ناظمین: ’اختیار پرویز الہٰی کے پاس‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں سابق حکمران جماعت مسلم لیگ قاف سے تعلق رکھنے والے ضلعی ناظمین نے بلدیاتی نظام کے تحفظ کے لیے لائحہ عمل طے کرنے کا اختیار سابق وزیر اعلیْ پرویز الہیْ کو دے دیا ہے۔ یہ فیصلہ پیر کو لاہور میں ہونے والے ضلعی ناظمین کے اجلاس میں کیا گیا۔اجلاس کی صدارت مسلم لیگ قاف پنجاب کے صدر پرویز الہیْ نے کی جبکہ اس میں اجلاس میں صوبے بھر سے مسلم لیگ قاف کے اٹھائیس ضلعی ناظمین نے شرکت کی۔ اجلاس میں ضلعی ناظمین نے کہا کہ وہ صوبائی حکومت کی ’انتقامی کارروائیوں‘ سے گھبرانے والے نہیں بلکہ ان کا ڈٹ کا مقابلہ کریں گے۔ان کا کہنا ہے کہ اگر صوبائی حکومت کے پاس ان کے خلاف کوئی ثبوت ہیں تو ان کو سامنے لائے ۔ خیال رہے کہ پنجاب میں مسلم لیگ نون کی حکومت نےبلدیاتی نمائندوں کے خلاف ایک مہم شروع کی ہے اور ناظمین پر بے ضابطگیوں اور مالی بدعنوانی کے الزامات لگائے جارہے ہیں جبکہ ناظمین اسے انتقامی کارروائی قرار دے رہے ہیں۔ ضلعی حکومتوں کا نظام سابق صدر جنرل پرویز مشرف نے متعارف کرایا تھا اور بلدیاتی انتخابات میں ضلعی ناظمین غیر جماعتی انتخابات میں منتخب ہوئے تھے اور ان میں کئی ناظمین نے اس وقت کی حکمران جماعت مسلم لیگ نون میں شمولیت اختیار کی تھی۔ اجلاس سے پرویز الہیْ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلدیاتی اداروں کے خلاف سازشوں کا سلسلہ جاری ہے۔ ان کے بقول بلایاتی نظام کو پہلے مفلوج کیا گیا اور اب سے ختم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے انہوں نے ناظمین کو یقین دلایا کہ بلایاتی نظام کے تحفظ کے لیے بھرپور مزاحمت کریں گے اور اس نظام کو بچانے کے لیے ہر فورم استعمال کیا جائے گا۔ پرویز الہیْ نے وزیر اعلیْ پنجاب پر نکتہ چینی کی اور کہا وہ ایک سال سے بلدیاتی اداروں میں کرپشن کا شور مچار رہے ہیں اور ناظمین کے خلاف سرکاری خزانے سے کروڑوں روپے کے جھوٹے اشہتارات شائع کرائے گئے ہیں لیکن کرپشن کا کوئی ثبوت موجود نہیں۔ انہوں نے ناظمین کے لیے آواز بلند کرنے پر گورنر پنجاب کی تعریف کی۔ اجلاس میں ضلعی ناظم سیالکوٹ اکمل چیمہ کے گھر پر پولیس کے چھاپے کی شدید مذمت بھی گئی۔اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ نو فروری کو لاہور میں تحصیل ناظمین کا اجلاس ہوگا۔ اجلاس کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے ضلعی ناظم خانیوال اللہ یار ہراج کا کہنا ہے کہ ضرورت پڑنے پر ناظمین اپنے حقوق کے لیے سپریم کورٹ سمیت ہر فورم سے رجوع کرسکتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ بغیر کسی ثبوت کے حکومت کی کارروائی ناقابل برداشت ہیں۔ ضلع ناظم سیالکوٹ اکمل چیمہ نے بتایا کہ اجلاس میں صدر آصف علی زرداری سے ملاقات ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ ان کے بقول اجلاس میں پرویز الہیْ نے ناظمین کے ساتھ ملکر ایک مشترکہ موقف اختیار کیا ہے اور چودھری شجاعت حسین کی وطن واپسی کے بعد پرویز الہیْ ان سے بات کریں گے جس کے بعد یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ آیا صدر پاکستان سے ملاقات کرنی ہے یا نہیں۔ |
اسی بارے میں آئینی ترامیم: مسودہ پی پی پی کے سپرد15 January, 2009 | پاکستان پنجاب، گورنر ناظمین کے ساتھ16 January, 2009 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||