آئین میں ترامیم کے چار آرڈیننس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر جنرل (ر) پرویز مشرف نے ملک میں ہنگامی حالت کے خاتمے کی جانب پیش رفت کرتے ہوئے آئین میں ترامیم سے متعلق چار آرڈیننس جاری کر دیئے ہیں۔ صدرسنیچر کی رات آٹھ بجے قوم سے خطاب بھی کریں گے جس میں ہنگامی حالت کے خاتمے کے باضابطہ اعلان کی توقع ہے۔ جعمے کی رات گئے وزارتِ قانون کی جانب سے جاری کیئے گئے اعلامیے کے مطابق آئینی میں ترامیم کا دوسرا حکم نامہ دو ہزار سات جاری کیا گیا ہے جس کے تحت آئین کے آرٹیکل اکتالیس، چوالیس، ایک سو ترانوے، ایک سو چورانوے، دو سو آٹھ اور دو سو ستر (سی) میں ترامیم کی گئی ہیں۔ اعلان کے مطابق آئین کے آرٹیکل اکتالیس کی شق تین میں صدر کے انتخاب سے متعلق ترمیم کی گئی ہے جو اگست انیس سو اٹھاسی سے موثر ہوگی۔ صدر نے ایک اور آرڈیننس کے ذریعے آئین میں ترمیم کرتے ہوئے اسلام آباد میں ہائی کورٹ قائم کر دی ہے۔ اس بابت ایک اور آرڈیننس کے ذریعے چونکہ گورنر کا عہدہ اسلام آباد میں موجود نہیں لہذا ہائی کورٹ کے ججوں کی تقرری کے لئیے اس کی ضرورت نہیں ہوگی تاہم ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹسز سے مشورہ ضروری ہوگا۔ اسلام آباد کے چیف جسٹس سے حلف صدر لے سکیں گے۔ ہائی کورٹ کے قیام کے بعد لاہور ہائی کورٹ کے راولپنڈی بنچ کے اسلام آباد سے متعلق مقدمات نئی عدالت کو منتقل ہوجائیں گے۔ صدر نے اعلی عدالتوں کے ان ججوں کو جنہوں نے تین نومبر کے بعد عبوری آئینی حکم نامے کے تحت حلف نہیں لیا انہیں پینشن اور ریٹائرمنٹ کی دیگر مراعات دینے سے معتقل ایک آئینی ترمیم بھی جاری کی ہے۔ ججوں کی عمر سے متعلق بھی آئین کے آرٹیکل ایک سو ترانوے میں ترمیم جاری کی گئی ہے جس کے تحت ہائی کورٹ کے ججوں کی عمر پینتالیس سال سے کم کر کے چالیس کر دی گئی ہے۔ سرکاری بیان کے مطابق اس کا مقصد کم عمر ججوں کو ان عہدوں پر لانا ہے تاکہ وہ زیادہ عرصہ خدمات انجام دے سکیں۔ آرٹیکل دو سو ستر میں ترمیم متعارف کرائی گئی ہے جس کے ذریعے تین نومبر کو حلف نہ لینے والے جج ان عہدوں پر فائز نہیں رہیں گے جبکہ جنہوں نے حلف لیا ہے وہ آئین کے مطابق فرائض انجام دیتے رہیں گے۔ توقع ہے کہ ہنگامی حالت کے خاتمے سے متعلق حکم نامہ سنیچر کو جاری کیا جائے گا۔ اس سے قبل اٹارنی جنرل ملک محمد قیوم نے کہا تھا کہ پانچ صدارتی حکمنامے جاری کئے جائیں گے جن میں ملک سے ہنگامی حالت ، عبوری آئینی حکم مجریہ2007 کے خاتمہ، آئین کی بحالی، اسلام آباد میں ہائیکورٹ کے قیام اور ججوں کو پنشن فوائد کی فراہمی کے احکامات شامل ہیں۔ انہوں نے واضع کیا کہ صدر کو اعلیٰ عدالتوں کے ججوں کو ہٹانے کے حوالے سے کوئی آئینی اختیار نہیں دیاجا رہا ہے اور جو جج فارغ ہوچکے ہیں وہ اپنے عہدوں پر واپس نہیں آ سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایمرجنسی اور پی سی او کے احکامات ختم ہوتے ہی تمام بنیادی حقوق بحال ہوجائیں گے اور عدالت عظمیٰ ، وفاقی شرعی عدالت اور چاروں ہائیکورٹس کے چیف جسٹس صاحبان1973ءکے دستور کے تحت اپنے عہدوں کاحلف اٹھایں گے۔ انہوں نے کہا کہ عدالت عظمیٰ خود قرار دے چکی ہے کہ سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ کے جن جج صاحبان نے 3 نومبر کو حلف نہیں اٹھایا ان کا باب اب بند اور ماضی کا حصہ بن چکا ہے۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ عہدوں پر قائم نہ رہنے والے ججوں کو پنشن سمیت تمام مالی فوائد استحقاق کے مطابق ملیں گے۔ انہوں نے کہا کہ نئی خصوصی شق کے تحت ہائیکورٹ کے مستقل جج کی حیثیت سے پانچ سال کی مدت کی تکمیل سے قبل ریٹائر ہوجانے والے جج کو پنشن فوائد حاصل ہوجائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ عدالت عظمیٰ اور عدالت ہائے عالیہ کے چیف جسٹس صاحبان کی متعین مدت کےلئے کوئی اقدام نہیں اٹھایاجارہا اور نہ ہی دستور کی شق 209 میں تبدیلی کی جارہی ہے جو اعلیٰ عدالتوں کے ججوں کی سپریم جوڈیشل کونسل کے ذریعہ احتساب سے متعلق ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ ہفتہ کو ایمرجنسی اٹھانے کے انتظامات مکمل کر لئے گئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہنگامی حالت کے خاتمے اور پی سی او ختم کرنے کے حوالے سے آئین میں کوئی پیچیدگی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایمرجنسی اٹھنے کے بعد سارے قوانین نافذ ہو جائیں گے۔ | اسی بارے میں ’پی سی او کے باغی‘ جج نظربند08 December, 2007 | پاکستان عام انتخابات کے بائیکاٹ کی اپیل08 December, 2007 | پاکستان ’عدلیہ بحالی صرف وکلاء کا کام نہیں‘10 December, 2007 | پاکستان عدلیہ کی بحالی، میڈیا کیلیے مظاہرے14 December, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||