بھارتی ماہی گیر قیدی ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی جیل میں ایک بھارتی ماہی گیر ہلاک ہوگیا ہے، جیل حکام کا کہنا ہے کہ اس کی ہلاکت کرنٹ لگنے کے باعث ہوئی۔ انیس سالہ بھگوان داس عرف بیکھا کو رواں سال 24 اپریل کو دیگر 16 ساتھیوں سمیت پاکستان کی سمندری حدود کی خلاف ورزی کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ لانڈھی جیل کے سپرنٹینڈنٹ نصرت منگھن نے بی بی سی کو بتایا کہ بھگوان داس پیر کی صبح غسل خانے میں گئے تو پانی کی موٹر میں شارٹ سرکٹ ہو گیا جس کے باعث پائپ میں کرنٹ آگیا اور کرنٹ لگنے سے بھگوان کی ہلاکت ہوگئی ۔ انہوں نے اس حوالے سے مزید تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔ جیل حکام کا کہنا ہے کہ محکمۂ داخلہ صوبہ سندھ کو مطلع کردیا گیا ہے جو وفاقی حکومت کو آگاہ کرے گا۔ یاد رہے کہ دو ماہ کے اندر لانڈھی جیل میں دوسرے بھارتی قیدی کی ہلاکت ہوئی ہے، اس سے قبل دو برس سے قید ایک بھارتی ماہی گیر ہلاک ہوگیا تھا۔ جیل حکام کا کہنا ہے کہ لکشمن کی گزشتہ دس روز سے طبیعت ناساز تھی۔ پاکستان کے صرف لانڈھی جیل میں اس وقت تین سو سے زائد بھارتی قیدی موجود ہیں جو تمام ہی ماہی گیر ہیں۔ بھارتی اور پاکستانی ماہی گیر سمندری حدود کی واضح حد بندی نہ ہونے کے سبب ایک دوسرے کی حدود میں داخل ہوجاتے ہیں۔ دونوں ملک اس کے لیے کوئی جامع منصوبہ بندی نہیں کرسکے ہیں۔ تاہم خیرسگالی کے طور پر وقتاً فوقتاً کچھ ماہی گیروں کو رہا کر دیا جاتا تھا۔ اسی سال دونوں ممالک کے وزراء خارجہ کے درمیان اسلام آباد میں طے ہونے والے معاہدے کے تحت مئی میں چھیانوے بھارتی ماہی گیروں کو رہا کیا گیا تھا۔ ان قیدیوں کی رہائی کے لیے دونوں ممالک کی جانب سے ریٹائیرڈ ججوں کی ٹیمیں بھی تشکیل دی گئی ہیں، بھارتی ججوں کی ٹیم نے پندرہ دن قبل پاکستان کی جیلوں میں بھارتی قیدیوں سے ملاقات بھی کی تھی۔ | اسی بارے میں حکومتی ناراضگی کا شکار ماہیگیر21 November, 2006 | پاکستان حکومت کی تلخیوں کا شکار ماہی گیر20 November, 2006 | پاکستان بائیس بھارتی ماہیگیر گرفتار18 October, 2006 | پاکستان رہائشی سکیموں کے خلاف احتجاج11 October, 2006 | پاکستان نیا دبئی اور ماہیگروں کے خواب05 October, 2006 | پاکستان بڑا سیلابی ریلا سندھ میں داخل10 July, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||