’سترہویں ترمیم ختم کروائیں گے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مسلم لیگ قاف نے صدر کو سترہویں آئینی ترمیم کے تحت حاصل اختیارات میں کمی اور پارلیمان کو انیس سو تہتر کے آئین کے مطابق خودمختار بنانے کےحوالے سے سینیٹ میں پیش کیے گئے دو بلوں کی پیروی کرنے کا اعلان کیا ہے ۔ سنیچر کے روز اسلام آباد میں مسلم لیگ قاف کی آئینی کمیٹی کے اجلاس کے بعد ایک نیوز کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے سینیٹر مشاہد حسین نے پیپلز پارٹی کی حکومت پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کو امید تھی کہ حکمران جماعت پارلیمانی نظام کو مضبوط کرنے کے لیے اقدامات کرے گئی لیکن ایسا نہیں کیا گیا ہے ۔ نیوز کانفرنس میں مسلم لیگ قاف کے سربراہ چودھری شجاعت حسین ، سینیٹر وسیم سجاد ، سینیٹر سلیم سیف اللہ اور حامد ناصر چٹھہ سمیت دیگر پارٹی عہدیدارن موجود تھے۔ مشاہد حسین نے بتایا کہ مسلم لیگ قاف نے فیصلہ کیا ہے کہ صدر کو سترہویں آئینی ترمیم کے تحت حاصل اختیارات میں کمی اور پارلیمان کو خود مختار بنانے کے لیے پہلے سے سینیٹ میں انفرادی طور پر پیش کیے گئے دو بلوں کی پیروی کی جائے گئی۔ تاہم بعد میں ضرورت پڑنے پر دونوں بل قومی اسمبلی میں بھی پیش کئے جا سکتے ہیں ۔
یاد رہے کہ مسلم لیگ قاف کے رہنما سینیٹر وسیم سجاد اور سینیٹر سلیم سیف اللہ نے انفرادی طور پر دو بل سینیٹ میں پیش کئے ہوئے ہیں سنیٹیر وسیم سجاد نے نیوز کانفرنس میں بل کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ آئین میں متعدد بار کی گئی ترامیم کی وجہ سے وزیر اعظم کے اختیارات صدر کو منتقل ہو گئے ہیں جس کی وجہ سے ملک میں طاقت کے دو مراکز بن گئے ہیں ۔ وسیم سجاد کے مطابق انہوں نےتقریباً ایک ماہ پہلے سینیٹ میں ایک بل پیش کیا تھا جس کے مطابق صدر کو اٹھاون ٹو بی کے تحت قومی اسمبلی تحلیل کرنے کا اختیار ختم ہونا چاہیے اورانیس سو تہتر کے آئین کے مطابق اسمبلی تحلیل کرنے کا اختیار واپس وزیراعظم کے پاس جانا چاہیے۔ اس کے علاوہ گورنر سے صوبائی اسمبلی تحلیل کرنے کا اختیار واپس لیکر صوبوں کے وزیراعلی کو دیا جائے ۔ جبکہ گورنر کی تقرری کا اختیار بھی وزیر اعظم کے پاس ہونا چاہیے۔ انہوں نے سینیٹ میں پیش کیے گیے بل کی مزید تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ تینوں مسلح افواج کے سربراہان اور چیرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی کی تقرری کا اختیار بھی صدر کے کی بجائے وزیراعظم کے پاس ہونا چاہیے۔ سینیٹ میں مسلم لیگ قاف کے قائد ایوان سینیٹر وسیم سجاد نے کہا کہ بل کی تجاویز کے باعث پارلیمانی نظام میں توازن آئے گا اور بل منظور ہونے سے ملک کے موجودہ جہموری نظام میں نہ صرف بہتری آئے گئی بلکہ جموری ادارے مزید مستحکم ہونگے۔ سینیٹر سلیم سیف اللہ نےنیوز کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ نواز اور متحدہ قومی مومنٹ کی جانب سے بھی سترہویں آئینی ترامیم کے خاتمے کا بل پارلیمان میں پیش کرنے کی خبریں آ رہی ہیں اس لیے وہ سمجھتے ہیں کہ تمام جماعتوں مل کر صدر کے اختیارات میں کمی کے بل کو آگے بڑھائیں ۔ انہوں نے سینیٹ میں پیش کئے گئے اپنے بل کے اہم نکات کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا سیاسی جماعتوں کی طرف ہمیشہ انتخابات کے تنائج پراعتراضات کیے جاتے ہیں اس لیے آئندہ چیف الیشکن کمشنر کی تقرری قائد حزب مخالف کی رضامندی سے کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ سینیٹ میں پیش کئے گئے بل میں صوبوں کو صوبائی خود مختاری دینے کے حوالے متعدد تجاویز دی گئی ہیں جن کے مطابق کنکرنٹ لسٹ میں چھبیس نکات اور فیڈرل لسٹ میں کچھ شقوں کے خاتمے کی تجاویز دی ہیں ۔ انہوں نےکہا کہ چونکہ سینیٹ صوبوں کے حقوق کے تحفظ کا ادارہ ہے اس لیے بل کی رو سے چیف جسٹ آف پاکستان کی تقرری کا اختیار بھی سینیٹ کے پاس ہونا چاہیے۔ واضع رہے کہ مسلم لیگ نواز قومی اسمبلی کے آئندہ سیشن میں سترہویں آئینی ترمیم کے خاتمے کا بل ایوان میں پیش کرنے کا اعلان کیا ہے ۔ | اسی بارے میں آئین میں ترامیم کے چار آرڈیننس14 December, 2007 | پاکستان آئین میں ترامیم کا موسم17 December, 2007 | پاکستان ’میں بھی صدارت کا امیدوار‘31 August, 2007 | پاکستان ’ق‘ بمقابلہ ’ن‘ اشتہاری بازی17 January, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||