بے یقینی کی شکار، پنجاب حکومت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انتخابات کا ایک برس پورا ہونے پر پنجاب وہ واحد صوبہ ہے جس کی حکومت سب سے زیادہ بے یقینی کا شکار ہے۔ پنجاب کی مخلوط حکومت کی بڑی جماعت مسلم لیگ نون نے اپنی ہی اتحادی پیپلز پارٹی کی وفاقی حکومت کے خلاف دھرنے کا اعلان کیا ہے۔ دوسری طرف گورنر پنجاب سلمان تاثیر نے صوبے میں جلد ہی پیپلز پارٹی کی حکومت کے قیام کا عندیہ دیا ہے جسے مسلم لیگ کی حکومت کو ختم کرنے کی دھمکی سمجھا جا رہا ہے۔ اٹھارہ فروری کے انتخابات کے بعد صوبے میں مخلوط حکومت قائم کرنے کے جس فارمولے کو بنیاد بنایا گیا تھا وہ فارمولا ختم ہوچکا ہے۔ مسلم لیگ نون کے صدر شہباز شریف نے تقریباً ایک برس پہلے حکومت سازی کا اعلان کرتے ہوئےواضح طور پر کہا تھا جس طرح مرکز میں وزیراعظم، سپیکر اور ڈپٹی سپیکر پیپلزپارٹی کے ہیں اسی طرح پنجاب میں وزیراعلیٰٰ سپیکر و ڈپٹی سپیکر ہمارے ہوں گے۔ جج بحالی کے تنازع پر مسلم لیگ نون وفاقی کابینہ سے الگ ہوچکی ہے اور لیکن پنجاب میں اقتدار کی کشتی میں جہموریت کے نام پر دونوں پارٹیاں سوار ہیں لیکن اب یہ کشتی باہمی محاذ آرائی کی وجہ سے ڈانواں ڈول ہے۔ پنجاب کے عوام جو پاکستان کے دیگر عوام کی طرح تبدیلی کی خواہش مند تھے ان کی اکثریت نے مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی کو ووٹ ڈالا لیکن ایک برس کےدوران انہیں دونوں پارٹیوں کے چپقلش بیان بازیوں کے علاوہ کچھ اچھا سننے کو نہیں ملا۔ اچھے مستقبل کی آس دل میں لیے وہ کبھی بجلی، کبھی آٹے کبھی نہری پانی، کبھی کھاد اور بے روزگار کے بحرانوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ حکمرانوں کے پاس عذر اور بہانوں کے حق میں دلائل کے اتنے پہاڑ ہیں جنہیں عبور کرنا ایک عام پنجابی کے لیے ممکن نہیں ہے۔ پیپلز پارٹی کہتی ہے کہ اسے پنجاب کے بتیس میں سے صرف چھ محکمے ملے ہیں اور وہ بھی ایسے ہیں کہ بیوروکریسی ان کا حکم نہیں مانتی۔ وزارت اعلیٰ رکھنے والی مسلم لیگ نون تاثر دیتی ہے کہ اتحادی جماعت میرٹ کے سامنے رکاوٹ ہے۔ مسلم لیگ نون نے ایک نئی لڑائی سابق حکمران پرویز مشرف کے قائم کردہ بلدیاتی نظام سے چھیڑ دی ہے اور نشانہ سابق دور میں کامیاب ہونے والے بلدیاتی نمائندے ہیں۔
ان بلدیاتی نمائندوں کے خلاف مبینہ دھاندلیوں کے اشتہارات شائع کیے گئے اور انہیں اب گرفتاریوں کی دھمکیوں کا سامنا ہے۔ جواباً ضلعی ناظمین نے بھی مسلم لیگ نون کے خلاف ایک محاذ بنالیا ہے ان کا کہنا ہے کہ حکومت پنجاب نے تمام ترقیاتی فنڈز روک لیے ہیں اور ایک سال سے پنجاب میں کوئی قابل ذکر ترقیاتی کام نہیں ہوسکا ہے۔ پنجاب کا صوبائی محکمہ اطلاعات بڑی مہارت سے یہ تاثر ابھارنے میں بظاہر کامیاب ہے کہ صوبے کے وزیراعلیٰ شہباز شریف ایک جناتی انتظامی صلاحیتوں کے حامل ہیں اور وہ دن رات کام کرکے کمال دکھا رہے ہیں۔ اس پر لاہور کی ایک غریب آبادی بستی سیدن شاہ کے غریب نوجوان کی یہ پھبتی صادق آتی ہے۔’ کچی بستی آٹا مہنگا روٹی سستی‘ ۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ بہرحال دوروپے کی روٹی تک پنجاب کے آٹھ کروڑ عوام کی رسائی نہیں ہے۔ اس کی بجائے انہیں گندم آٹا سستے داموں ملنا چاہیے۔ حکومت کے حامی کسی بھی بیورکریٹ یا سیاسی رہنما سے پوچھا جائے کہ وزیراعلیٰ کے اتنے کام کرنے کا جو ڈھول پیٹا جاتا ہے عوام کو عملی طور پر اس کا کیا ریلف ملا تو جواب مبہم ملتے ہیں جیسے کوئی کہتا ہے کہ ہسپتالوں میں دوائیاں ملنی شروع ہوگئی ہیں تو کوئی کہتا ہے کہ کرپشن کا خاتمہ ہوا کسی لیڈر کا دعوی ہے کہ گلیاں سڑکیں بن رہی ہیں تو کوئی کہتا ہے کہ پچھلے دور کا گند صاف ہوا ہے۔ لیکن اسی صوبائی حکومت میں چالیس فی صد کی حصہ دار پیپلز پارٹی کےنامزدکردہ گورنر پنجاب کا کہنا ہے کہ پنجاب حکومت کو ایک سو ساٹھ ارب روپے کا بجٹ ملا تھا جس میں سے وہ صرف بیس ارب روپے خرچ کر پائی ہے۔گورنر سلمان تاثیر نے کہا کہ اس کا مطلب ہے کہ حکومت نے ایک سال میں کچھ نہیں کیا ہے۔ اپوزیش جماعت مسلم لیگ قاف کے رہنما سابق وزیر اعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الہی کا کہنا ہے کہ شہباز شریف جب دس برس پہلے وزیر اعلیٰ تھے تو پنجاب کا بجٹ صرف سولہ ارب روپے تھا اور جسے وہ بڑھا کر ایک سو ساٹھ ارب روپے تک لے گئے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ دس برس کے بعد وہ پاکستان لوٹے ہیں تو انہیں سمجھ ہی نہیں آ رہا ہے کہ اتنی رقم کیسے خرچ کی جائے۔ پنجاب کے میڈیا ایڈوائزر اور نامزد سنیٹر پرویز رشید سے یہ سوال پوچھا گیا کہ ایک برس کے بعد وہ کونسا سا ایسا کام ہے جو مسلم لیگ کی حکومت کرنا چاہتی تھی اورنہ کرپائی تو انہوں نے جواب دیاکہ ’ہم نے مشرف دورکے تمام آمرانہ اقدامات ختم کرنے کا وعدہ کیا تھا جو ابھی تک پورا نہیں ہوسکا ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ ان وعدوں میں ایک عدلیہ کی دونومبر سنہ دوہزار سات والی پوزیشن پر واپسی کا بھی ہے۔ مسلم لیگ نون کے سربراہ میاں نواز شریف نے اس وعدے کی تکمیل کے لیے لانگ مارچ میں شرکت کر رہے ہیں اور انہوں نے مرکزی پارلیمنٹ کے سامنے دھرنے بلکہ دھرنے سے بھی کسی ایک قدم آگے جانے کی بات کر دی ہے۔
مبصرین کا کہناہے کہ پنجاب کی مخلوط حکومت میں شامل پیپلز پارٹی کے لیے ایسا کوئی بھی انتہائی قدم ناقابل قبول ہوگا جس کی پشت پر انہی کی مخلوط صوبائی حکومت ہو اور نشانہ بھی انہی کی پارٹی کی مرکزی حکومت بنے۔ مارچ کامہینہ پنجاب کی حکومت کے لے بھی بھاری بتایا جارہاہے۔سیاسی تجزیہ کاروں کاکہنا ہے کہ سیاسی شکست وریخت کا آغاز شریف بردران کی نااہلیت کیس سے بھی ہوسکتا ہے اور گورنر اپنا کوئی آئینی حق بھی استعمال کرسکتے ہیں۔ مسلم لیگ نون اپوزیشن کی مسلم لیگ قاف سے اتحاد کرکے پیپلز پارٹی سے بے نیاز ہوسکتی ہے تو اسی جماعت کا پیپلز پارٹی سے اتحاد حکمران مسلم لیگ نون کو اپوزیشن بنچوں کا راستہ دکھا سکتا ہے۔ | اسی بارے میں پنجاب گورنر کی حکومت پر تنقید19 February, 2009 | پاکستان پنجاب میں بسنت منانے کا تنازع17 February, 2009 | پاکستان ایک گھنٹہ، سٹیج پر مثبت اثرات03 February, 2009 | پاکستان اپنی ہی حکومت کے خلاف نعرہ بازی02 February, 2009 | پاکستان ناظمین: ’اختیار پرویز الہٰی کے پاس‘02 February, 2009 | پاکستان پنجاب بار انتخابات، مِلا جلا نتیجہ 29 January, 2009 | پاکستان گوجرانوالہ: تھانے پر بم حملہ27 January, 2009 | پاکستان جماعت الدعوۃ کے لیے ایڈمنسٹریٹر25 January, 2009 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||