BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 13 January, 2009, 11:12 GMT 16:12 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
زیادہ تر ڈکٹیٹر پٹھان تھے: شہبازشریف

شہباز شریف
’پنجاب کے وزیراعلی سے زیادہ ملک کے وزیراعظم ہونے کا تاثر پیش کر رہے تھے‘
پنجاب کے وزیراعلی اور نواز لیگ کے صدر شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان کی سلامتی کو خطرات لاحق ہیں اور پنجاب اور دیگر تین صوبوں کے درمیان تلخیوں کے خاتمے کے لیے ایک نئے سماجی معاہدے کی ضرورت ہے۔

شہباز شریف نے یہ بات صوبہ سندھ اور سرحد سے مدعو کیے گئے صحافیوں سے اپنے دفتر میں گفتگو کے دوران کی۔ ان کی دعوت پر صوبہ سندھ اور سرحد سے دو درجن سے زیادہ صحافی اور کالم نگار لاہور پہنچے تھے۔

انہوں نے پاکستان میں چھوٹے صوبوں سے کی گئی ناانصافیوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اب یہ چھوٹے اور بڑے صوبے کا فرق ختم ہونا چاہیئے ۔

شہباز شریف نے اپنے ابتدائی کلمات میں پاکستان کے ٹوٹنے کے خدشات کا دبے لفظوں میں اظہار کیا اور قومی سطح کے معاملات پر بات کرنا شروع کی تو وہ پنجاب کے وزیراعلی سے زیادہ ملک کے وزیراعظم ہونے کا تاثر پیش کر رہے تھے ۔

شہباز شریف سے پوچھا گیا کہ کیا پنجاب کے طرف سے انہیں سندھ ،بلوچستان اور جنوبی پنجاب کے عوام سے ماضی کی ناانصافیوں پر معافی نہیں مانگنی چاہئے۔

جواب میں شہباز شریف نے کہا کہ ماضی میں پنجاب سے کچھ غلطیاں ضرور ہوئی ہیں مگر ان غلطیوں کے بہانے سے پنجاب کو اس کے نا کردہ گناہوں کی سزا دی جا رہی ہے ۔

انہوں نے پاکستان میں مارشل لا لگانے والے آمروں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان میں سے اکثر پٹھان تھے اور ایک کراچی کا شہری تھا ۔مگر ان کے ظلموں کا بوجھ پنجاب پر ڈالا جا رہا ہے ۔پاکستان کے فوجی آمر ضیا الحق کا تعلق جالندھر سے تھا لیکن وہ اپنی مستقل سکونت پشاور بتاتے تھے۔

شہباز شریف نے کہا کہ تلخ ماضی کو مد نظر رکھتے ہوئے پنجاب کو آگے بڑھ کر صوبوں کے درمیاں نئے سماجی معاہدے کی بات کرنی ہے تاکہ ہم سب ایک ہوسکیں کیونکہ ماضی میں پنجاب کے خلاف غلط پروپیگنڈا کیا جاتا رہا ہے ۔

شہباز شریف نے اپنی گفتگو میں معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی بحالی اور عدلیہ کی آزادی پر زور دیا اور ایک موقع پر کہا کہ یہ ایک شخص کی بحالی کی بات نہیں ہے ۔’ہم جانتے ہیں کہ افتخار چودھری فرشتہ ہیں نہ باقی جج شیطان مگر نظام عدل کو ایک ٹریک پر لانے کی ضرورت ہے‘۔

شہباز شریف نے متنازعہ کالاباغ ڈیم کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ سندھ اور سرحد کے اعتراضات کی وجہ سے ان کی جماعت نےکالاباغ ڈیم کی تعمیر کی مخالفت کی ہے ۔

سندھ اور سرحد کے صحافیوں کی پنجاب کے وزیراعلی سے ملاقات کا بندوبست ان کے تعلقات عامہ کے محکمے ڈی جی پی آر نے کیا تھا ۔ان کے سربراہ معین الدین وانی سے دعوت کے اختتام پر پوچھا کہ بلوچستان کے صحافیوں کو مدعو کیوں نہیں کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ان کے نام دیر سے فائنل ہوسکے مگر ان کی الگ ملاقات کا بندوبست کیا جائیگا ۔

سلمان تاثیرپنجاب کے نئے گورنر
’سیاسی جور توڑ کی ماہر کاروباری شخصیت‘
حکومت پنجاب لوگافسران کی فہرستیں
پنجاب میں سابقہ دور کے افسران کی فہرستیں تیار
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد