BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 20 May, 2008, 08:11 GMT 13:11 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاک بھارت مذاکرات کا چوتھا دور

پاکستانی فوجی
بھارت کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کو چاہیے کہ امن خراب کرنے والے عناصر کی کوششوں کو ناکام بنا دیں
پاکستان اور بھارت کے درمیان جامع مذاکرات کے چوتھے دور کے سلسلے میں خارجہ سیکریٹریوں کی سطح پر بات چیت شروع ہوگئی ہے اور اس موقع پر حکومتِ پاکستان نے جذبہ خیر سگالی کے تحت ننانوے قیدیوں کو رہا کرنے کا اعلان کیا ہے۔

وزارت داخلہ کے بارے میں وزیراعظم کے مشیر رحمٰن ملک نے منگل کو جاری کردہ ایک بیان میں بتایا ہے کہ بھارت کے وزیر خارجہ پرنب مکھرجی کی پاکستان آمد کے موقع پر جذبہ خیر سگالی کے تحت چھیانوے بھارتی مچھیروں اور تین سویلین قیدیوں کو رہا کیا جا رہا ہے۔

اٹھارہ فروری کے عام انتخابات کے نتیجے میں پاکستان میں قائم ہونے والی حکومت کی بھارت کے ساتھ پہلی بار بات چیت ہورہی ہے۔ منگل کو ہونے والی بات چیت میں بھارتی وفد کی قیادت خارجہ سیکریٹری شیو شنکر مینن کر رہے ہیں جبکہ پاکستانی وفد کی سربراہی سلمان بشیر کر رہے ہیں۔

خارجہ سیکریٹریوں کے درمیان منگل کو جن معاملات پر اتفاق رائے ہوگا اس پر دونوں ممالک کے وزراء خارجہ بدھ کو تبادلہ خیال کے بعد اس کا اعلان کریں گے۔
پاکستانی وزارت خارجہ کے ترجمان محمد صادق کے مطابق مذاکرات کے ایجنڈے پر آٹھ نکات ہیں جن میں اعتماد سازی کے اقدامات، جموں و کشمیر، سیاچن، سر کریک، وولر بیراج، دہشت گردی اور منشیات، اقتصادی تعاون اور دوستانہ تبادلوں کا فروغ شامل ہیں۔

کشمیر
سن دو ہزار پانچ میں کشمیر بس سروس شروع ہوئی تھی

پاک بھارت مذاکرات کی کوریج کے لیے کافی تعداد میں بھارتی ذرائع ابلاغ کے نمائندے بھی اسلام آباد پہنچے ہیں اور چوتھے مرحلے کی بات چیت میں سیاچن ، سرکریک اور بعض دیگر امور پر پیش رفت کی توقع کی جا رہی ہے۔

پاکستان کے خارجہ سیکریٹری سلمان بشیر نے حال ہی میں عہدہ سنبھالا ہے جبکہ بھارت کے خارجہ سیکریٹری شیو شنکر مینن اسلام آباد میں ہائی کمشنر بھی رہ چکے ہیں۔

بھارتی وزیر خارجہ پرنب مکھرجی منگل کی شام پاکستان پہنچ رہے ہیں اور ان کے پاکستان میں قیام کے دوران صدر پرویز مشرف، وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی، پیپلزپارٹی کے شریک چئرمین آصف علی زرداری اور مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔

واضح رہے کہ پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے جامع مذاکرات سے چند روز قبل پاکستان اور بھارت کے زیر انتظام کشمیر کی سیاسی جماعتوں کے نمائندوں سے مشاورت کی تھی اور انہیں یقین دلایا تھا کہ مسئلہ کشمیر کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل کیا جائے گا۔

پاک بھارت مذاکرات اس وقت ہو رہے ہیں جب ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں کنٹرول لائن کے قریب ضلع پونچھ کے منیڈ سیکڑ میں فائرنگ کے ایک واقعے میں ہندوستانی فوج کا ایک جوان ہلاک اور چھ زخمی ہوگئے ہیں۔ بھارتی فوج نے الزام عائد کیا ہے کہ پاکستان نے دس روز میں دوسری مرتبہ چار سالہ فائر بندی معاہدہ کی خلاف ورزی کی ہے۔

اس سے قبل بھارت کے شہر جے پور میں یکے بعد دیگرے متعدد بم دھماکے بھی ہوئے تھے جس پر بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ نے اپنے رد عمل میں کہا تھا کہ اس کا مقصد پاک بھارت تعلقات کو نقصان پہنچانا تھا۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کو چاہیے کہ وہ ایسے مقاصد رکھنے والے عناصر کی کوششوں کو ناکام بنا دیں۔

عروج بسمہ مدد کی اپیل
’نانی سے ملنے بھارت گئے تھے اور گرفتار ہوگئے‘
منا باؤکیسا بھائی چارہ
بھارت میں کچھی افراد کی گرفتاری کے خلاف مظاہرہ
دس سالہ زوہیبپاکستانی بچے واپس
بھارت پہنچنے والے لڑکے اب والدین کے حوالے
کشمیر سنگھ کشمیر سنگھ کی رہائی
بھارتی قیدی پینتیس سال بعدگھر واپس جائے گا
بے مثال مدد کی
مہمان بھارتی خاندانوں کی مدد کی: دفترخارجہ
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد