BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جیل میں بھارتی ماہی گیر ہلاک

بھارتی ماہی گیر (فائل فوٹو)
پاکستان اور بھارت گزشتہ برسوں کے دوران جذبۂ خیرسگالی کے تحت ماہی گیر رہا کرتے رہے ہیں
کراچی کی ایک جیل میں گزشتہ دو برس سے قید ایک بھارتی ماہی گیر ہلاک ہوگیا ہے۔ جیل حکام کا کہنا ہے کہ لکشمن کی گزشتہ دس روز سے طبیعت ناساز تھی۔

آئی جی جیل خانہ جات محمد یامین نے بی بی سی کو بتایا کہ پینتیس سالہ لکشمن ولد کانجی کو دس فروری دو ہزار چھ کو پاکستان کی سمندری حدود کی خلاف ورزی کرنے کے الزام میں دیگر ساتھیوں سمیت گرفتار کیا گیا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ گزشتہ دس روز سے لکشمن کو پیٹ میں تکلیف اور دست کی شکایت تھی۔ ان کا جیل کے ہسپتال میں ہی علاج کیا جارہا تھا جہاں جمعرات کی شام ان کا انتقال ہوگیا۔

آئی جی کے مطابق مجسٹریٹ کو بلاکر لاش کا معائنہ کروایا گیا جس کے بعد لاش پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دی گئی ہے۔

انہوں نے تشدد کے امکان کو رد کر دیا اور بتایا کہ لانڈھی جیل میں تمام بھارتی ماہی گیر ہی بیرک میں رہتے ہیں جہاں تشدد ممکن نہیں ہے۔

یامین خان نے بتایا کہ حکومت پاکستان بھارتی حکام کو آگاہ کرے گی۔ انہوں نے محکمۂ داخلہ صوبہ سندھ کو مطلع کردیا ہے جو وفاقی حکومت کو آگاہ کرے گا۔

جیل حکام کے مطابق پاکستان کی حراست میں اس وقت 431 بھارتی ماہی گیر ہیں جو تمام کراچی کی لانڈھی جیل میں قید ہیں۔

بھارتی اور پاکستانی ماہی گیر سمندری حدود کی واضح حد بندی نہ ہونے کے سبب ایک دوسرے کی حدود میں داخل ہوجاتے ہیں۔

دونوں ملک اس کے لیئے کوئی جامع منصوبہ بندی نہیں کرسکے ہیں۔ تاہم خیرسگالی کے طور پر وقتاً فوقتاً کچھ ماہی گیروں کو رہا کر دیا جاتا تھا۔ تاہم یہ سلسلہ بھی ایک برس سے بند ہے۔

واضح رہے کہ حراست میں بھارتی ماہی گیر کی ہلاکت کا یہ واقعہ ان دنوں پیش آیا ہے جب پاکستان اور بھارت میں قیدیوں کے معاملے پر قدرے تلخی پائی جاتی ہے۔

رواں ماہ کی تین تاریخ کو پاکستان میں تقریباً پینتیس برس سے قید بھارتی شہری کشمیر سنگھ کو رہا کر دیا گیا تھا، جنہوں نے اپنے ملک پہنچ کر اعتراف کیا تھا کہ وہ جاسوسی کرنے پاکستان گئے تھے۔ انہیں دنوں ایک پاکستانی شہری خالد محمود کی بھارتی جیل میں موت پر شدید ردعمل سامنے آیا تھا۔

ان دونوں واقعات کے بعد صدر پرویز مشرف نے پاکستان میں جاسوسی کے الزام میں قید بھارتی شہری سربجیت سنگھ کے موت کے پروانے پر دستخط کردیئے تھے مگر بھارتی حکومت کی اپیل پر پھانسی کے فیصلے کو تیس اپریل تک مؤخر کردیا گیا ہے۔

 کشمیر سنگھ’میں جاسوس تھا‘
کشمیر سنگھ نے کہا کہ وہ اپنی ڈیوٹی کر رہے تھے
اسی بارے میں
’سربجیت کو معاف کردیں‘
20 March, 2008 | پاکستان
پندرہ سال سے قید ماہی گیر
14 March, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد