بائیس بھارتی ماہیگیر گرفتار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی حکام نے سمندری حدود کی خلاف ورزی کرنے کے الزام میں بائیس بھارتی ماہیگیروں کو گرفتار کرلیا ہے۔ ماہیگیروں کا کہنا ہے کہ وہ اپنے ملک کی حدود میں تھے کہ انہیں گرفتار کیا گیا۔ پاکستان کی میری ٹائیم سیکیورٹی ایجنسی کا کہنا ہے کہ بھارتی ماہیگیر پاکستان کی سمندری حدود میں پینتالیس کلومیٹر گھس آئے تھے اور غیر قانونی طور پر مچھلی پکڑ رہے تھے کہ انہیں گرفتار کرکے چار لانچیں ضبط کر لی گئیں۔ سیکیورٹی ایجنسی کے مطابق بھارتی ماہیگیروں کو بار بار وارننگ دی گئی ہے مگر وہ پھر بھی پاکستانی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ ماہیگیروں کو کراچی کے ڈاکس تھانے پر رکھا گیا ہے، جہاں سے انہیں جمعرات کے روز عدالت میں پیش کیا جائیگا۔ لاک اپ میں بھارتی گجرات کے علاقے دھیر کے رہنے والے نرسی بھائی نے بتایا کہ وہ گزشتہ دو دن سے سمندر میں مچھلی کا شکار کر رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ بدھ کی صبح انہوں نے اپنی حدود میں ایک جال ڈالا ہی تھا کہ پاکستانی فورس ظاہر ہوئی اور نیوی کے جہاز نے آخر انہیں پکڑ لیا ۔ جھونا گڑھ کے دہنجی کا کہنا تھا کہ پاکستانی فورس نے ان کے ایک چھوٹے بیٹے اور دو بوڑھوں کو ایک لانچ سمیت چھوڑ دیا اور انہیں ساتھ لے آئی۔ راجا سوما جو پور بند میں رہتے ہیں بتاتے ہیں: ’ہم چار دن سے فشنگ کر رہے تھے، بدھ کے روز پاکستانی فورس نے آکر پکڑ لیا، ہمیں کیا پتہ کہ پاکستان کی حد تھی ہر طرف پانی ہی پانی ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے مجبوری میں ماہیگیری کا کام شروع کیا تھا کیونکہ گاؤں میں کنواں کھارا ہوگیا تھا اور باجرے کے کھیت بھی سوکھ گئے جس کے بعد انہوں نے لانچ پر مزدوری کی۔ واضح رہے کہ پاکستان اور بھارت کی سمندری حدود واضح نہ ہونے کی وجہ سے دونوں ممالک کے ماہیگیر حدود سے باہر نکل جاتے ہیں۔ جس کے بعد ان ماہیگیر قیدیوں کا تبادلہ کیا جاتا ہے۔ | اسی بارے میں چھتیس غیرملکی ماہی گیر گرفتار30 March, 2006 | پاکستان بھارتی ماہی گیروں کی رہائی29 May, 2006 | پاکستان مچھیروں کی رہائی کا اعلان27 May, 2006 | پاکستان رہا کیے گئے ماہی گیر بھارت واپس30 May, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||