BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 20 May, 2008, 14:08 GMT 19:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاک۔ہند مذاکرات پر ملا جلا ردِ عمل

سردار عبدالقیوم
’کشمیری عسکریت پسندوں کوبھی بات چیت کےعمل میں شریک کیا جائے‘
پاکستان اور بھارت کے درمیان وزرائے خارجہ کے درمیان مذاکرات کے بارے میں پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے سیاسی رہنماؤں نے ملے جلے رد عمل کا اظہار کیا ہے۔ کچھ نے اس کو خوش آئند اور بعض نے اس کو لاحاصل مشق قرار دیا۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکمران جماعت مسلم کانفرنس کے سرپرست اور سابق وزیر اعظم سردار عبدالقیوم خان نے دونوں ملکوں کے وزرائے خارجہ کے درمیان ملاقات کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ دونوں ملکوں کی حکومتوں کی نیک نیتی کا اظہار ہے۔

اس موقع پر انہوں نے دونوں ملکوں کو یہ تجویز دی کہ کشمیری عسکریت پسندوں کو بھی بات چیت کے عمل میں شریک کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ ہندوستان اور پاکستان کشمیر میں فوج کی تعداد کم کریں، کشمیر کے دونوں حصوں کے درمیان تجارت کا آغاز کیا جائے، بھارت کے زیر انتظام کشمیر ظلم و زیادتیاں بند کی جائیں اور بھارتی جیلوں میں قید کشمیریوں کو رہا کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ ہندوستان اور پاکستان کے وزرائے خارجہ ان اقدامات پر عمل در آمد کے لیے مختصر مدت کا تعین کریں اور یہ کہ ان اقدامات پر عمل درآمد کے نتیجے میں مسئلہ کشمیر کے حل میں مدد ملے گی۔

پاک۔بھارت مذاکرات: فائل فوٹو
پاک۔بھارت مذاکرات کا یہ چوتھا دور ہے

لیکن کشمیر کے اس علاقے کی جماعت اسلامی کے سربراہ اعجاز افضل نے دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات کو لاحاصل مشق قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہندوستان دانستہ طور پر مسئلہ کشمیر کو ہندوستان اور پاکستان کے درمیان دو طرفہ مسئلہ اور زمینی تنازعہ بنا رہا ہے۔

ان کا کہنا کہ مذاکرات اسی صورت میں بامقصد اور نتیجہ خیز ثابت ہوسکتے ہیں جب ان میں کشمیری قیادت کو شامل کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ کشمیریوں نے کسی کو بھی اپنے مستقبل کے فیصلہ کرنے کا حق نہیں دیا خواہ وہ پرویز مشرف ہوں یا پھر شاہ محمود قریشی۔

خود مختار کشمیر کی حامی تنظیم جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے سربراہ نے کہا کہ ان کو ہندوستان اور پاکستان کے درمیان مذاکرات سے کوئی امید نہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم ہندوستان اور پاکستان کی حکومتوں کو واضع کرنا چاہتے ہیں کہ ہمیں کشمیر کی تقسیم کسی بھی صورت منظور نہیں۔

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں برسرپیکار کئی کشمیری عسکری تنظیموں کے اتحاد متحدہ جہاد کونسل نے بھی وزرائے خارجہ کے درمیان بات چیت کو بے معنی اور غیر حقیقت پسندانہ طرز عمل ہے۔

متحدہ جہاد کونسل کے سربراہ سید صلاح الدین نے اپنے بیان میں کہا کہ کشمیری عوام کو پاک بھارت دو طرفہ مذاکرات سے پہلے کوئی امید تھی اور نہ ہی اب ہے ۔

 گذشتہ آٹھ برسوں سے جاری امن کے عمل کے نتیجے میں کشمیریوں کو کوئی راحت نہیں ملی بلکہ ساڑھے سات لاکھ بھارتی فوج کی طرف سے کشمیری عوام پر مظالم میں اضافہ ہوا۔
سید صلاح الدین

انہوں نے کہا کہ’ ان مذاکرات میں بنیادی مسئلہ، مسئلہ کشمیر کو نظر انداز کیا جارہا ہے اور سرکریک ، سیاچن ، وولیر بیراج ، بگلیہار ڈیم ، کشمیر کے دونوں حصوں کے درمیان بس سروس اور تجارت جیسے ثانوی معاملات پر بات چیت ہوتی ہے حالانکہ یہ معاملات بنیادی مسئلہ کشمیر کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔‘

انہوں نے کہا ’گذشتہ آٹھ برسوں سے جاری امن کے عمل کے نتیجے میں کشمیریوں کو کوئی راحت نہیں ملی بلکہ ساڑھے سات لاکھ بھارتی فوج کی طرف سے کشمیری عوام پر مظالم میں اضافہ ہوا۔‘

انہوں نے کہا کہ ایک طرف مذاکرات کا ڈھونگ رچایا جا رہا ہے اور دوسری جانب بھارتی افواج کی طرف سے کشمیری قوم پر ظلم وجبر’قتل وغارت‘ آبروریزی اور گھیراؤجلاؤ جاری ہے۔

’ بھارت مسئلہ کشمیر کو حل کرنے میں سنجیدہ اور مخلص نہیں بلکہ وہ وقت حاصل کرنا چاہتا ہے تاکہ کشمیریوں کی تحریک دم توڑ جائے۔‘

انہوں نے مزید کہا ’ بھارت دنیا کے آنکھوں میں دھول جھونک رہا ہے کہ مسئلہ کشمیر ہندوستان اور پاکستان کا معاملہ ہے اور اس کے حل کے لئے دو طرفہ مذاکرات ہورہے ہیں۔‘

سید صلاح الدین نے کہا کہ وہ پاکستان کی حکومت سے یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ بھارت کے ساتھ بے مقصد مذاکرات کے بجائے بنیادی مسئلہ کشمیر پر کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق ٹھوس بنیادوں پر بامعنی اور نتیجہ خیز بات چیت کرے۔

جہاد کونسل کے سربراہ نے کہا کہ جب تک کشمیر کی متنازعہ حثیت تسلیم نہیں کی جاتی اور ہندوستان اور پاکستان کشمیری قیادت کو مذاکرات میں شامل کرکے سہ فریقی بات چیت شروع نہیں کرتے اس وقت تک دو طرفہ بات چیت بے سود اور فضول مشق ہوگی۔

عروج بسمہ مدد کی اپیل
’نانی سے ملنے بھارت گئے تھے اور گرفتار ہوگئے‘
منا باؤکیسا بھائی چارہ
بھارت میں کچھی افراد کی گرفتاری کے خلاف مظاہرہ
دس سالہ زوہیبپاکستانی بچے واپس
بھارت پہنچنے والے لڑکے اب والدین کے حوالے
کشمیر سنگھ کشمیر سنگھ کی رہائی
بھارتی قیدی پینتیس سال بعدگھر واپس جائے گا
بے مثال مدد کی
مہمان بھارتی خاندانوں کی مدد کی: دفترخارجہ
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد