BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 25 January, 2009, 12:10 GMT 17:10 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جماعت الدعوۃ کے لیے ایڈمنسٹریٹر

مرکز میں ہسپتال ، سکول اور طلباء کے ہاسٹل بھی شامل ہیں
پنجاب حکومت نے مذہبی تنظیم جماعت الدعوۃ کے ہیڈاکواٹر مرکز طیبہ میں فلاحی اداروں کا کنٹرول سنبھالتے ہوئے ان کے انتظامات چلانے کے لیے ایڈمنسٹریٹر مقرر کردیا ہے۔

جماعت الدعوۃ کا ہیڈاکواٹر مرکز طیبہ لاہور سے تقریباً پچیس کلو میٹر دور مرید کے میں ہے۔اس مرکز میں ہسپتال ، سکول اور طلباء کے ہاسٹل بھی شامل ہیں۔

وزیر قانون پنجاب رانا ثناء اللہ خان کا کہنا ہے کہ جماعت الدعوۃ کے مرکز میں نگران کی تعیناتی اس لیے عمل میں لائی گئی ہے تاکہ وہاں موجود فلاحی اداروں کا کام متاثر نہ ہو۔

جماعت الدعوۃ کے امیر حافظ سعید کے داماد خالد ولید کے مطابق مرکز میں واقع ہسپتال ، سکول اور دیگر فلاحی اداروں کی نگرانی کے لیے ایک اعلٰی سرکاری افسر خاقان بابر کو ایڈمنسٹریٹر مقرر کیا گیا ہے جبکہ ان کے بقول مرکز میں پولیس کی نفری میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے جماعت الدعوۃ پر پابندی عائد کی ہے جس کے بعد پاکستان کی وفاقی حکومت نے ملک بھر میں جماعتالدعوۃ کے خلاف کارروائی کی اور جماعت کے امیر حافظ سعید سمیت دیگر رہنماؤں کو نظر بند کردیا گیا ہے۔

حکومت پنجاب کی طرف سے مرکز طیبہ میں ایڈمنسٹر مقرر کرنا بھی وفاقی حکومت کی جانب سے جماعت الدعوہ کے خلاف کی جانے والی کارروائی کا تسلسل ہے۔

خاقان بابر کا تعلق ڈی ایم جی یعنی ڈسٹرکٹ مینجمنٹ گروپ سے ہے۔حافظ خالد ولید نے بتایا کہ کمشنر لاہور ڈویژن خسرو پرویز خان اتوار کو پولیس اور سول انتظامیہ کے ہمراہ مرکز طبیہ میں آئے اور مرکز کے مختلف حصوں کا معائنہ کیا۔

خالد ولید نے حکومت کی طرف سے جماعت الدعوۃ کے مرکز میں ایڈمنسٹریٹر مقرر کرنے کی مذمت کی ہے اور کہا کہ پہلے ہی حکومتی کارروائیوں کی وجہ سے مرکز میں واقع ہسپتال میں مریضوں اور سکول میں بچوں کی تعداد میں کمی ہوئی ہے۔

ادھر جماعت الدعوۃ کی ایک پریس ریلیز کے مطابق جماعت کے امیر حافظ سعید نے اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری بان کی مون اور کمیٹی برائے طالبان کے نام ایک خط لکھا ہے جس میں ان سے سلامتی کونسل کی طرف سے جماعت پر عائد کی جانے والی پابندی ختم کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔

خط میں یہ کہا گیا کہ سلامتی کونسل کی طرف سے جماعت الدعوۃ پر پابندی کا یکطرفہ فیصلہ ناانصافی ہے اور جماعت الدعوۃ کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں بلکہ یہ رفاہی کاموں میں مصروف ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد