’پاک، بھارت تعلقات رپورٹ پر منحصر‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کے دورے سے لوٹنے والے غیر سرکاری پاکستانی امن مشن کے اراکین نے کہا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان مستقبل کے تعلقات کا انحصار ممبئی حملوں کے بارے میں اس جوابی رپورٹ پر ہے جو پاکستان ایک دو روز میں جاری کرنے والا ہے۔ یہ بات انسانی حقوق کمیشن کی سربراہ عاصمہ جہانگیر اور ساؤتھ ایشن فری میڈیا ایسوسی ایشن یعنی سیفما کے سربراہ امتیاز عالم، معروف کالم نویس و دانشورمنو بھائی اور دورۂ بھارت میں شامل وفد کے دیگر اراکین نے سیفماکے دفتر میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں کہی۔ سیفما کے امتیاز عالم نے کہا کہ پچھلے دس برس کے دوران انہیں بھارت کے شہری حلقوں میں ایسا غصہ اور تشویش نظر نہیں آئی جو اس بار تھی۔ ان کے بقول انڈیا میں صبر کاپیمانہ صفر اور اعتماد ختم ہوچکا ہے اور امن کا عمل رک چکا ہے۔ انہوں نے کہا ’آخری لکیر یہ بیان کی جارہی ہے کہ انڈیا کی جانب سے فراہم کی جانے والی معلومات کی بنیادپر پاکستان کیا تفتیش کرتا ہے اور جو ڈوسیئر پاکستان ایک دوروز میں جاری کرنے والا ہے اس پر انحصار ہے کہ پاکستان اور ہندوستان کے تعلقات کا کیا مستقبل ہوگا۔‘
انسانی حقوق کمشن کی سربراہ عاصمہ جہانگیر نے میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ انہیں یہ امید تو پہلے بھی نہیں تھی کہ بھارتی وزیراعظم ان کے استقبال کے لیے پھولوں کے ہار لیے کھڑے ہوں گے لیکن اس کے باوجود بھارتی جنتا پارٹی کے سوا ان کی تمام قابل ذکر سیاسی جماعتوں کے راہنماؤں سے ملاقات ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امن عمل کا مطلب صرف یہی نہیں ہے کہ دونوں طرف کے چند لوگ ایک دوسرے کو لپک لپک کر گلے لگائیں اور اوپری اوپری باتیں کرے واپس چلے جائیں۔ عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ امن مشن کا اصل کام یہ ہے کہ ایک دوسرے کی تشویش کو سنیں اور اسے دور کرنے کی کوشش کریں۔ معروف کالم نگار منو بھائی نے بی بی سی سے گفتگوکرتےہوئے کہا کہ ’وہ ناراض ہیں، انہیں تکلیف پہنچی ہے، وہ زخمی ہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ پہلی بار شدت پسند دونوں ملکوں کے مشترکہ دشمن کے طور پر سامنے آئے ہیں۔‘
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ انڈیا اور پاکستان کے درمیان جاری امن عمل کا ہی نتیجہ ہے کہ ممبئی حملوں کے بعد دونوں ملکوں کی فوجیں ایک دوسرے کے سامنے آکر نہیں کھڑی ہوئیں حالانکہ ماضی میں بھارتی پارلیمان پر حملے کے بعد ایسا ہوگیا تھا۔ سیفما کے سربراہ امتیاز عالم نے خصوصی گفتگو میں کہا کہ ممبئی حملوں کے بعد پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کےسربراہ اگر بھارت چلے جاتے اور ملزمان کے پاکستانی ہونے سے مسلسل انکار نہ کیا جاتا تو شاید دونوں ملکوں کے حالات اتنے خراب نہ ہوتے۔ انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان کی تفتیش انڈیا کی توقعات کے مطابق نہ ہوئی تو مشکلات پیدا ہوں گی، دوطرفہ تعلقات میں سرد مہری آئے گی اورنوبت جنگ تک پہنچ سکتی ہے۔ سیفما کے سربراہ ا نے متنبہ کیا کہ ممبئی حملوں جیسا دوسرا کوئی بھی واقعہ جنگ کا سبب بن سکتا ہے جس سے دونوں ملکوں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔ | اسی بارے میں ’امن مذاکرات جلد از جلد بحال ہوں‘24 January, 2009 | انڈیا سول سوسائٹی امن مشن انڈیا میں21 January, 2009 | پاکستان امن کی بات کرنے والے کہاں ہیں؟04 December, 2008 | پاکستان یومِ آزادی: سرحد پار امن کا پیغام15 August, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||