BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 09 January, 2007, 14:41 GMT 19:41 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کراچی: 115 انڈین ماہی گیر رہا

ہندوستانی ماہی گیر (فائل فوٹو)
گزشتہ ماہ پاکستان نے ستر اور ہندوستان نے چون ماہی گیر رہا کیے تھے (فائل فوٹو)
پاکستان نے ایک سو پندرہ بھارتی ماہی گیروں کو کراچی کی لانڈھی جیل سے رہا کردیا ہے۔ امکان ہے کہ ایک دو روز میں انہیں ہندوستان کے حکام کے حوالے کر دیا جائےگا۔

ان ماہی گیروں کی رہائی ایسے موقع پر عمل میں آئی ہے جب چار روز بعد ہندوستان کے وزیر ِخارجہ پرنب مکھرجی پاکستان کا دورہ کرنے والے ہیں۔

ان مچھیروں کو پاکستانی کی سمندری حدود کی مبینہ خلاف روزی کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ رہا ہونے والے اِن ایک سو پندرہ ہندوستانی ماہی گیروں کو اب بذریعہ بس لاہور منتقل کیا جا رہا ہے۔ ان کے لیے ٹرانسپورٹ کا بندوبست انصار برنی ویلفیئر ٹرسٹ نے کیا ہے۔

کراچی کی لانڈھی جیل میں رہائی کے موقع پرسندھ کے مشیر داخلہ وسیم اختر نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ یہ رہائی پڑوسی ملک کے لیے نئے سال کا تحفہ ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ جواب میں بھارت بھی ایسی ہی خیر سگالی کا مظاہرہ کرے گا۔ دونوں ملک اکثر ایسی خیر سگالی کا مظاہرہ کرتے رہتے ہیں۔

گزشتہ ماہ پاکستان نے ستر اور ہندوستان نے چون مچھیرے رہا کیے تھے۔ تاہم ماہی گیروں کی ایک تنظیم فشر فورک فورم کے سیکرٹری جنرل سعید بلوچ اسے خیر سگالی نہیں مانتے بلکہ ان کا کہنا ہے کہ یہ سمندری مچھیرے دراصل دونوں ملکوں کی دشمنی کاشکار ہوتے ہیں۔

بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک اپنی دشمنی کہیں اور تو نکال نہیں پاتے، لے دے کر غریب مچھیروں کو گرفتار کرلیتے ہیں۔

 ان مچھیروں کو پاسپورٹ ایکٹ کے تحت سمندری حدود کی خلاف ورزی کے الزام میں گرفتار کیا جاتا ہے تاہم اگر پاسپورٹ ایکٹ بھی لگایا جائے تو زیادہ سے زیادہ تین ماہ کے بعد ان کی رہائی عمل میں آجانی چاہیے
سعید بلوچ

انہوں نے کہا کہ ان مچھیروں کو پاسپورٹ ایکٹ کے تحت سمندری حدود کی خلاف ورزی کے الزام میں گرفتار کیا جاتا ہے تاہم ان کے بقول اگر پاسپورٹ ایکٹ بھی لگایا جائے تو زیادہ سے زیادہ تین ماہ کے بعد ان کی رہائی عمل میں آجانی چاہیے۔

سعید بلوچ نےکہا کہ دونوں ممالک ماہی گیروں کے تبادلے کے اتنظار میں انہیں طویل عرصے تک رہا نہیں کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کی تنظیم نے دونوں ملکوں کو تجویز دی ہے کہ پچاس ناٹ میل دونوں ملکوں کے مچھیروں کے لیے چھوڑ دیا جائے اور اگر یہ بھی نہیں ہوسکتا تو غلطی سے خلاف روزی کرنے والے مچھیروں کو تنبیہ کر کے واپس
چھوڑ دیا جائے۔ سعید بلوچ نے کہا کہ جب سے پاکستان بنا ہے ایک بھی ماہی گیر ایسا نہیں پکڑا گیا جس کے خلاف جاسوسی یا دہشت گردی کا کوئی
الزام ثابت ہوسکے۔

لانڈھی جیل کے سپرنٹڈنٹ شاکر شاہ کے مطابق پاکستانی جیل میں اب بھی ساڑھے تین سو ہندوستانی ماہی گیر قید ہیں۔

اسی بارے میں
265 بھارتی ماہی گیر رہا
06 January, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد