’پنجاب: سزا یافتہ اعلی عہدے پر‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان مسلم لیگ(ن) کے قائد میاں نواز شریف اور وزیر اعلی پنجاب میاں شہباز شریف کی اہلیت کے بارے میں دائر درخواستوں کی سماعت کرنے والے سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کے سربراہ جسٹس موسی لغاری نے کہا ہے کہ حکومت پنجاب میں ایک ایسے شخص کو اعلی عہدے پر تعینات کیا گیا ہے جسے توہین عدالت کے مقدمے میں سزا ہوچکی ہے۔ منگل کو ان درخواستوں کی سماعت کے دوران جسٹس موسی لغاری نے کہا کہ حکومت پنجاب نے میاں شہباز شریف کی طرف سے مختلف بینکوں سے لیے گئے قرضوں کے بارے میں بھی عدالت کو تحریری طور پر آگاہ نہیں کیا ہے۔ پنجاب کے ایڈووکیٹ جنرل خواجہ حارث نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ شریف برادران نے جتنا قرضہ لیا تھا وہ اُن کی جائیداد کی نیلامی کرکے بینکوں نے واپس لے لیا ہے اس طرح اب شہباز شریف کسی بھی بینک کے نادہندہ نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میاں شہباز شریف بھکر اور راولپنڈی سے بلامقابلہ منتخب ہوئے تھے جبکہ الیکشن کمیشن نے اس کا نوٹیفکیشن مختلف تاریخوں میں جاری کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ میاں شہباز شریف نے بھکر والی نشست اپنے پاس رکھی اور راولپنڈی کی نشست چھوڑ دی جبکہ خرم شاہ کے وکیل احمد رضا قصوری کا کہنا ہے کہ میاں شہباز شریف نے راولپنڈی کی نشست اُس وقت چھوڑی جب دونوں صوبائی سیٹوں سے اُن کی کامیابی کا نوٹیفیکیشن جاری ہوچکا تھا اس لیے وہ اب دونوں سیٹوں سے نااہل ہوچکے ہیں۔ احمد رضا قصوری نے عدالت میں شریف برادران کے اُن بیانات کے اخباری تراشے پیش کیے جس میں انہوں نے عدلیہ کی توہین کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ میاں نواز شریف نے عدلیہ کے بارے میں اپنے حالیہ بیان میں کہا ہے کہ جو جج اُن کی اہلیت کے بارے میں دائر درخواستوں کی سماعت کر رہے ہیں وہ خود اہل نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومی یا صوبائی اسمبلی کا سپیکر کسی بھی رکن کے اہلیت اور نااہلیت کے بارے میں عدالتوں سے رجوع نہیں کرسکتا۔ احمد رضا قصوری نے کہا کہ مولوی تمیز الدین اور گوہر ایوب صدر کی طرف سے کی گئی کارروائی کے خلاف عدالت میں پیش ہوئے تھے۔ عدالت نے اٹارنی جنرل سردار لطیف کھوسہ سے کہا کہ وہ بدھ کے روز ان درخواستوں کے متعلق کوئی دلائل دینا چاہتے ہیں تو دے دیں۔ واضح رہے کہ شریف برادران کی اہلیت کے بارے میں لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف وفاق نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ الیکشن میں حصہ لینا میاں نواز شریف کا جمہوری اور بنیادی حق ہے۔ بعدازاں حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ( ن) کے درمیان اختلافات کی وجہ سے وفاق نے ان درخواستوں کے متعلق یہ موقف اختیار کیا کہ وہ اس لیے عدالت میں پیش ہو رہے ہیں کیونکہ ان درخواستوں میں اُنہیں فریق بنایا گیا ہے اورعدالت ان درخواستوں پر جو بھی فیصلہ کرے گی وہ وفاق کو منظور ہوگا۔ | اسی بارے میں اہلیت کیس میں اٹارنی جنرل طلب23 February, 2009 | پاکستان مخالفانہ بیان بازی روکنے پر اتفاق23 February, 2009 | پاکستان ’عدالت میں پیش کیوں نہیں ہوتے‘ 17 February, 2009 | پاکستان برطرف ملازمین کی فوری بحالی کاحکم14 February, 2009 | پاکستان اہلیت کیس، لارجر بنچ پر فیصلہ موخر11 February, 2009 | پاکستان ’عدلیہ کو جرنیلوں نے تقسیم کیا‘10 February, 2009 | پاکستان ’پیرزادہ کو ہم نےمقرر نہیں کیا: وزیر10 February, 2009 | پاکستان ’سیاست میں آمد پر بات نہیں‘09 February, 2009 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||