آئینی ترامیم: مسودہ پی پی پی کے سپرد | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حزب مخالف کی جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) نے ملک کے سابق صدر جنرل پرویز مشرف کے دور میں کی گئی آئینی ترامیم کے خاتمے کے لیے ایک ترمیمی بل کا مسودہ جمعرات کو حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کو پیش کر دیا ہے۔ پی ایم ایل این کے راہنماؤں اسحٰق ڈار اور احسن اقبال نے یہ مسودہ جمعرات کے روز وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر بابر اعوان اور بین الصوبائی رابطوں کے وفاقی وزیر میاں رضا ربانی کو پیش کیا۔ اٹھارہویں آئینی ترامیم سے متعلق ملاقات کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے راہنماؤں نے کہا کہ تمام جماعتوں سے مشاورت کے بعد بہت جلد ایک متفقہ مسودہ تیار کرکے پارلیمان میں لایا جائے گا۔
ان کے مطابق پیپلز پارٹی کے بعد مسلم لیگ (ق) دو مسودے اور ایم کیو ایم اور مسلم لیگ (ن) ایک ایک مسودہ سامنے لائی ہے۔
بابر اعوان نے کہا کہ اس طرح کے اختلافی امور طے کرکے ہی حکومت اتفاق رائے سے آئینی ترامیم کا بل پارلیمان میں لائے گی۔ تاہم اس بارے میں انہوں نے کوئی ٹائم فریم نہیں دیا۔ مسلم لیگ (ن) کے سرکردہ رہنما اسحٰق ڈار نے اس موقع پر کہا کہ ان کی جماعت میثاقِ جمہوریت کی دستخطی ہونے کے ناطے خود کو اخلاقی طور پر پابند سمجھتی ہے کہ اٹھارہویں آئینی ترمیم کا اپنا مسودہ پیپلز پارٹی کو پیش کرے۔ اس موقع پر موجود احسن اقبال نے کہا کہ صدر پرویز مشرف کی متعارف کردہ سترہویں ترمیم کے خاتمے کے لیے آج مسلم لیگ (ق)، ایم کیو ایم اور متحدہ مجلس عمل بھی تیار ہیں۔ ان کے بقول یہ وہ جماعتیں ہیں جنہوں نے صدر پرویز مشرف کی سترہویں ترمیم کو منظور کرایا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ مسلم لیگ (ن) کے تیار کردہ آئینی ترمیمی بل میں الیکشن کمیشن کو خود مختار بنانے، احستاب کا شفاف طریقۂ کار طے کرنے اور ججوں کی تعیناتی سمیت اہم امور پہلے ہی شامل ہیں۔ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ نون کے راہنماؤں کی گفتگو سے بظاہر لگتا ہے کہ دونوں ہی اسمبلی توڑنے کے صدر کے اختیار کو ختم کرنے سمیت کئی شقوں پر متفق ہیں۔ لیکن مسلم لیگ (ن) چاہتی ہے کہ جتنا جلد ہوسکے اٹھارہویں آئینی ترمیم کا بل منظور کیا جائے۔ کیونکہ اس سے تیسری بار وزیراعظم بننے پر عائد پابندی ختم ہوگی اور اس کا فائدہ میاں نواز شریف کو ہوگا۔ جبکہ پیپلز پارٹی چاہتی ہے کہ وہ مسلم لیگ (ن) سے سینیٹ میں اقلیتوں کو نمائندگی دینے اور صوبہ سرحد کا نام پختونخواہ رکھنے کے بارے میں معاملات طے پانے کے بعد ہی یہ بل منظور کروائے۔ | اسی بارے میں ’سترہویں ترمیم ختم کروائیں گے‘10 January, 2009 | پاکستان متحدہ کی طرف سے بھی پیکج12 January, 2009 | پاکستان زیادہ تر ڈکٹیٹر پٹھان تھے: شہبازشریف13 January, 2009 | پاکستان نواز اہلیت، لارجر بینچ کی درخواست14 January, 2009 | پاکستان ’صدر زرداری بینظیر بھٹو کا وعدہ پورا کرو‘ 12 January, 2009 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||