یومِ آزادی: سرحد پار امن کا پیغام | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان اور بھارت کے یوم آزادی کے موقع پر واہگہ سرحد پر ایک ایسی تقریب ہوئی جس میں سرحد کے آرپار اراکین اسمبلی، صحافی، دانشور اور سول سوسائٹی کے اراکین نے موم بتیاں جلاکر ایک دوسرے کو امن کا پیغام دیا۔ موم بتیاں جلانے کی یہ تقریب جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب کو آدھی رات کے وقت کی گئی جب پاکستان میں یوم آزادی کی تقریبات اختتام کو پہنچ رہی تھیں اور ہندوستان میں ان کا آغاز ہو رہا تھا۔ موم بتیاں جلانے کی تقریب کے لیے واہگہ سرحد پر ’نو مین لینڈ‘ پر پاکستانی اور بھارتی وفد پہنچ گئے اور دونوں وفود نے روشن موم بیتاں کا تبادلہ کیاجبکہ اس موقع پر بھارت کی طرف سے سرحدی دروازے کو کچھ دیر کے لیے کھول دیا گیا۔ پاکستانی وفد کے ارکان نے ’امن ہمارا مستقبل ہے‘ اور ’ ہم مانگیں آزادی‘ کے نعرے لگائے۔ انسانی حقوق کمیشن کی سربراہ عاصمہ جہانگیر نے بی بی سی کو بتایا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان دوستی اور امن کے لیے ایک لمبی جد و جہد کی گئی ہے اور ابتدا میں جب یہ کوششیں کی جا رہی تھیں تو واہگہ پر ہم پر لاٹھیاں برسیائی جاتی تھیں۔ عاصمہ جہانگیر کے بقول دونوں ملکوں کے درمیان امن اور دوستی کی یہ تحریک اب سیمیناروں سے نکل کر سڑکوں پر آگئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ سرحد کے آرپار بہت سے ایسے خاندان ہیں جن میں کچھ ارکان پاکستان اور کچھ بھارت میں رہتے ہیں اس لیے دونوں ملکوں کے درمیان آنے جانے کے لیے ویزا پالیسی کو نرم کیا جائے۔ بھارتی وفد کے رکن کلدیپ نیئر نے آگے بڑھ کر اپنی روشن موم بتی پاکستانی وفد کو دے کر روشن موم بتیوں کا تبادلہ کیا۔ پیپلز پارٹی کے سابق رکن قومی اسمبلی چودھری منظور نے کہا کہ دونوں ملکوں کے لوگ پیار، امن اور دوستی چاہتے ہیں۔ان کے بقول نرم سرحدیں ہونی چاہیے تاکہ دونوں ملکوں کے لوگ صرف اپنا شاختی کارڈر دکھا کر سرحد پار کرسکیں۔ سیفما کے زیر اہتمام پاکستان واہگہ سرحد پر ایک موسیقی میلہ کا بھی اہتمام کیا گیا۔اس موقع پر سیفما کے امتیاز عالم نے خطاب میں کہا کہ ہم بھارت کے ساتھ کچی نہیں بلکہ پکی دوستی چاہتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ دونوں ملکوں کے عوام جنگ نہیں بلکہ امن چاہتے ہیں۔ انہوں نے اس موقع پر گو مشرف گو کے نعرے بھی لگوائے۔ گلوکار ہنس راج ہنس نے کہا کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان امن اور دوستی کو بڑھایا جائے۔ واہگہ سرحد پر پاکستان اور ہندوستان کے یوم آزادی کے موقع پر ہونے والا اپنی نوعیت کے اس پہلے میوزیکل شو میں سیفما کے پاکستانی فنکاروں کے علاوہ بھارتی گلوکار ہنس راج ہنس نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔ | اسی بارے میں جشنِ آزادی پر دو مرکزی تقریبات 14 August, 2008 | پاکستان بھارت کشمیریوں پر ظلم بند کر دے:نواز14 August, 2008 | پاکستان یومِ آزادی پر قوم پرستوں کا یومِ سیاہ14 August, 2008 | پاکستان خیرسگالی: بھارتی ماہی گیر بچے رہا14 August, 2008 | انڈیا لائن آف کنٹرول عبور کرنے کی کوششیں14 August, 2008 | پاکستان یومِ آزادی پر سکیورٹی الرٹ15 August, 2008 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||