سربجیت سنگھ: پھانسی کا فیصلہ ہوگیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حکومت پاکستان نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ یکم اپریل کو جاسوسی اور دہشت گردی کے الزام میں بھارتی شہری سربجیت سنگھ کو پھانسی دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ ادھر اسلام آباد میں بھارتی ہائی کمیشن نے حکومت پاکستان سے سربجیت سنگھ سے ملاقات کی درخواست کی ہے۔ وزارت داخلہ کے ترجمان برگیڈیئر (ر) جاوید اقبال چیمہ نے اسلام آباد میں ہفتہ وار بریفنگ میں بتایا کہ منجیت سنگھ کو جو خود کو سربجیت سنگھ بتاتا ہے، اگلے ماہ کی پہلی تاریخ کو پھانسی دے دی جائے گی۔ تاہم اس بارے میں ان کے پاس مزید معلومات نہیں تھیں۔ سربجیت سنگھ کو سنہ انیس سو اکانوے میں پاکستان میں جاسوسی اور مختلف بم دھماکوں کے جرم میں موت کی سزا سنائی گئی تھی۔ ان بم دھماکوں میں تقریباً چودہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ تاہم سربجیت کا کہنا ہے کہ وہ غلط شناخت کی سزا بھگت رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ انیس سو نوے میں نشے کی حالت میں غلطی سے سرحد پار کر کے پاکستان میں داخل ہو گئے تھے اور پاکستانی انہیں منجیت سنگھ سمجھ رہے ہیں جن پر بم دھماکوں کا شبہ تھا۔ پاکستانی اہلکاروں کا مؤقف ہے کہ انہیں اس وقت پکڑا گیا جب وہ بم دھماکوں کے بعد سرحد پار کر کے بھارت جانے کی کوشش کر رہے تھے۔ اسلام آباد میں بھارتی ہائی کمیشن کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ بھارتی حکومت نے سربجیت کی سزا پر نظرثانی کی درخواست کے علاوہ اس سے ملاقات کی درخواست گزشتہ ہفتے دی تھی۔ تاہم وہ اب بھی جواب کے منتظر ہیں۔ بھارتی اہلکار نے بتایا کہ سال دو ہزار پانچ میں ہائی کمیشن کے اہلکاروں نے سربجیت سے ملاقات کی تھی۔ جاوید اقبال چیمہ کا کہنا تھا کہ بھارت کے ساتھ قیدیوں کی رہائی کے موضوع پر وزارت خارجہ کی سطح پر بات ہو رہی ہے۔ اس ماہ کے آغاز میں صدر مشرف نے کشمیر سنگھ کی سزا معاف کر کے انہیں رہا کر دیا تھا۔ کشمیر سنگھ جاسوسی کے الزام میں پینتیس سال پاکستان کی مختلف جیلوں میں قید رہے۔ تاہم ان کی واپسی پر بھارت میں متنازعہ بیان اور ایک پاکستانی قیدی کی لاش کی واپسی نے بظاہر سربجیت کا کیس مشکل بنا دیا ہے۔ اسلام آباد میں بھارتی ہائی کمیشن کی جانب سے جاری ایک بیان کے مطابق شربجیت سنگھ کی بہن دلبر کور نے ایک تحریری معافی کی اپیل صدر پرویز مشرف کو ارسال کی ہے۔ درخواست میں انہوں نے سربجیت سے جیل میں ملاقات کی اجازت بھی مانگی ہے۔ بھارتی ہائی کمیشن نے امید کا اظہار کیا ہے کہ سربجیت کے خاندان اور دوسروں کی جانب سے اپیل پر ہر طریقے سے اور نئی حکومت کی جانب سے غور کیا جائے گا۔ وزارت داخلہ کے ترجمان نے پاکستان میں کسی امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی کے اہلکاروں کی موجودگی سے انکار کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد کے ایک ریستوراں میں ایک بم حملے میں زخمی ہونے والے چار امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی کے نہیں بلکہ سفارتی اہلکار تھے۔ جاوید اقبال چیمہ کا کہنا تھا کہ ان میں سے ایک قانونی اتاشی اور ان کے نائب اور دیگر اہلکار تھے۔ انہوں نے کہا کہ تحقیقات کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ حملہ غالباً بم پھیکنے کی وجہ سے ہوا۔ انہوں نہ کہا کہ اس حملے سے غیرملکیوں کو اس واقع سے غیرضروری تشویش لاحق نہیں ہونی چاہیے کیونکہ حکومت ان کی حفاظت کے لیئے اقدامات اٹھا رہی ہے۔ انہوں نے اس تاثر کو بھی غلط قرار دیا کہ اس واقع کی تحقیقات امریکی اہلکار کر رہے ہیں۔ | اسی بارے میں سربجیت سنگھ کا بلیک وارنٹ17 March, 2008 | پاکستان پندرہ سال سے قید ماہی گیر14 March, 2008 | پاکستان انڈیا سے پاکستانی کی لاش واپس10 March, 2008 | پاکستان پینتیس برس بعد کشمیر آزاد03 March, 2008 | پاکستان باقی باسٹھ قیدی بھی رہا کریں: پاکستان 15 August, 2007 | پاکستان پاکستان: بھارتی قیدیوں کی رہائی12 August, 2007 | پاکستان سابق فوجیوں سے ملنے کی درخواست12 June, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||