اجلاس میں ترمیمی بِل متوقع | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
قومی اسمبلی کا اجلاس پیر کے روز سے اسلام آباد میں شروع ہو رہا ہے جس کے دوران حزب اختلاف کی جماعتوں کی جانب سے صدر مملکت سے قومی اسمبلی تحلیل کرنے سمیت متعدد اختیارات واپس لینے کے لیے آئینی ترمیم کا بل پیش کیے جانے کی توقع ہے۔ گزشتہ برس اٹھارہ فروری کے انتخابات کے نتیجے میں قائم ہونے والے پارلیمنٹ کے ایوان زیریں کا یہ دسواں اجلاس ہے۔ اس اجلاس کے دوران حزب اختلاف کی جانب سے آئین میں صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کی جانب سے کی گئی سترہویں ترمیم کو ختم کرنے کے لیے آئینی ترمیمی بل پیش کیے جانے کی توقع ہے۔ جنرل (ر) مشرف نے اپنے نو سالہ دور اقتدار میں آئین میں متعدد ترامیم کی تھیں جن کے ذریعے صدر مملکت کو قومی اسمبلی تحلیل کرنے اور مسلح افواج کے سربراہوں کی تقرری سمیت متعدد اتنظامی اختیارات سونپ دیے گئے تھے۔ حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت پاکستان مسلم لیگ ن کے متحرک رکن قومی اسمبلی چوہدری برجیس طاہر نے بی بی سی کو بتایا کہ سوموار کے روز نجی ارکان کا دن ہے جس روز حزب اختلاف کی جانب سے قانون سازی کے لیے بل پیش کیا جا سکتا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت اس بارے میں لائحہ عمل پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں طے کرے گی جو اسمبلی اجلاس سے قبل پارلیمنٹ ہاؤس میں منقعد ہوگا۔ برجیس طاہر کا کہنا تھا کہ مجوزہ بل کا مسودہ تیار حالت میں ان کی جماعت کے پاس موجود ہے۔ حکومت اور حزب اختلاف کی بعض دیگر جماعتوں نے صدر مملکت کو حاصل ان اختیارات کو پارلیمانی طرز حکومت کے منافی قرار دیتے ہوئے ان اختیارات کے خاتمے کی کوششوں کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے اتوار کے روز کراچی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی 17 ویں ترمیم کے بارے میں واضح موقف رکھتی ہے اور وہ اس معاملے پر پارٹی کے منشور پر عمل کرے گی۔ سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کا کہنا تھا اگر اسمبلی میں متفقہ طور پر کوئی بل لایا گیا تو ان کی حکومت اس بل کی حمایت کرے گی۔ ادھر اے پی پی پر ہی جاری کردہ ایک اور بیان میں وفاقی وزیر پارلیمانی امور بابر اعوان نے کہا ہے کہ سترہویں آئینی ترمیم بعض قومی اداروں کو تحفظ فراہم کرتی ہے، اس لیے اس میں جزوی طور پر ترمیم تو لائی جا سکتی ہے تاہم کلی طور پر اس کا خاتمہ ممکن نہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ’ کسی بھی آئینی ترمیم کے لیے دو تہائی اکثریت لازمی ہے، تمام سیاسی جماعتوں میں اتفاق رائے کے بغیر کوئی آئینی ترمیم نہیں لائی جاسکتی۔‘ | اسی بارے میں ’میں بھی صدارت کا امیدوار‘31 August, 2007 | پاکستان مشرف انتخاب نہیں لڑ سکتے: جسٹس فلک شیر04 October, 2007 | پاکستان آرمی ایکٹ ترمیمی آرڈیننس جاری10 November, 2007 | پاکستان آئین میں ترامیم کے چار آرڈیننس14 December, 2007 | پاکستان فیصلہ صدر جنرل مشرف کے حق میں28 September, 2007 | پاکستان آئین میں ترامیم کا موسم17 December, 2007 | پاکستان ’امریکہ سے معاہدے ختم کریں‘18 September, 2008 | پاکستان ’سترہویں ترمیم ختم کروائیں گے‘10 January, 2009 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||