ڈوگر: درخواست کی ازسرنوسماعت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسلام آباد ہائی کورٹ نے چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کی بیٹی فرح حمید ڈوگر کو امتحانی پرچوں کی ری چیکنگ میں اضافی نمبر دینے کے خلاف دائر درخواستوں پر دیئے جانے والے عدالتی فیصلے کے خلاف دائر اپیل سماعت کے لیے منظور کر لی ہے۔ درخواست گزار افتخار حسین راجپوت کی طرف سے بیرسٹر جاوید اقبال جعفری نے ضابطہ دیوانی کی دفعہ بارہ کے سب سیکشن 2 کے تحت دائر کی ہے۔ اس درخواست میں یہ مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ پہلے سے دائر ہونے والی درخواستوں پر عدالت نے جو فیصلہ دیا ہے ان درخواستوں کی سماعت کے دوران تمام پہلوؤں کو اُجاگر نہیں کیا گیا۔ واضح رہے کہ چیف جسٹس سردار محمد اسلم پر مشتمل اسلام آباد ہائی کورٹ کے سنگل بینچ نے فرح حمید ڈوگر کو اضافی نمبر دینے کے خلاف دائر درخواست یہ کہہ کر مسترد کردیں کہ یہ درخواستیں میرٹ پر دائر نہیں کی گئیں تھیں۔ اس فیصلے میں عدالت نے سیکرٹری تعلیم اور دیگر متعلقہ حکام کو ہدایات دی تھیں کہ وہ پرچوں کی ری چیکنگ کے موجودہ قوانین میں ایسی ترامیم کریں جس سے پرچوں کی دوبارہ چیکنگ کا قانون مزید مؤثر ہو۔ جاوید اقبال جعفری کا کہنا تھا کہ اس درخواستوں کی سماعت کے دوران فرح حمید ڈوگر کے وکیل اور سابق اٹارنی جنرل ملک قیوم نے دلائل کے دوران عدالت میں سپریم کورٹ کے فیصلوں کے بارے میں عدالت کو گمراہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ فرح حمید ڈوگر نے کبھی بھی ری چیکنگ کی درخواست نہیں دی تھی۔ اُن کا کہنا تھا کہ عدالت نے اُنہیں نہیں سُنا۔ جاوید اقبال جعفری کا کہنا تھا کہ اُنہوں نے اپنی درخواست میں چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کو بطور فرح حمید ڈوگر کے والد کے عدالت میں طلب کرنے کی استدعا کی تھی لیکن اُس کا جواب نہیں دیا گیا۔ اُنہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ وفاقی تعلیمی بورڈ کے سابق چیئرمین اور دیگر متعلقہ حکام کو دوبارہ عدالت میں طلب کیا جائے۔ عدالت نے اس درخواست کو سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے اس کی سماعت 9 فروری تک ملتوی کر دی۔ دوسری طرف قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم کے چیئرمین عابد شیر علی نے جمعرات کو اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کی بیٹی کو اضافی نمبر دینے کے حوالے سے قوانین اور ضوابط کی دھجیاں اُڑائی گئیں۔ انہوں نے ایک طالبہ کا حوالہ دیا جنہوں نے ری چیکنگ کے لیے درخواست دی تو متعلقہ حکام نے کہا کہ تعلیمی بورڈ کے قانون میں اس طرح کا کوئی قانون موجود نہیں ہے۔ عابد شیر علی نے الزام عائد کیا کہ حکومت اُن افراد کی پُشت پناہی کر رہی ہے جنہوں نے فرح حمید ڈوگر کو اضافی نمبرز دلانے میں کردار ادا کیا۔ انہوں نے طلباء سے کہا کہ وہ نو مارچ کو وکلاء کے لانگ مارچ میں شرکت کریں کیونکہ وکلاء بھی ملک میں آئین اور قانون کی حکمرانی کے لیے ہی جدوجہد کر رہے ہیں۔ | اسی بارے میں قائمہ کمیٹی: حکم کے باوجود بحث15 December, 2008 | پاکستان ’پارلیمانی کمیٹی تحقیقات روک دے‘04 December, 2008 | پاکستان فرح ڈوگر، سپیکر اسمبلی سے مطالبہ06 December, 2008 | پاکستان پارلیمنٹ کا اجلاس بلائیں: نواز شریف02 December, 2008 | پاکستان بیٹی کا داخلہ، کمیٹی کا بائیکاٹ27 November, 2008 | پاکستان ’چیف جسٹس مستعفی ہو جائیں‘26 November, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||