ہارون رشید بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد |  |
 | | | صدر مشرف تین نومبر سے پہلے کے واقعات کو ایک سازش کا حصہ قرار دے رہے ہیں |
آج کل انتخابی موسم کے ساتھ ساتھ آئینی ترامیم کا بھی سیزن ہے۔صدر پرویز مشرف نے بظاہر دل کھول کر جتنی ترامیم کرسکتے تھے کر دیں۔ اٹارنی جنرل ملک محمد قیوم کے مطابق آئین میں ایسی تبدیلیاں لائیں گئی ہیں کہ اب نئی پارلیمان کو انہیں تحفظ فراہم کرنے کا کشت بھی نہیں کرنا پڑے گا۔ وہ پہلے صدر ہیں جنہیں دو مرتبہ آئین کو معطل کرنے کا اقدام اٹھانا پڑا ہے۔ لہذا دوسری مرتبہ وہ زیادہ سیانے بھی ہوئے ہیں۔ ہنگامی حالت کے خاتمے کے وقت جاری آرڈیننس کے ذریعے صدر نے کئی دیگر ترامیم کے علاوہ قومی اسمبلی کے بعد اب صوبائی اسمبلیوں کا پہلے اجلاس طلب کرنے تک کا اختیار بھی حاصل کر لیا ہے۔ یہ اختیار یقیناً انہیں نئی اسمبلیوں کو زیادہ چوں چراں کرنے سے روکنے میں مفید ثابت ہو۔ تاہم ایک دوست کا کہنا تھا کہ شاید کام کی زیادتی کی وجہ سے صدر ایک ترمیم کرنا بھول گئے جس کے بعد انہیں مستقبل میں تیسری بار آئین کو معطل کرنے اور ہنگامی حالت نافذ کرنے کی ضرورت ہی پیش نہ آتی۔ یہ چھوٹی سی ترمیم انہیں آئین کے آرٹیکل 238 میں کرنی تھی جس کے بعد صدر کو ’انتہائی اقدام‘ اور اس ملک اور عوام کو بار بار ایمرجنسی کی ندامت اور شرمندگی سے نہیں گزرنا پڑے گا۔یہ آرٹیکل آئین سے ترامیم کے طریقہ کار سے متعلق ہے۔ اس میں جیسا کہ انہوں نے کئی دیگر آرٹیکلز کے ساتھ اے، بی یا سی کے ساتھ نتھی کر دیے ہیں ایک اس کے ساتھ بھی ہو جاتا تو کیا مضائقہ تھا۔ اس اضافے کے ذریعے وہ یہ آئین میں لکھ دیتے، جیسے کے سابق آمر ضیاالحق نے دنیا میں پہلی مرتبہ اپنا نام بھی درج کروایا، کہ وہ جب چاہیں ’ملک کے خلاف سازشوں‘ کو ناکام بنانے کے لیئے آئین میں ترمیم کر سکیں گے اور انہیں کوئی چیلنج نہیں کرسکے گا۔ وہ پرانا گھسا پیٹا لطیفہ مریض والا تو سب کو یاد ہوگا۔ کسی بھلکڑ ڈاکٹر نے اس شخص کے کبھی قینچی اور کبھی تولیہ بھول جانے کی وجہ سے جب بار بار آپریشن کیئے تو اس مریض نے التجا کر ڈالی کہ جناب آپ اس کے پیٹ پر ایک زِپ لگا دیں تاکہ دونوں کو آسانی رہے۔ صدر کے لیئے یہ ترمیم آئین میں زِپ کا کام دے گی۔
|