حکومتی ناراضگی کا شکار ماہیگیر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پوری دنیا میں اکیس نومبر کو ماہی گیروں کا دن منایا جارہا ہے مگر اس وقت پاکستان اور بھارت کی جیلوں میں چھ سو کےقریب ایسے ماہی گیر قید ہیں جو سمندری حدود کی واضح حد بندی نہ ہونے کی وجہ سے ایک دوسرے کی حدود میں داخل ہوگئے تھے اور گرفتار کر لئےگئے۔ ہر سال ماہی گیروں کی ایک بڑی تعداد فورسز کے ہاتھوں گرفتار ہوتی ہے مگر ابھی تک دونوں ملک اس کے لیے کوئی جامع منصوبہ بندی نہیں کرسکے ہیں۔ تاہم وقفہ وقفہ سے کچھ ماہی گیر رہا کردیئے جاتے ہیں مگر ایسا بھی ہے کہ کچھ لوگ طویل عرصے سے قید ہیں۔ کراچی کی ماہی گیر بستی میں رہنے والی مائی آسی کے پانچ بیٹے گزشتہ تیرہ برسوں سے بھارتی جیل میں قید ہیں۔ ان کی آخری خواہش ہے کہ وہ اپنے بیٹوں سے مل سکیں ۔ وہ بتاتی ہیں کہ اپنے بچوں کی یاد میں آنسو بہا بہا کر ان کی آنکھوں کی بینائی ختم ہوگئی ہے اور وہ بیمار ہیں۔ ان کے مطابق وہ حکومت سے اپیل کرتی رہی ہیں کہ ان کے بچے بھارت سے بلوائے جائیں مگر حکومت ان کی بات نہیں سن رہی۔ ’اب اللہ سے درخواست کی ہے، وہ تو میری کی بات سنے گا‘۔ کسمپرسی کی زندگی گزارنے والی مائی آسی کا کہنا ہے حکومت انہیں انصاف فراہم کرے اور کم از کم پاسپورٹ بناکر دیئے جائیں تاکہ وہ بھارت جاکر اپنے بیٹوں آچار، صدیق، وسایو، حنیف، حسین اور وسایو سے مل سکیں۔ ماہی گیر رہنما محمد علی شاہ کا کہنا ہے کہ پاکستان اور بھارت کی ناراضگیوں کا شکار دونوں ممالک کے ماہی گیر ہوتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ دونوں ممالک کا ماہی گیروں سے رویہ ایسا ہوتا ہے جیسے یہ جنگی قیدی ہوں۔
بھارتی جیل میں قید ماہی گیر محمد حسین کی بیوی سکینہ نے بتایا کہ ان کے شوہر تیرہ سال قبل چوہڑ جمالی سے مچھلی کے شکار کے لیے گئے تھے۔ وہ ماہیگیر ہیں ان کے پاس کوئی منشیات نہیں تھی۔ ان پر جھوٹے الزامات عائد کیئے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے شوہر کا کچھ روز قبل خط آیا تھا جس میں انہوں لکھا ہے کہ حکومت سے مدد لی جائے جب تک حکومت کوشش نہیں کرے گی وہ رہا نہیں ہوسکیں گے۔ ملکی یا بین الاقوامی قوانین ان ماہی گیروں کو تحفظ فراہم نہیں کرسکے ہیں۔ ماہی گیر رہنما محمد علی شاہ کا کہنا ہے اقوام متحدہ کے سمندری قانون کے تحت اگر کوئی ماہی گیر کسی ملک کی حد میں داخل ہوجاتا ہے تو اسے گرفتار نہیں کیا جاسکتا۔ اس لیئے دونوں ملکوں کے حکام ان پر پاسپورٹ ایکٹ یا کسی اور جرم کا الزام عائد کرتے ہیں۔ دونوں ممالک میں ان ماہی گیروں پر مقدمات بھی چلائے جاتے ہیں اور سزائیں بھی ملتی ہیں مگر ان کی رہائی اس وقت ممکن ہوتی جب دونوں ملک بیٹھے کر کوئی معاہدہ کرتے ہیں اور ماہی گیروں کا تبادلہ کیا جاتا ہے۔ دونوں ممالک کو دیگر معاملات کے ساتھ اس مسئلہ کے حل کے لیے بھی کوئی طریقہ وضع کرنا چاہیئے تاکہ ماہی گیروں کو گرفتار ہونے کے بعد جلد وطن واپس بھیجا جاسکے۔ |
اسی بارے میں رہائشی سکیموں کے خلاف احتجاج11 October, 2006 | پاکستان ’نیا دبئی‘ بنانے کا منصوبہ منظور28 September, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||