BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 12 January, 2009, 11:11 GMT 16:11 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
متحدہ کی طرف سے بھی پیکج

سندھ اسمبلی
آئینی پیکج صرف صوبائی خودمختاری کے بارے میں نہیں ہے بلکہ اس میں پارلیمنٹ کی بالادستی کو بھی یقینی بنایا گیا ہے
صوبہ سندھ میں حکومت میں شامل جماعت متحدہ قومی موومنٹ نے آئین میں ترامیم کے مجوزہ پیکج کا مسودہ قومی اسمبلی سیکریٹیریٹ میں جمع کروا دیا ہے جس میں صوبوں کو ’خود مختاری‘ دینے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔

قومی اسمبلی میں متحدہ کے قائد ایوان فاروق ستار نے یہ مسودہ جمع کروانے کے بعد پارلیمنٹ ہاؤس کے باہرصحافیوں کو بتایا کہ اس آئینی پیکج میں دفاع ، کرنسی اور خارجہ امور کے علاوہ وفاق کو حاصل تمام اختیارات صوبائی حکومتوں کو منتقل کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔

متحدہ نے یہ اختیارات صوبائی حکومتوں کے توسط سے ضلع اور تحصیل کی سطح تک منتقل کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔

فاروق ستار نے کہا کہ یہ آئینی پیکج صرف صوبائی خودمختاری کے بارے میں نہیں ہے بلکہ اس میں پارلیمنٹ کی بالادستی کو بھی یقینی بنایا گیا ہے۔

’اگر آپ کو کہیں کہ عدلیہ کی آزادی اور بالادستی کا حقیقی تصور ملےگا تو وہ ہمارا آئینی پیکج ہے جس میں پارلیمان کی بالادستی کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ تمام ریاستی اداروں کو مکمل خود مختاری دینے اور ان کے اختیارات میں توازن پیدا کرنے کی بھی کوشش کی گئی ہے‘۔

فاروق ستار نے کہا کہ ان کی جماعت کی جانب سے تجویز کردہ اٹھارہواں آئینی پیکج ملک میں اکسٹھ سال کے ایڈہاک ازم، اختیارات کی انتہائی مرکزیت اور جاگیرارانہ نظام کو ختم کرنے کا نسخہ ہے۔

انہوں نے بتایا کہ یہ پیکج انہوں نے گزشتہ اسمبلی میں بھی پیش کیا تھا لیکن وہ اس وقت کی سیاسی مصلحتوں کا شکار ہو گیا۔

متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے آئین میں ترامیم کا یہ مجوزہ بل ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جبکہ ملک کی دیگر بڑی سیاسی جماعتیں پہلے ہی اپنے اپنے طور پر آئین میں ترمیم کی تجاویز پیش کر چکی ہے۔

ان میں سے بیشتر مجوزہ ترامیم کا مقصد سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے نو سالہ دور اقتدار میں آئین میں کی گئی تبدیلوں کو غیر مؤثر بنانا ہے۔

حکومتی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی دو ماہ قبل آئین میں مجوزہ ترامیم کا بل اتحادی جماعتوں کی رائے کے حصول کے لیے انہیں بھجوا چکی ہے جبکہ مسلم لیگ (ق) نے گزشتہ ہفتے اعلان کیا ہے کہ وہ جنرل مشرف کی جانب سے کی گئی آئین میں سترہویں ترمیم کے خاتمے کا بل قومی اسمبلی کے رواں اجلاس میں پیش کرے گی۔

اسی نوعیت کا بل حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ (ن) نے بھی تیار کر رکھا ہے جسے آج سہ پہر ہونے والے پارٹی کے پارلیمانی اجلاس میں بحث کے لیے پیش کیا جائے گا۔

ن لیگ کے ایک رکن چوہدری برجیس طاہر کے مطابق پارلیمانی پارٹی اس بات کا فیصلہ کرے گی کے اس بل کو براہ راست قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے یا اس سے پہلے دیگر سیاسی جماعتوں سے مشاورت کا عمل مکمل کیا جائے۔

اسی بارے میں
اجلاس میں ترمیمی بِل متوقع
11 January, 2009 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد