BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 15 January, 2009, 18:00 GMT 23:00 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
آئینی ترامیم: مسودہ پی پی پی کے سپرد

بابر اعوان
بعض نکات پر جماعتوں میں اختلاف ہے: بابر اعوان
حزب مخالف کی جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) نے ملک کے سابق صدر جنرل پرویز مشرف کے دور میں کی گئی آئینی ترامیم کے خاتمے کے لیے ایک ترمیمی بل کا مسودہ جمعرات کو حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کو پیش کر دیا ہے۔

پی ایم ایل این کے راہنماؤں اسحٰق ڈار اور احسن اقبال نے یہ مسودہ جمعرات کے روز وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر بابر اعوان اور بین الصوبائی رابطوں کے وفاقی وزیر میاں رضا ربانی کو پیش کیا۔

اٹھارہویں آئینی ترامیم سے متعلق ملاقات کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے راہنماؤں نے کہا کہ تمام جماعتوں سے مشاورت کے بعد بہت جلد ایک متفقہ مسودہ تیار کرکے پارلیمان میں لایا جائے گا۔

اختلافی نکات
 مسلم لیگ (ق) کے راہنما انور سیف اللہ نے ایک بل پیش کیا کہ قرارداد مقاصد کو آئین سے خارج کیا جائے۔ جبکہ عوامی نیشنل پارٹی چاہتی ہے کہ صوبہ سرحد کا نام پختونخواہ رکھا جائے۔ لیکن ان کے بقول اس طرح کے بعض نکات پر کچھ جماعتوں کو اختلاف ہے۔
بابر اعوان
رضا ربانی نے صحافیوں کو بتایا کہ پیپلز پارٹی نے گزشتہ برس جولائی میں آئینی ترامیم کا ایک مسودہ تیار کرکے تمام سیاسی جماعتوں کو پیش کیا تھا تاکہ وہ اپنی رائے دیں۔ لیکن اس دوران مختلف جماعتوں نے اپنے اپنے طور پر پانچ مسودے تیار کرلیے۔

ان کے مطابق پیپلز پارٹی کے بعد مسلم لیگ (ق) دو مسودے اور ایم کیو ایم اور مسلم لیگ (ن) ایک ایک مسودہ سامنے لائی ہے۔

اخلاقی پابندی
 میثاقِ جمہوریت کی دستخطی ہونے کے ناطے خود کو اخلاقی طور پر پابند سمجھتی ہے کہ اٹھارہویں آئینی ترمیم کا اپنا مسودہ پیپلز پارٹی کو پیش کرے۔
احسن اقبال
اس موقع پر پارلیمانی امور کے وزیر بابر اعوان نے بتایا کہ مسلم لیگ (ق) کے راہنما انور سیف اللہ نے ایک بل پیش کیا کہ قرار داد مقاصد کو آئین سے خارج کیا جائے۔ جبکہ عوامی نیشنل پارٹی چاہتی ہے کہ صوبہ سرحد کا نام پختونخواہ رکھا جائے۔ لیکن ان کے بقول اس طرح کے بعض نکات پر کچھ جماعتوں کو اختلاف ہے۔

بابر اعوان نے کہا کہ اس طرح کے اختلافی امور طے کرکے ہی حکومت اتفاق رائے سے آئینی ترامیم کا بل پارلیمان میں لائے گی۔ تاہم اس بارے میں انہوں نے کوئی ٹائم فریم نہیں دیا۔

مسلم لیگ (ن) کے سرکردہ رہنما اسحٰق ڈار نے اس موقع پر کہا کہ ان کی جماعت میثاقِ جمہوریت کی دستخطی ہونے کے ناطے خود کو اخلاقی طور پر پابند سمجھتی ہے کہ اٹھارہویں آئینی ترمیم کا اپنا مسودہ پیپلز پارٹی کو پیش کرے۔
ان کے مطابق ان کی جماعت کی خواہش ہے کہ جن نکات پر پہلے ہی اتفاق رائے موجود ہے اس بارے میں پہلے آئینی ترمیم کی جائے۔

اس موقع پر موجود احسن اقبال نے کہا کہ صدر پرویز مشرف کی متعارف کردہ سترہویں ترمیم کے خاتمے کے لیے آج مسلم لیگ (ق)، ایم کیو ایم اور متحدہ مجلس عمل بھی تیار ہیں۔ ان کے بقول یہ وہ جماعتیں ہیں جنہوں نے صدر پرویز مشرف کی سترہویں ترمیم کو منظور کرایا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ مسلم لیگ (ن) کے تیار کردہ آئینی ترمیمی بل میں الیکشن کمیشن کو خود مختار بنانے، احستاب کا شفاف طریقۂ کار طے کرنے اور ججوں کی تعیناتی سمیت اہم امور پہلے ہی شامل ہیں۔

پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ نون کے راہنماؤں کی گفتگو سے بظاہر لگتا ہے کہ دونوں ہی اسمبلی توڑنے کے صدر کے اختیار کو ختم کرنے سمیت کئی شقوں پر متفق ہیں۔

لیکن مسلم لیگ (ن) چاہتی ہے کہ جتنا جلد ہوسکے اٹھارہویں آئینی ترمیم کا بل منظور کیا جائے۔ کیونکہ اس سے تیسری بار وزیراعظم بننے پر عائد پابندی ختم ہوگی اور اس کا فائدہ میاں نواز شریف کو ہوگا۔

جبکہ پیپلز پارٹی چاہتی ہے کہ وہ مسلم لیگ (ن) سے سینیٹ میں اقلیتوں کو نمائندگی دینے اور صوبہ سرحد کا نام پختونخواہ رکھنے کے بارے میں معاملات طے پانے کے بعد ہی یہ بل منظور کروائے۔

اسی بارے میں
متحدہ کی طرف سے بھی پیکج
12 January, 2009 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد