بنڈال سے مچھیروں کی بے دخلی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی کے ساحل کے قریب جزیرے بنڈال سے سرکاری اہلکاروں نے ماہی گیروں کو بےدخل کردیا ہے، جبکہ بزرگ خاتون مائی رحمت کی سخت مزاحمت پر ایک دن کی مہلت دے دی گئی ہے۔ بے دخل کیئے گئے ان بیس سے زائد ماہی گیروں کو ان کے سامان سمیت کشتیوں کی مدد سے کراچی کی ماہی گیر بستی ابراہیم حیدری پہنچایا دیا گیا ہے۔ محمد علی شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ جیسے ہی بنڈال جزیرے پر پہنچے تو اہلکاروں نے انہیں گھیرے میں لے لیا اور کہا کہ اس منصوبے کے خلاف احتجاج بند کیا جائے کیونکہ صدر پرویز مشرف جلد اس کا افتتاح کرنے والے ہیں۔
محمد علی شاہ نے کہا کہ جس دن صدر مشرف اس منصوبے کا افتتاح کرنے پہنچے گے اس دن ماہی گیر احتجاجی ریلی نکالیں گے جبکہ پیر کے روز یوم سیاہ منایا جائیگا۔ بنڈال جزیرے پر رہنے والی بزرگ خاتون اور ان کے شوہر آدم کو بھی اہلکاروں نے اتوار تک جزیرے سے چلے جانے کی ہدایت کی ہے۔ جب محکمہ شپنگ کے وفاقی وزیر بابر غوری سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے انتہائی مختصر جواب دیتے ہوئے کہا کہ جب اس منصوبے کا افتتاح ہوگا تبھی تفصیل بتائی جائیں گی۔ واضح رہے کہ بحیرہ عرب میں واقع جزیروں بنڈال اور ڈنگی کو متحدہ عرب امارات کی ایک نجی کمپنی کےحوالے کرنے اور اس پر رہائشی منصوبے کے خلاف ماہی گیر اور سندھ کی قوم پرست جماعتیں احتجاج کرتی رہی ہیں۔
اس منصوبے پر جمعہ سے عملدر آمد شروع ہوگیا ہے۔ ڈنگی جزیرے پر زمین کی سطح ہموار کرنے کے لیے چھ ٹریکٹر پہنچائے گئے ہیں جبکہ مزدور زمین سے چھوٹے درخت کاٹ رہے ہیں۔ اہم شخصیات کی متوقع آمد کے لیے دو ہیلی پیڈ بھی بنائے گئے ہیں۔ ان منصوبوں کے خلاف سرگرم ماہی گیروں کی تنظیم پاکستان فشر فوک کے رہنما محمد علی شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ جمعہ کی دوپہر بارہ بجے کے قریب فوجی اہلکاروں نے جھگیوں پر دہاوا بول دیا اور ماہی گیروں کو تشدد کا نشانہ بنایا۔
محمد علی شاہ کے مطابق بنڈال پر ماہی گیروں کی بنائی ہوئی عارضی رہائش گاہوں کو مسمار کرکے انہیں سردی میں بے گھر کیا گیا ہے۔ اہلکاروں نے انہیں دھمکا کر کہا کہ وہ فوری طور جزیرے سے نقل مکانی کر جائیں۔ ماہی گیروں کا کہنا ہے کہ ان جزائر کے اطراف میں مینگروو کے درخت ہیں جن میں مچھلی کی افزائش ہوتی ہے۔ ماہی گیروں کی بستی ابراہیم حیدری سے کھلے سمندر میں جانے اور پورٹ قاسم بندرگاہ کا گزر بھی ان جزیروں کے سامنے سے ہے اور اس منصوبے کی تعمیر سے دونوں راستے متاثر ہوں گے۔ بنڈال جزیرہ ماہی گیروں کے عارضی قیام اور مچھلی سُکھانے کے کام آتا ہے۔ کھلے سمندر میں جانے والے ماہی گیر واپسی پر چھوٹی چھوٹی جھگیوں میں اسی جزیرے پر رہتے ہیں جبکہ جزیرے کے کھلے میدان میں مچھلی اور جھینگے دھوپ میں سکھائے جاتے ہیں۔ وفاق اور صوبہ سندھ کے درمیان بھی ان جزائر کی حق ملکیت پر تنازع کھڑا ہوا تھا۔ صوبائی حکومت کا مؤقف اختیار کیا تھا کہ یہ جزائر صوبے کی ملکیت ہیں اور اس کی رقم اسے ملنی چاہیئے۔ ان کا مؤقف تھا کے صوبے کی منظوری کے بغیر کوئی تعمیر شروع نہیں ہوگی۔ جس کا ابھی تک تعین نہیں ہوسکا ہے۔ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||