BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 15 August, 2008, 03:14 GMT 08:14 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
یومِ آزادی: سرحد پار امن کا پیغام

اس موقع پر سیفما نے ایک موسیقی میلے کا اہتمام کیا

پاکستان اور بھارت کے یوم آزادی کے موقع پر واہگہ سرحد پر ایک ایسی تقریب ہوئی جس میں سرحد کے آرپار اراکین اسمبلی، صحافی، دانشور اور سول سوسائٹی کے اراکین نے موم بتیاں جلاکر ایک دوسرے کو امن کا پیغام دیا۔

موم بتیاں جلانے کی یہ تقریب جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب کو آدھی رات کے وقت کی گئی جب پاکستان میں یوم آزادی کی تقریبات اختتام کو پہنچ رہی تھیں اور ہندوستان میں ان کا آغاز ہو رہا تھا۔

موم بتیاں جلانے کی تقریب کے لیے واہگہ سرحد پر ’نو مین لینڈ‘ پر پاکستانی اور بھارتی وفد پہنچ گئے اور دونوں وفود نے روشن موم بیتاں کا تبادلہ کیاجبکہ اس موقع پر بھارت کی طرف سے سرحدی دروازے کو کچھ دیر کے لیے کھول دیا گیا۔

 بھارتی وفد کے رکن کلدیپ نیئر نے آگے بڑھ کر اپنی روشن موم بتی پاکستانی وفد کو دے کر روشن موم بتیوں کا تبادلہ کیا۔
اس پر موقع پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی ثمینہ گھرکی، انسانی حقوق کمیشن کی سربراہ عاصمہ جہانگیر، پیپلز پارٹی کے سابق رکن قومی اسمبلی چودھری منظور، سیفما کے امتیاز عالم، انسانی حقوق کمیشن کے آئی اے رحمان اور حسین نقی کے علاوہ لاہور پریس کلب کے صدر محسن گوارئیہ سمیت بھارت سے آئے ہوئے صحافی اور دانشور بھی شامل تھے۔

پاکستانی وفد کے ارکان نے ’امن ہمارا مستقبل ہے‘ اور ’ ہم مانگیں آزادی‘ کے نعرے لگائے۔

انسانی حقوق کمیشن کی سربراہ عاصمہ جہانگیر نے بی بی سی کو بتایا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان دوستی اور امن کے لیے ایک لمبی جد و جہد کی گئی ہے اور ابتدا میں جب یہ کوششیں کی جا رہی تھیں تو واہگہ پر ہم پر لاٹھیاں برسیائی جاتی تھیں۔

عاصمہ جہانگیر کے بقول دونوں ملکوں کے درمیان امن اور دوستی کی یہ تحریک اب سیمیناروں سے نکل کر سڑکوں پر آگئی ہے۔

تقریب کا ایک منظر
رکن قومی اسمبلی ثمینہ گھرکی نے بی بی سی کو بتایا کہ سرحد کے آر پار کھڑے وفود نے یہ دعا کی ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان دوستی بڑھے۔ انہوں نے کہا کہ امن اور دوستی ہی پاکستان اور بھارت کے عوام کے لیے بہتر ہے اور دونوں ملک دفاع پر جو اخراجات کرتے ہیں ان کو کم کرکے عوام کی زندگی کو بہتر بنانے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سرحد کے آرپار بہت سے ایسے خاندان ہیں جن میں کچھ ارکان پاکستان اور کچھ بھارت میں رہتے ہیں اس لیے دونوں ملکوں کے درمیان آنے جانے کے لیے ویزا پالیسی کو نرم کیا جائے۔

بھارتی وفد کے رکن کلدیپ نیئر نے آگے بڑھ کر اپنی روشن موم بتی پاکستانی وفد کو دے کر روشن موم بتیوں کا تبادلہ کیا۔

پیپلز پارٹی کے سابق رکن قومی اسمبلی چودھری منظور نے کہا کہ دونوں ملکوں کے لوگ پیار، امن اور دوستی چاہتے ہیں۔ان کے بقول نرم سرحدیں ہونی چاہیے تاکہ دونوں ملکوں کے لوگ صرف اپنا شاختی کارڈر دکھا کر سرحد پار کرسکیں۔

سیفما کے زیر اہتمام پاکستان واہگہ سرحد پر ایک موسیقی میلہ کا بھی اہتمام کیا گیا۔اس موقع پر سیفما کے امتیاز عالم نے خطاب میں کہا کہ ہم بھارت کے ساتھ کچی نہیں بلکہ پکی دوستی چاہتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ دونوں ملکوں کے عوام جنگ نہیں بلکہ امن چاہتے ہیں۔ انہوں نے اس موقع پر گو مشرف گو کے نعرے بھی لگوائے۔

گلوکار ہنس راج ہنس نے کہا کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان امن اور دوستی کو بڑھایا جائے۔ واہگہ سرحد پر پاکستان اور ہندوستان کے یوم آزادی کے موقع پر ہونے والا اپنی نوعیت کے اس پہلے میوزیکل شو میں سیفما کے پاکستانی فنکاروں کے علاوہ بھارتی گلوکار ہنس راج ہنس نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد