اعلی بن چکے ہیں اورقانون کے تحت کوئی بھی تیسری بار وزیر اعلٰی نہیں بن سکتا۔

 آصف زرداری آگے سیاست ہے
یہاں سے آگے نہ کوئی اصول ہے نہ کوئی نظریہ۔
مضبوط امیدوار
زرداری نون کے بغیر بھی جیت سکتے ہیں
آصف زرداری’صدر آصف زرداری‘
صدرات کے لیے آصف زرداری کا بھی نام سامنے
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد