BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 14 March, 2008, 16:34 GMT 21:34 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پندرہ سال سے قید ماہی گیر

آچر کی اہلیہ
ہم نے تو اپنے کفیل پر صبر کرلیا ہے لیکن حکومت میری بیٹی کی شادی کرنے میں میری مالی مدد کرے: آچر کی اہلیہ
’ہمارے والدیں کیسے ہیں؟ کہاں اور کس کے ساتھ رہ رہے ہیں؟ بھائیوں نے ہم کو ابھی کوئی لیٹر نہیں لکھا۔ کیا ہم سے ناراض ہو؟ ہم آپ کو ہر وقت یاد کرتے ہیں۔ آج بارہ واں رمضان المبارک ہے۔ ہم روزے میں ہیں۔ ہم پر نارکاٹکس کا کیس درج ہے اور ہم کو سترہ سال کی سزا سنائی ہے۔ اب بارہ سال گزر چکے ہیں، تیرہ واں سال شروع ہو چکا ہے۔ میری گھر والی سکینہ اور بہن کریمہ اور باقی سب گھروالوں اور تمام گاؤں والوں کو سلام عرض کرنا اور دعا کی درخواست کرنا۔‘

یہ صرف الفاظ نہیں بلکہ ہندوستان کی جیل میں گزشتہ پندرہ برسوں سے قید پانچ پاکستانیوں نے اپنے جذبات کا اظہار اپنے اہلِ خانہ کو بھیجے گئے دو خطوط کے ذریعے کیا۔

ان پاکستانی ماہی گیروں کے اہلِ خانہ گزشتہ پندرہ برسوں کے عرصے میں اُن کے صرف چار خطوط پا سکے ہیں۔ ان خطوط سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اُنہیں اہلِ خانہ کی جانب سے بھیجے گئے خطوط نہیں ملے۔

’زندگی میں ہم نے جو سُنا تھا وہ حقیقت ہے کہ مصیبت میں سب ساتھ چھوڑ جاتے ہیں۔ آج خبر ملی کون سچا ہے کون جھوٹا۔‘

شاہ بندر کے ساحل کے سمندری حدود سے گرفتار ہونے والے ماہی گیر حُسین، صدیق، آچر، میتھن وسایو اور حنیف کا تعلق ضلع ٹھٹھ کے شہر چوہڑ جمالی سے ہے اور ماہی گیری کے ذریعے اپنے اہلِ خانہ کا پیٹ پالتے تھے۔

کراچی میں ماہی گیروں کی بستی ابراھیم حیدری میں آج کل ان ماہی گیروں کے اہلِ خانہ بھی آباد ہیں جن کی ایک نسل اپنے کفیلوں کو دیکھے بغیر جوان ہوئی ہے۔

 پاکستان میں قید ماہی گیروں کے اہلِ خانہ کو بھارتی حکومت ماہانہ تین ہزار روپے وظیفہ دیتی ہے۔ مگر ہمارے ملک میں ان خاندانوں کی کوئی امداد نہیں کی جاتی۔ جبکہ ایک مخیر خاتون کی جانب سے حُسین کے اہلِ خانہ کو جھونپڑی بنانے کے لئے زمین کا ایک حصہ مل گیا ہے۔
سامی میمن

آچر کو جس وقت گرفتار کیا گیا اُس وقت اُس کی اکلوتی بیٹی صرف تین ماہ کی تھی۔ آچر کی اہلیہ کہتی ہیں ’ہم نے تو اپنے کفیل پر صبر کر لیا ہے۔ لیکن حکومت میری بیٹی کی شادی کرنے میں میری مالی مدد کرے کیونکہ اب اُس کا کوئی پرسانِ حال نہیں ہے۔‘

کچھ ایسا ہی حال صدیق کے دو بیٹوں کا بھی ہے جنہیں اپنے والد کی شکل بھی یاد نہیں۔

میتھن اور حنیف جب گرفتار ہوئے تھے اُن دنوں وہ اپنی شادی کی تیاریوں میں مگن تھے۔ دونوں کی منگنیاں تو ہو چکی تھیں مگر شادی کے لیے رقم جمع کرنے کی دھن اُن پر سوار تھی۔ شاید اسی دھن میں اُنہیں سمندری حدود کا اندازہ نہیں رہا۔

گرفتار پاکستانی ماہی گیروں کے اہلِ خانہ ان پڑھ ہیں۔ بالخصوص خواتین جو یہ بھی نہیں بتا سکتیں کہ اُن کے کفیل کب گرفتار ہوئے۔

آچر کی اہلیہ کہتی ہیں کہ اُس کے شوہر بیس سال پہلے گرفتار ہوئے جبکہ حُسین کی والدہ کے مطابق یہ واقعہ اس سے بھی پہلے کا ہے۔

درحقیقت ان پانچ ماہی گیروں کو بھارتی حکام نے انیس سو ترانوے میں کراچی کے قریب کھلے سمندر سےگرفتار کیا تھا۔ یہ وہی دور تھا جب پاکستان اور ہندوستان کے درمیان تناؤ کی کیفیت پائی جاتی تھی۔

آچر کی بیٹی
آچر کی بیٹی جو اُس کی گرفتاری کے وقت تین ماہ کی تھی

’پاکستان فشر فوک فورم‘ کے ترجمان سامی میمن کا کہنا ہے ’پاکستان میں قید ماہی گیروں کے اہلِ خانہ کو بھارتی حکومت ماہانہ تین ہزار روپے وظیفہ دیتی ہے۔ مگر ہمارے ملک میں ان خاندانوں کی کوئی امداد نہیں کی جاتی۔ جبکہ ایک مخیر خاتون کی جانب سے حُسین کے اہلِ خانہ کو جھونپڑی بنانے کے لئے زمین کا ایک حصہ مل گیا ہے۔‘

سامی میمن کا کہنا ہے کہ زیادہ تر پاکستانی ماہی گیر واہ، سہنی، ادریری اور کاجر کریک سے تعلق رکھتے ہیں جہاں شکار کم ہے۔ اور وہ شکار کی تلاش میں پاکستان کی سترہ کریکس کو چھانتے ہوئے پاکستان اور ہندوستان کے درمیان متنازعہ کریک سِیر پہنچ جاتے ہیں جہاں ہندوستانی بحریہ اُنہیں پکڑ لیتی ہے۔

 بھارتی ہائی کمیشن خطوط کے جواب دینے میں تو بہت مستعد ہے مگر عملاً کچھ نہیں کرتی۔ پچھتر سالہ ایک شخص کی رہائی کے لیے ہم تین برسوں سے کوششیں کررہے ہیں مگر تاحال کچھ نہیں ہوا۔
صارم برنی

حُسین کی ضعیف ماں کہتی ہیں کہ وہ شاہ بندر میں رہتے تھے مگر کوئی ذریعہ معاش نہیں تھا اور اسی وجہ سے کراچی آگئے۔ ’فشر فوک فورم‘ کے اعداد و شمار کے مطابق لگ بھگ پچاس پاکستانی ماہی گیر اس وقت بھی ہندوستان کی جیلوں میں موجود ہیں۔ لیکن سرکاری طور پر یہ تعداد صرف انیس بتائی جاتی ہے۔

انسانی حقوق کے حوالے سے قائم غیر سرکاری تنظیم انصار برنی ویلفئر ٹرسٹ کے وائس چیئرمین صارم برنی کہتے ہیں ’بھارتی ہائی کمیشن خطوط کے جواب دینے میں تو بہت مستعد ہے مگر عملاً کچھ نہیں کرتی۔ پچھتر سالہ ایک شخص کی رہائی کے لئے ہم تین برسوں سے کوششیں کر رہے ہیں مگر تاحال کچھ نہیں ہوا۔‘

واضح رہے کہ روان ماہ حکومتِ پاکستان نے کشمیر سنگھ نامی ایک قیدی کو انسانی بنیادوں پر پینتیس سال بعد رہا کیا ہے جس پر عدالت سے جاسوسی کرنے کا الزام بھی ثابت ہوا تھا اور اُسے سزائے موت سنائی گئی تھی۔

کشمیر سنگھ کی رہائی کے چند ہی دنوں بعد ہندوستان سے خالد محمود کی لاش پاکستان لائی گئی جو تین برس قبل مبینہ طور پر کرکٹ میچ دیکھنے گیا تھا جہاں اُس کے سفری دستاویزات گم ہوگئے اور اُسے گرفتار کر لیا گیا تھا۔

کشمیر سنگھ کشمیر سنگھ کی رہائی
بھارتی قیدی پینتیس سال بعدگھر واپس جائے گا
ماہیگیروں کا دن
حکومتوں کی ناراضگی کا شکار مجبور ماہیگیر
ماہیگیر بچے’نیا دبئی‘ منصوبہ
لیکن یہاں کے ماہیگیر کہاں جائیں گے؟
اسی بارے میں
سولہ بھارتی ماہی گیرگرفتار
05 October, 2007 | پاکستان
کراچی: 115 انڈین ماہی گیر رہا
09 January, 2007 | پاکستان
مزید قیدیوں کا تبادلہ
23 December, 2006 | پاکستان
بنڈال سے مچھیروں کی بے دخلی
10 December, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد