قیدیوں تک رسائی کا معاہدہ’تیار‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان اور بھارت نے اسلام آباد میں جاری جامع مذاکرات میں ایک دوسرے کے قیدیوں کی شناخت کے بعد ان کی فوری رہائی میں مدد دینے کے لیے سفارتی رسائی کے معاہدے کو حتمی شکل دے دی ہے۔ توقع ہے کہ اس معاہدے پر بدھ کو دونوں ملکوں کے وزرائے خارجہ کی ملاقات کے بعد دستخط کیے جائیں گے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان محمد صادق نے دونوں ممالک کے خارجہ سیکرٹریوں کی ملاقات کے بعد بتایا کہ دونوں ممالک سیاچن اور سرکریک کے بارے میں بھی معاہدوں کے انتہائی قریب ہیں جو اس وقت حتمی مرحلے میں ہیں۔ سرکاری ذرائع کے مطابق خارجہ سیکرٹریوں کے منگل کے اجلاس میں پاکستان نے پندرہ تجاویز پیش کیں۔ سال دو ہزار تین سے لے کر گزشتہ برس اگست تک وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان اٹھائیس سو سے زائد بھارتی قیدی رہا کر چکا ہے جن میں دو سو چونسٹھ شہری اور پچیس سو انسٹھ ماہی گیر تھے۔ اس کے مقابلے میں بھارت نے صرف آٹھ سو تیئس افراد جن میں تین سو چھیاسی عام شہری تھے رہا کیے ہیں۔ دونوں ممالک کو شکایت رہی ہے کہ ایک دوسرے کے قیدیوں سے جیل میں ملاقات اور رسائی انتہائی مشکل سے مل پاتی ہے۔ پاکستان کا یہ بھی کہنا ہے کہ کئی پاکستانی اپنی قید کی مدت بھی مکمل کر چکے ہیں لیکن انہیں بھارت رہا نہیں کر رہا ہے۔ رسائی نہ ہونے کی وجہ سے پاکستانی وزارت خارجہ کہتی رہی ہے کہ انہیں یہ اندازہ بھی نہیں کہ بھارت میں کتنی تعداد میں پاکستانی قید ہیں۔
تاہم دونوں ممالک نے ایک جوڈیشل کمیٹی تشکیل دی تھی جس نے دونوں ممالک کا دورہ کر کے قیدیوں کی رہائی میں تیزی لانے پر غور کیا تھا۔ اس کے بعد دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے قیدیوں کی فہرستوں کا اس سال اکتیس مارچ کو تبادلہ کیا تھا۔ گزشتہ چند سالوں سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری کے بعد سے دونوں کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کا سلسلہ بھی شروع ہوا ہے۔ اس سال جنوری اور مارچ کے مہینوں میں پاکستان نے سات سو سے زائد بھارتی قیدیوں کو واپس سرحد پار بھیجا تھا جن میں سے بیشتر ماہی گیر تھے۔ بھارت نے بھی پاکستانی قیدیوں کو رہا کیا ہے لیکن حقوق انسانی کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ دونوں ملکوں کی جیلوں میں اب بھی ایک دوسرے کے ان گنت قیدی موجود ہیں جنہیں رہا کیا جانا ضروری ہے۔ بھارتی وزیر خارجہ کی پاکستان آمد کے موقع پر منگل کو پاکستان حکومت نے جذبہ خیر سگالی کے تحت ننانوے بھارتی قیدیوں کو رہا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ان میں چھیانوے مچھیرے اور تین سویلین قیدی شامل ہیں۔ مبصرین کے خیال میں دونوں ممالک کے درمیان قیدیوں سے متعلق معاہدے سے ایک دوسرے کے ہاں برس ہا برس سے قید شہریوں کی جلد رہائی ممکن ہوسکے گی۔ |
اسی بارے میں مذاکراتی عمل آگے بڑھانے پر اتفاق 20 May, 2008 | پاکستان پاک بھارت مذاکرات کا چوتھا دور20 May, 2008 | پاکستان پاک۔ہند مذاکرات پر ملا جلا ردِ عمل20 May, 2008 | پاکستان کشمیر:فائربندی کی خلاف ورزی14 May, 2008 | انڈیا کشمیر جھڑپیں، آٹھ شدت پسند ہلاک17 May, 2008 | انڈیا ’دہشتگردی پر بات چیت ہوگی‘14 May, 2008 | انڈیا خالد کی ہلاکت، خیر سگالی متاثر12 March, 2008 | پاکستان قیدیوں کی رہائی میں تاخیر پرافسوس20 August, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||