مخالفانہ بیان بازی روکنے پر اتفاق | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے سترہویں ترمیم کے خاتمے، پنجاب میں شراکت اقتدار کے فارمولے پر عمل کرنے اور ایک دوسرے کے خلاف اشتعال انگیز بیانات روکنے پر اتفاق کیا ہے۔ یہ فیصلہ پیرکو مسلم لیگ (ن) کے صدر اور پنجاب کے وزیراعلیٰ میاں شہباز شریف اور وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کی ملاقات میں کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنی اپنی جماعتوں کے رہنماؤں کو ایک دوسرے کے خلاف اشتعال انگیز بیانات دینے سے منع کریں گے۔ وزیراعظم ہاؤس سے جاری ہونے والے ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ دو گھنٹے تک جاری رہنے والی یہ ملاقات خوشگوار ماحول میں ہوئی۔ بیان کے مطابق دونوں رہنماؤں نے ملک کی سیاسی صورتحال اور بالخصوص پنجاب کے معاملات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ بیان کے مطابق وزیر اعلیٰ نے اتفاق رائے کی سیاست اور قومی مصالحت کو فروغ دینے کی کوششوں کو سراہا۔ وزیراعظم نے کہا کہ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں نے جمہوریت کی بحالی کے لیے جلاوطنی، قید و بند، سیاسی انتقام اور جان کی قربانیاں دی ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ دونوں جماعتوں کو پارلیمان کی بالادستی کے لیے مل کر کام کرنا چاہیے اور جمہوری روایات اور قومی مصالحت کو فروغ دینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ’حکومت سترویں ترمیم کے متعلق کسی بھی متفقہ بل کی حمایت کرےگی‘۔ بیان میں بتایا گیا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ پیپلز پارٹی کو کابینہ، قائمہ کمیٹیوں اور پارلیمانی سیکریٹریوں کے عہدوں میں طے شدہ فارمولے کے تحت حصہ دیا جائے گا۔ بیان کے مطابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے وکلاء کے لانگ مارچ کے متعلق کہا کہ جلسہ جلوس کرنے کا ہر شہری کا جمہوری حق ہے۔ واضح رہے کہ یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب مسلم لیگ کے قائد میاں نواز شریف نے صدر آصف علی زرداری پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ من پسند عدلیہ کے ذریعے انہیں نا اہل قرار دلوانے کی سازش کر رہے ہیں۔ تین روز قبل اپنی جماعت ی جنرل کونسل سے خطاب میں انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ گورنر پنجاب صوبائی حکومت کو غیر مستحکم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ جس کے بعد وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے گزشتہ روز فون کرکے وزیراعلیٰ شہباز شریف کو کو یقین دلایا تھا کہ وفاقی حکومت پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت گرانے کا ارادہ نہیں رکھتی۔ وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ وہ اتفاق رائے، مصالحت اور باہمی عزت و احترام کی پالیسی پر یقین رکھتے ہیں۔ | اسی بارے میں ’نااہل قراردلانےکی کوشش نہ کریں‘21 February, 2009 | پاکستان بے یقینی کی شکار، پنجاب حکومت 21 February, 2009 | پاکستان ’حکومت گرانے کے حامی نہیں‘ 22 February, 2009 | پاکستان پی ایم ایل این کی تنظیم نو منظور22 February, 2009 | پاکستان انڈین وفد،نواز شریف سے ملاقات23 February, 2009 | پاکستان اہلیت کیس میں اٹارنی جنرل طلب23 February, 2009 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||