’سربجیت کو معاف کردیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں جاسوسی اور بم دھماکوں کے الزام میں گرفتار کیے جانے والے بھارتی جاسوس سربجیت سنگھ کے بارے میں بھارتی حکومت نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ اُسے انسانی بنیادوں پر معافی مل جائے گی۔ واضح رہے کہ صدر مشرف نے جاسوسی کے الزام میں موت کی سزا پانے والے بھارتی شہری سربجیت سنگھ کے موت کے پروانے پر دستخط کر دیے ہیں جس کے مطابق انہیں یکم اپریل کو پھانسی دی جانی تھی۔ تاہم بھارتی حکومت کی درخواست پر اس سزا پر عملدرآمد ایک ماہ کے لیے مؤخر کردیا گیا ہے۔ اسلام آباد میں بھارتی ہائی کمیشن سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ پھانسی کے حکم پر عملدرآمد ایک ماہ تک مؤخر ہونے کے بعد سربجیت کو معافی کے لیے دوبارہ اپیل دائر کرنے کا موقع مل جائے گا ۔ بیان میں اس امید کا اظہار کیا گیا ہے کہ پاکستان میں بننے والی حکومت سربجیت سنگھ کی سزا کی معافی کی درخواست کے ہر پہلو پر غور کرے گی۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ بھارتی پارلینمٹ میں سربجیت سنگھ کی پھانسی کے حکم پر ایک ماہ تک عملدرآمد نہ کرنے کے فیصلے کو سراہا گیا ہے۔ انسانی حقوق کیمشن آف پاکستان نے بھی سربجیت سنگھ کی موت کی سزا پر علمدرآمد ایک ماہ تک مؤخر کرنے کے فیصلے کو سراہا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ برصغیر کے عوام کے وسیع تر مفاد میں سربجیت سنگھ کے کیس کا دوبارہ جائزہ لیا جائے۔
انسانی حقوق کمیشن کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان تعلقات میں سرد مہری کی وجہ سے علاقے کے کروڑوں عوام شدید متاثر ہوئے ہیں اور ایک دوسرے کے قیدیوں کے ساتھ نارواسلوک ان تعلقات میں بہتری کی بجائے ان میں بگاڑ پیدا کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی شہری خالد محمود کی بھارتی جیل میں موت پر پاکستان میں شدید غم وغصہ پایا جاتا ہے اور اس واقعہ کی شدید مذمت کی گئی ہے۔ کمیشن نے اس واقعہ کی انکوائری کا مطالبہ کیا۔ بیان میں کہاگیا ہے کہ ملک میں نئی حکومت کے قیام کے بعد پاکستان ایک نئے دور میں داخل ہو رہا ہے اور امید ظاہر کی گئی ہے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانا نئی حکومت کی اولین ترجیحات میں سے ایک ہوگا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ انسانی حقوق کمیشن اصولی طور پر سزائے موت کے خلاف ہے اور دنیا کے اس حصے میں انصاف کے نظام میں نقائص کی وجہ سے کمیشن نے ہمیشہ لچک اور معافی دینے کے موقف کی حمایت کی ہے۔ واضح رہے کہ سربجیت سنگھ کو سنہ انیس سو اکانوے میں پاکستان میں جاسوسی اور مختلف بم دھماکوں کے الزامات پر موت کی سزا سنائی گئی تھی۔ ان بم دھماکوں میں چودہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ تاہم سربجیت کا کہنا ہے کہ وہ غلط شناخت کی سزا بھگت رہے ہیں۔ پاکستانی اہلکاروں کا موقف ہے کہ انہیں اس وقت پکڑا گیا جب وہ بم دھماکوں کے بعد سرحد پار کر کے بھارت جانے کی کوشش کر رہے تھے۔ اس ماہ کے آغاز میں صدر مشرف نے کشمیر سنگھ کی سزا معاف کر کے انہیں رہا کر دیا تھا۔ کشمیر سنگھ جاسوسی کے الزام میں پینتیس سال پاکستان کی مختلف جیلوں میں قید رہے۔ تاہم ان کی واپسی پر بھارت میں متنازعہ بیان اور ایک پاکستانی قیدی کی لاش کی واپسی نے مبصرین کے نزدیک بظاہر سربجیت کا کیس مشکل بنا دیا ہے۔ | اسی بارے میں سربجیت سنگھ: پھانسی کا فیصلہ ہوگیا18 March, 2008 | پاکستان سربجیت سنگھ کا بلیک وارنٹ17 March, 2008 | پاکستان سربجیت کی سزائے موت برقرار09 March, 2006 | پاکستان پندرہ سال سے قید ماہی گیر14 March, 2008 | پاکستان پینتیس برس بعد کشمیر آزاد03 March, 2008 | پاکستان بھارتی قیدی: پینتیس برس بعد رہائی29 February, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||