BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 25 February, 2009, 11:12 GMT 16:12 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شریف نااہلیت اور ’گھوسٹ پٹیشنر‘

نواز شریف
نواز شریف کے مخالف امیدوار نور الٰہی نے انکی نا اہلی کی درخواست ہائیکورٹ میں دائر کی تھی
پاکستان کی اعلیٰ ترین عدالت نے جس پٹیشن کی بنیاد پر شریف برادران کو سزا سنائی ہے وہ اس لحاظ سے منفرد ہے کہ اس کا محرک ایک ایسا فرد ہے جسے عدالت میں ’گھوسٹ‘ یا بھوت پٹیشنر قرار دیا جاتا رہا ہے۔

خرم شاہ نامی شخص نے شہباز شریف کے حلقے کے ایک ووٹر کی حیثیت سے اپنا حق استعمال کرتے ہوئے الیکشن ٹریبیونل میں انہیں نا اہل قرار دینے کی درخواست دائر کی تھی۔

تاہم سپریم کورٹ میں آٹھ ماہ پر مشتمل اس مقدمے کی سماعت کے دوران مخالف وکیلوں کی جانب سے بار بار کے مطالبے کے باوجود خرم شاہ نہ تو عدالت میں خود آئے اور نہ ہی انکی اصل شناخت عدالت کے سامنے لائی گئی۔ اسی بنیاد پر انکے مخالف وکلاء انہیں مقدمے کے دوران بار بار ’بھوت‘ پٹیشنر قرار دیتے رہے۔

یہ مقدمہ اس لحاظ سے بھی منفرد حیثیت رکھتا ہے کہ اس میں مدعی اور مدع الیہان دونوں اصل فریق نہیں ہیں۔

ایک طرف شہباز شریف کے حریف امیدوار کے بجائے عام ایک ووٹر اس مقدمے کا مدعی ہے تو دوسری جانب شریف بردران کے ’پی سی او ججز‘ کے سامنے پیش ہونے سے انکار کے بعد مدع الیہ کے طور پر وفاقی حکومت فریق ثانی یا ’جواب دہندہ‘ ہے۔

نواز اور شہباز شریف کو عدالت عظمیٰ نے بارہ اکتوبر انیس سو ننانوے کو بری فوج کے سربراہ جنرل پرویز مشرف کے طیارے کو ہائی جیک کرنے کے الزام کے تحت سزا کی بنیاد پر انتخابی عمل میں حصہ لینے کے لیے نا اہل قرار دیا ہے۔

کراچی میں قائم دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج رحمت حسین جعفری نے شریف برادران کو طیارہ ہائی جیکنگ کیس میں ستر برس قید کی سزا سنائی تھی۔

ایک برس بعد جب شریف خاندان نے سعودی عرب میں جلا وطنی قبول کی تو صدر مملکت رفیق تارڑ نے خصوصی اختیارات استعمال کرتے ہوئے انکی سزا معاف کر دی تھی۔

نومبر دو ہزار سات میں عام انتخابات سے چند روز قبل جب جلا وطنی ختم کر کے شریف برادران وطن واپس پہنچے تو انہوں نے انتخابات میں حصہ لینے کے لئے اپنے کاغذات جمع کروائے۔ اس موقع پر بھی انکے خلاف اعتراضات اٹھائے گئے جنہیں متعلقہ ریٹرننگ افسران نے مسترد کر دیا تھا۔

اسکے بعد شہباز شریف کے خلاف انکے حلقے کے ایک ووٹر خرم شاہ نے الیکشن ٹریبیونل میں اپیل دائر کی جس میں مؤقف اختیار کیاگیا کہ شہباز شریف ایک سنگین جرم کی پاداش میں عدالت سے سزا یافتہ ہیں لہٰذا وہ کسی بھی عوامی عہدے کے لئے نا اہل ہیں۔

اس درخواست پر لاہور میں قائم دو رکنی الیکش ٹریبوینل نے منقسم فیصلہ جاری کیا جسے وضاحت کے لئے لاہور ہائیکورٹ کے سامنے پیش کر دیا گیا۔

اسی دوران نواز شریف کے حلقے میں انکے مخالف امیدوار نور الٰہی نے بھی اس بنیاد پر انکی نا اہلی کی درخواست ہائیکورٹ میں دائر کر دی۔

لیکن اس وقت تک عام انتخابات منعقد ہو چکے تھے اور شہباز شریف صوبہ پنجاب کے ضلع بھکر سے بلا مقابلہ صوبائی اسمبلی کے رکن بننے کے بعد وزیراعلیٰ کا عہدہ سنبھال چکے تھے جبکہ نواز شریف لاہور سے ضمنی انتخابات میں حصہ لے رہے تھے۔

لاہور ہائیکورٹ کے تین رکنی بنچ نے ان دونوں بھائیوں کے خلاف انتخابی عذرداری کی ایک ساتھ سماعت کی اور شریف برادران کے عدالت کے سامنے پیش نہ ہونے پر ایک روزہ سماعت کے بعد انکے خلاف فیصلہ دے دیا۔

تاہم لاہور ہائی کورٹ نے کہا کہ مسلم لیگ کے صدر میاں شہباز شریف اسوقت تک وزارتِ اعلیٰ کے عہدے پر برقرار رہ سکتے ہیں جب تک عائد اعتراضات پر الیکشن کمیشن کی طرف سے فیصلہ سامنے نہیں آ جاتا۔

شریف برادران نے سپریم کورٹ میں موجود مبینہ ’پی سی او ججز‘ کے سامنے پیش نہ ہونے کے اپنے مؤقف پر قائم رہتے ہوئے، اس فیصلے کے خلاف اپیل نہ کرنے کا اعلان کیا۔

مسلم لیگ نواز اس وقت وفاقی حکومت میں شامل تھی لہٰذا اس فیصلے پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی حکومت نے اس کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرنے کا اعلان کیا۔

جب سپریم کورٹ نے اس مقدمے کی سماعت شروع کی تو بعض دیگر فریق بھی اس میں شامل ہو گئے۔

ان میں نواز شریف کے تجویز اور تائید کنندہ، پنجاب کی صوبائی اسمبلی کے سپیکر اور صوبے کے چیف سیکرٹری شامل ہیں۔

لیکن عدالت نے اپنے مختصر فیصلے میں ان میں سے کسی کو بھی اس مقدمے میں جائز فریق تسلیم نہیں کیا۔

اسی بارے میں
’حکومت گرانے کے حامی نہیں‘
22 February, 2009 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد