BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 23 February, 2009, 16:40 GMT 21:40 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
انڈین وفد،نواز شریف سے ملاقات

ممبئی حملوں کے بعد ہندوستان سے پاکستان آنے والا یہ پہلا امن وفد ہے

ہندوستان کی سول سوسائٹی کے تیرہ نمائندوں پر مشتمل وفد نے، جو پاکستان کے دورے پر آیا ہوا ہے، پیر کو رائے ونڈ میں شریف فارم ہاؤس پر مسلم لیگ نون کے قائد اور سابق وزیر اعظم نواز شریف سے ملاقات کی۔

وفد کی سربراہی دانشور اور صحافی کلدیپ نیر کر رہے ہیں اور اس میں فلمساز مہیش بھٹ بھی شامل ہیں۔

امن وفد نے امیر جماعت اسلامی قاضی حسین احمد سے بھی ملاقات کی۔ پاکستانی رہنماؤں نے قیام امن کے لیے مسئلہ کشمیر کے حل کی ضرورت پر زور دیا۔

ملاقات میں پاک بھارت تعلقات، ممبئی حملوں کی تقحیقات اور باہمی دل چسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیاگیا۔ اس ملاقات میں وزیر اعلیْ شہباز شریف ، انسانی حقوق کمیشن کی سربراہ عاصمہ جہانگیر، خواجہ آصف اور آئی اے رحمان بھی موجود تھے۔

ملاقات کے بعد وفد کے رکن کلدیپ نیر نے میڈیا سےگفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان جتنی تیزی سے ممبئی حملوں کے ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کرے گا دونوں ملکوں کے تعلقات کے لیے اتنا ہی اچھا ہوگا۔

ان کے بقول ملاقات میں نواز شریف نے کشمیر کے مسئلہ کے متفقہ حل کی ضرورت پر زور دیا ہے اور کہا کہ کشمیر کا ایسا حل نکالا جائے جو کشمیریوں کے علاوہ بھارت اور پاکستان کو بھی قابل قبول ہو۔

انہوں نے بتایا کہ ملاقات میں نواز شریف نے ان سے کہا کہ دونوں ملکوں کا اب ایجنڈا ایک ہی ہے کہ دہشت گردی کا مقابلہ کیسے کیا جائےگا اور بقول ان کے نواز شریف کا یہ بھی کہنا تھا کہ سول سوسائٹی کو دونوں ملکوں پر دباؤ ڈالنا چاہئے تاکہ ایک مشترکہ لائحہ عمل ترتیب دیا جائے ۔

ایک سوال پر کلدیپ نیر نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کو حل کیے بغیر بھی مذاکرات کامیاب ہوسکتے ہیں کیونکہ اگر کشمیر پر بات کی جائے تو بقول ان کے دیگر امور پر پیش رفت نہیں ہوپائے گی۔

اس سے پہلے بھارتی نمائندوں نے منصورہ میں جماعت اسلامی کی قیادت سے ملاقات کی۔ قاضی حسین احمد نے ملاقات کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر کے مسئلہ کو حل کیے بغیر ددنوں ملکوں کے تعلقات ٹھیک نہیں ہوسکتے۔

بھارتی وفد نے سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کے علاوہ سماجی شخصیات سے بھی ملاقات کیں۔
مبئی حملوں کے بعد یہ پہلا امن وفد ہے جو بھارت سے پاکستان آیا ہے جبکہ پاکستانی سول سوسائٹی کا ایک وفد پہلے ہی بھارت کا دورہ کرچکا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد