مذاکراتی عمل آگے بڑھانے پر اتفاق | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان اور بھارت نے دونوں ممالک کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔ اس بات کا اعلان منگل کو خارجہ سیکریٹریوں کی سربراہی میں دونوں ممالک کے وفود کے اجلاس کے بعد جاری کردہ مشترکہ بیان میں کیا گیا۔ بیان میں بتایا گیا ہے کہ فریقین نے جامع مذاکرات کو آگے بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔ اب بدھ کو پاکستانی اور بھارتی وزرائے خارجہ چوتھے مرحلے میں ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیں گے اور آئندہ مرحلے کی بات چیت کا شیڈول بھی طے کریں گے۔ اٹھارہ فروری کے عام انتخابات کے نتیجے میں پاکستان میں قائم ہونے والی حکومت کی بھارت کے ساتھ پہلی بار بات چیت ہو رہی ہے۔ منگل کو ہونے والی بات چیت میں بھارتی وفد کی قیادت خارجہ سیکریٹری شیو شنکر مینن جبکہ پاکستانی وفد کی سربراہی سلمان بشیر نے کی۔ واضح رہے کہ جنوری سن دو ہزار چار سے پاکستان اور بھارت نے جن آٹھ نکات پر چار مراحل میں بات چیت کی ہے ان میں امن و سلامتی بشمول اعتماد سازی کے اقدامات، جموں و کشمیر، سیاچن، سر کریک، وولر بیراج یا تُل بُل ، دہشت گردی اور منشیات، اقتصادی تعاون اور دوستانہ تبادلوں کا فروغ شامل ہیں۔ ادھر بھارت کے وزیر خارجہ پرنب مکھرجی اسلام آباد پہنچ گئے ہیں اور انہوں نے پنجاب ہاؤس میں مسلم لیگ (ن) کے سربراہ میاں محمد نواز شریف سے ملاقات کی ہے۔ بھارتی ہائی کمیشن سے جاری ہونے والے بیان میں بتایا گیا ہے پرنب مکھرجی نے کہا ہے کہ چوتھے مرحلے کی بات چیت میں قابل ذکر حد تک پیش رفت ہوئی ہے جو پانچویں مرحلے کے لیے بہترین بنیاد فراہم کرے گی۔
ان کے مطابق سیاسی، اقتصادی اور علاقائی شعبوں میں تعاون کے لیے ان کے پاس غور اور عمل کے لیے کئی تجاویز ہیں۔ ’ہمیں آئندہ مرحلے کی بات چیت میں تعاون، بھروسہ اور عملیت پسندی کے جذبے کے ساتھ دیکھنا ہوگا۔ اس کا انحصار دہشت گردی اور تشدد سے پاک ماحول پر ہے‘۔ پرنب مکھرجی نے اپنے بیان میں بینظیر بھٹو کو زبردست خراج پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی جدائی اب بھی ایک تازہ زخم کی طرح ہے، نہ صرف پاکستان بلکہ پورا خطہ ایک کرشماتی رہنما سے محروم ہوگیا ہے۔ ’ہمیں اپنے باہمی مستقبل کی خاطر دہشت گردی کی لعنت سے نمٹنے کے لیے مل جل کر کام کرنا چاہیے، جو کہ بینظیر بھٹو کی یاد اور ورثے کے لیے بھی ایک بھرپور خراج ہوگا‘۔ بیان میں بھارتی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ ’اب کی بار بات چیت ایک نئے جمہوری ماحول میں ہورہی ہے اور ہم پاکستانی عوام کو کامیاب الیکشن پر مبارکباد دیتے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ امن و سلامتی، استحکام اور اقتصادی ترقی جیسے معاملات کو حل کرنے میں موجودہ ماحول مددگار ثابت ہوگا‘۔ بھارتی وزیر خارجہ پاکستان میں قیام کے دوران صدر پرویز مشرف، وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی اور پیپلزپارٹی کے شریک چئرمین آصف علی زرداری سے بھی ملیں گے۔ بھارتی وزیر خارجہ کی پاکستان آمد کے موقع پر پاکستان حکومت نے جذبہ خیر سگالی کے تحت ننانوے بھارتی قیدیوں کو رہا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ان میں چھیانوے مچھیروں اور تین سویلین قیدی شامل ہیں۔
واضح رہے کہ پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے جامع مذاکرات سے چند روز قبل پاکستان اور بھارت کے زیر انتظام کشمیر کی سیاسی جماعتوں کے نمائندوں سے مشاورت کی تھی اور انہیں یقین دلایا تھا کہ مسئلہ کشمیر کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل کیا جائے گا۔ حالیہ پاک بھارت مذاکرات ایک ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں کنٹرول لائن کے قریب ضلع پونچھ کے منڈھر سیکڑ میں فائرنگ کے ایک واقعے میں ہندوستانی فوج کا ایک جوان ہلاک اور چھ زخمی ہوئے ہیں اور بھارتی فوج نے الزام عائد کیا ہے کہ پاکستان نے دس روز میں دوسری مرتبہ چار سالہ فائر بندی معاہدہ کی خلاف ورزی کی ہے۔ اس سے قبل بھارت کے شہر جے پور میں یکے بعد دیگرے متعدد بم دھماکے بھی ہوئے تھے جس پر بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ نے اپنے رد عمل میں کہا تھا کہ اس کا مقصد پاک بھارت تعلقات کو نقصان پہنچانا تھا۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کو چاہیے کہ وہ ایسے مقاصد رکھنے والے عناصر کی کوششوں کو ناکام بنا دیں۔ |
اسی بارے میں کشمیر:فائربندی کی خلاف ورزی14 May, 2008 | انڈیا کشمیر جھڑپیں، آٹھ شدت پسند ہلاک17 May, 2008 | انڈیا ’دہشتگردی پر بات چیت ہوگی‘14 May, 2008 | انڈیا خالد کی ہلاکت، خیر سگالی متاثر12 March, 2008 | پاکستان قیدیوں کی رہائی میں تاخیر پرافسوس20 August, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||