BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 29 January, 2009, 19:41 GMT 00:41 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پنجاب بار انتخابات، مِلا جلا نتیجہ

پنجاب بار کونسل صوبے بھر کے وکلاء کی نمائندہ تنظیم ہے جس کے پنجاب بھر سے پچھہتر منتخب ارکان ہیں۔
پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کی صوبائی بار کونسل کے وائس چئرمین اور چئرمین ایگزیکٹو کمیٹی کے عہدوں پر آصف علی ملک اور عارف کمال نون بالترتیب کامیاب ہوگئے ہیں۔

نو منتخب وائس چیئرمین کا تعلق سپریم کورٹ بار کے سابق صدر حامد خان کی قیادت میں قائم پروفیشنل گروپ ہے جبکہ چیئرمین ایگزیکٹو کمیٹی عارف کمال کو اٹارنی جنرل لطیف کھوسہ اور اشرف واہلہ گروپوں کی حمایت حاصل ہے۔

پنجاب بار کونسل صوبے بھر کے وکلاء کی نمائندہ تنظیم ہے جس کے پنجاب بھر سے پچھہتر منتخب ارکان ہیں۔ صوبائی بارکونسل کے وائس چئرمین اور چئرمین ایگزیکٹو کمیٹی کے عہدوں پر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر حامد خان گروپ کے امیدوار کا مقابلہ پیپلز پارٹی کے سینیٹر اور اٹارنی جنرل سردار لطیف کھوسہ اور اشرف واہلہ گروپ کے مشترکہ امیدواروں سے ہوا۔

وائس چئرمین کے عہدے پر حامد خان گروپ کی طرف سے آصف علی ملک جبکہ کھوسہ اور واہلہ گروپ کی جانب سے عمران مسعود امیدوار تھے۔اسی طرح چئرمین ایگزیکٹو کمیٹی کے عہدے کے لیے حامد خان گروپ کے طاہر شبیر اور کھوسہ گروپ کے عارف کمال نون امیدوار تھے۔

پنجاب بار کونسل کے تمام پچھہتر ارکان نے ووٹ ڈالے اور اعلان کردہ نتائج کے مطابق آصف ملک انتالیس ووٹوں سے وائس چئرمین منتخب ہوئے جبکہ ان کے مدمقابل امیدوار عمران مسعود کوچھتیس ووٹ ملے۔ چئرمین ایگزیکٹو کمیٹی کے عہدے پر عارف کمال اڑتالیس ووٹوں سے کامیاب ہوئے جبکہ طاہر شبیر نے تینتیس ووٹ حاصل کیے۔

آصف ملک کی کامیابی پر ان کے حامیوں نے معزول چیف جسٹس کے حق جبکہ عارف کمال کی جیت پر ان ساتھیوں نے آصف علی زرداری کے حق میں نعرے لگائے۔

نومنتخب وائس چئرمین پنجاب بارکونسل آصف ملک نےاس عزم کا اظہار کیا ہے کہ ملک میں عدلیہ کی بحالی کے لیے جاری تحریک کو بھر پور انداز میں آگے بڑھائیں گے۔

دوسری جانب معزول ججوں کی بحالی کے لیے وکلا نے ہفتہ وار احتجاج کرتے ہوئے عدالتوں میں پیش نہیں ہوئے اور احتجاجی اجلاسوں کے بعد جلوس نکالا۔

جلوس سے قبل ایوان عدل میں سپریم کورٹ بار کے صدر علی احمد کرد نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وکلا تحریک کے سامنے ایک آمر نہیں کھڑا ہوسکا اس لیے کوئی طاقت بھی معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو بحال ہونے سے نہیں روک سکتی۔

ان کا کہنا ہے کہ نو مارچ کو لانگ مارچ کے موقع پر شاہراہ دستور تک تمام راستہ صاف ہونا چاہیے۔انہوں نے سول سوسائٹی سمیت تمام طبقات کو لانگ مارچ میں شرکت کرنے کی اپیل کی۔

ادھر لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سیکرٹری اسد اللہ خان نے بار کے اجلاس میں نومارچ کو ہونے والے لانگ مارچ اور دھرنے کے لیے فنڈر قیام کرنے کا اعلان کیا ہے۔

لاہور کی ضلعی بار اور ہائی کورٹ بار کے الگ الگ اجلاسوں کے وکیلوں نے جلوس نکالا جس کی قیادت علی احمد کرد نے کی۔

یہ جلوس لاہور کی ضلعی بار ایسوسی ایشن سے شروع ہوا اور پنجاب اسمبلی کے سامنے پہنچ کر ختم ہوا۔جلوس میں صوبائی وزیر چودھری عبدالغفور کے علاوہ مسلم لیگ نون ، اے پی ڈی ایم میں شامل سیاسی جماعتوں کے کارکنوں اور سول سوسائٹی کے ارکان نے شرکت کی۔

جلوس میں شامل وکیل اور سیاسی کارکنوں نے دھرنے کے حق میں اور صدر آصف علی زرداری کے خلاف نعرے لگائے۔

اسی بارے میں
ججوں کی بحالی تک دھرنا
25 January, 2009 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد