BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 24 January, 2009, 09:46 GMT 14:46 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’امن مذاکرات جلد از جلد بحال ہوں‘

آئی اے رحمان
آئی اے رحمان کا کہنا ہے کہ اس ہیجانی کیفیت پر قابو پالیا جائےگا
پاکستان سے بھارت پہنچنے والے کارواں امن کے نمائندوں نے دونوں ملکوں کے درمیان امن مذاکرات جلد از جلد بحال کرنے کی اپیل کی ہے اور کہا ہے کہ کشیدیگی سے خطے کی عوام کو زبردست نقصان ہوگا۔

ممبئی حملوں کے سبب دونوں ملکوں کے درمیان پیدا ہوئی کشیدگی کے بعد پاکستان کی جانب سے یہ پہلا باضابطہ امن وفد تھا جو بھارت میں تین روز گزارنے کے بعد سنیچر کو پاکستان واپس گيا۔

پاکستان سے امن پیغام کے ساتھ بھارت آنے والے افراد نے دلی میں سیاسی اور سماجی شخصیات کے ساتھ دونوں ملکوں کے درمیان رشتے بہتر کرنے پر تبادلہ خیال کیا۔ سول سوسائٹی پر مشتل اس امن وفد میں دو درجن افراد شامل تھے اور سبھی ارکین کا کہنا تھا کہ شدت پسندوں کا مقصد دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ کرنا ہے اور اگر تناؤ میں کمی کے بجائے اضافہ ہوا تو یہ دہشتگردوں کی جیت ہوگی۔

 ہندوستانی عوام کے دل پرگہری چوٹ لگی ہے انہیں رنج اور غصہ بھی ہے لیکن ہم نے اس سے زیادہ کشیدہ حالات دیکھے ہیں اور اگر ہم مل کر کام کریں تو اس پر قابو پالیں گے۔
آئی اے رحمان

پاکستان میں انسانی حقوق کے کمیشن کے سکریٹری جنرل آئی اے رحمن کا کہنا تھا کہ اس ہیجانی کیفیت میں قیام امن کے لیے دونوں ملکوں کے سول سوسائٹیز کو مشترکہ کوششیں کرنی چاہیں۔’ ہندوستانی عوام کے دل پرگہری چوٹ لگی ہے انہیں رنج اور غصہ بھی ہے لیکن ہم نے اس سے زیادہ کشیدہ حالات دیکھے ہیں اور اگر ہم مل کر کام کریں تو اس پر قابو پالیں گے۔‘

پاکستان کی معروف سماجی کارکن عاصمہ جہانگیر کا کہنا تھا کہ ممبئی حملوں سے پاکستانی شہریوں کو ویسی ہی تکلیف پہنچی ہے جیسے وہ خود شدت پسندوں کا نشانہ بنے ہوں۔

نندتا داس بھارت پاک کے رشتوں پر میڈیا کے کردار سے ناخوش ہیں

انہوں نے کہا کہ’دہشتگردی سے نمٹنا دونوں ملکوں کے لیے ایک چیلنج ہے اس لیے اس سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششیں ہونی چاہیں۔ ہم امن کے پیغام کے ساتھ آئے ہیں اور ہمای کوشش یہ ہوگی ہم کچھ سوالات کے جواب تلاش کریں۔‘

بالی ووڈ کی ادا کارہ نندتا داس اس کارواں امن کے ایک پروگرام میں حصہ لینے آئی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ جنگ کا ماحول ذرائع بلاغ نے پیدا کیا لیکن جو باتیں ہورہی ہیں وہ مسئلہ کا حل نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا ’ان کشیدہ حالات میں تو سبھی کی ذمہ داری ہے کہ وہ امن کے لیے زیادہ سرگرم ہوں۔ ابھی جو میڈیا میں چل رہا ہے اس سے مسائل حل نہیں ہوں گے، کوئی کہتا ہے کہ فنکاروں کو ویزا نہ دو کوئی کہتا ہے پابندیاں لگا دو یہ سب کیا ہے اس سے حالات مزید خراب ہوں گے۔‘

کاررواں امن کے لیے پروگرام کا اہتمام انہد نامی غیر سرکاری تنظیم نے کیا تھا جس کی رکن شبنم ہاشمی کا کہناہے کہ اس طرح کے مشن سے کشیدگی کو کم کرنے میں مدد ملےگي۔’ ممبئی حملوں کے بعد ہم یہ بھول گئے کہ ہماری تہذیب مشترکہ ہے، عوام دہشتگردی کے خلاف میں لیکن وہ جنگ نہیں چاہتے آخر ان کا کیا قصور ہے۔‘

دلی میں پاکستانی کارواں کے پروگرام میں شرکت کرنے والے بیشتر افراد سماجی کار کن اور فن کار تھے جن میں سے کئی نے موجودہ کشیدگی کو دور کرنے کی تجاویز پیش کیں اور کئی نے امن و محبت کے گیت گائے۔

 ممبئی حملوں کے بعد ہم یہ بھول گئے کہ ہماری تہذیب مشترکہ ہے، عوام دہشتگردی کے خلاف میں لیکن وہ جنگ نہیں چاہتے آخر ان کا کیا قصور ہے۔
شبنم ہاشمی

بھارت آنے والے وفد میں پاکستان میں انسانی حقوق کی علمبردار عاصمہ جہانگیر، ساؤتھ ایشئن فری میڈیا ایسوسی ایشن یعنی سیفما کے سربراہ امتیاز عالم، معروف صحافی اور انسانی حقوق کے علمبردار آئی اے رحمان، عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنماسنیٹر حاجی عدیل اور پیپلز پارٹی کے چودھری منظور سمیت کئی جانی مانی شخصیات شامل تھیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد