BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 14 August, 2008, 15:48 GMT 20:48 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
خیرسگالی: بھارتی ماہی گیر بچے رہا

بھارتی ماہی گیر
کراچی جیل میں رہائی سے پہلے ہندوستانی ماہی گیر بچوں کی گنتی کی جا رہی ہے
پاکستانی حکام نے آزادی کے دن کے موقعے پر یکجہتی کے اظہار کے لیے چونتیس بھارتی ماہی گیر بچوں کو رہا کر دیا ہے۔ یہ بچے گزشتہ چار ماہ سے لیکر دو سال کے عرصے سے کراچی میں بچوں کے جیل میں قید تھے۔

حکومتی فیصلے کے تحت جمعرات کی صبح دس بجے کے قریب انہیں رہا کیا گیا، جس کے بعد انہیں ایک کوچ میں سوار کرکے واہگہ کے لیے روانہ کر دیا گیا جہاں سے جمعہ کو وہ آزادی کے روز وطن روانہ ہوجائیں گے۔

ان بچوں کی ٹرانسپورٹ اور کھانے پینے کا انتظام سائبان نامی سماجی تنظیم کی جانب سے کیا گیا تھا۔

آئی جیل خانہ جات محمد یامین خان کا کہنا تھا کہ ان بچوں کو جذبہ خیر سگالی کے طور پر رہا کیا گیا ہے۔ اس وقت بھی ملیر جیل میں 439 بھارتی ماہی گیر قید ہیں۔

بچوں کی ٹرانسپورٹ اور کھانے پینے کا انتظام کرنے والی تنظیم سائبان کے رہنما سلیم خان کا کہنا تھا کہ پاکستان خیر سگالی کے جذبے کے تحت بھارتی ماہی گیروں کو رہا کر رہا ہے مگر بھارت کی طرف سے اس کا مثبت جواب نہیں دیا جا رہا ہے۔

ان کے مطابق بھارتی جیلوں میں قید پاکستانی قیدیوں پر بے پناہ تشدد کیا جاتا ہے اور کئی ذہنی مریض بن جاتے ہیں جس وجہ سے بے شمار پاکستانی خاندان پریشانی کا شکار ہیں۔

رہائی پانے والے یہ بچے بھارتی صوبے گجرات کے ضلعے جھونا گڑہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان میں سے ایک بچے امولک کا کہنا تھا کہ کوئی سترہ ماہ قبل انہیں پاکستانی نیوی نے گرفتار کیا تھا۔

ان کے مطابق رات کو لنگر ڈال کر کشتی میں سوتے ہوئے سمندر میں سرحد کا پتہ نہیں چلا اور صبح کو گرفتار ہوگئے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہاں قید کے دوران ان پر کسی قسم کا کوئی تشدد نہیں ہوا اور بہت اچھی طرح سے رکھا گیا۔

کرن سریش نامی نو عمر لڑکے کا، جسے چار ماہ قبل گرفتار کیا گیا تھا، کہنا تھا کہ انہیں تو سرحدوں کا کچھ علم نہیں وہ تو مزدور ہیں، جو مینیجر ہوتے ہیں انہیں اس کے بارے میں پتہ ہوتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ کئی چودہ اور پندرہ سال کے چھوٹے بچے تھے جو روز گھر والوں کو یاد کر کے روتے تھے، پھر ایک دوسرے کو مناتے تھے۔ ’کبھی سوچا نہ تھا کہ ایسے رہائی مل جائے گی۔‘

کرن سریش کا کہنا تھا کہ یہاں جو پکڑے گئے ہیں ان میں سے کئی گھر کے واحد کفیل تھے اتنے دن یہاں جیل میں تھے بھارتی حکومت کو ان کی مدد کرنی چاہئیے تھی۔

اسی بارے میں
سولہ بھارتی ماہی گیرگرفتار
05 October, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد